.

جمشید دستی کی باتیں

نصرت جاوید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمشید دستی خود کو اس ملک کا ایک یک وتنہا بہادر اور سچا انسان ثابت کرنے کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔ اب ذرا ہمت کریں اور کم از کم اسی رپورٹر کو خود فون کریں جس کے ہمراہ پارلیمنٹری لاجز کی راہداریوں میں کیمرے کے سامنے چلتے ہوئے انھوں نے خالی بوتلیں اکٹھی کیں اور ایک ’’خالی بوتلیں، خالی ڈبے‘‘ والی ویڈیو بنوا کر قومی اسمبلی کی اس سات رکنی کمیٹی کو ’’شہادت‘‘ کے طور پر پیش کردی جو قومی اسمبلی کے اسپیکر نے ان ہی کے مطالبے پر بنائی تھی۔ اپنے ’’معاون‘‘ بنائے اس رپورٹر کو انھوں نے کیمرے پر صرف یہ بتانا ہے کہ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے اختتام سے دو دن پہلے وہ سردار ایاز صادق کے کمرے میں کیوں گئے۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے کیا فریاد کی اور پھر دو دن کی رخصت لے کر اسلام آباد کیوں چھوڑ دیا۔

قومی اسمبلی کے 342 اراکین ہیں۔ جمشید دستی ان میں سے محض ایک انفرادی رکن ہیں۔ ان کی کسی جماعت سے باقاعدہ وابستگی بھی نہیں۔ پاکستانی سیاست کا ایک پرانا مگر ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے مجھے پورا یقین ہے کہ مظفر گڑھ سے آئے اس سلطان راہی نما ’’رابن ہڈ‘‘ کا قومی سیاست میں کوئی مستقبل نہیں۔ میں لیکن ان کی ذات پر توجہ دینے پر مجبور ہوا۔ 2010ء کے سیلاب کے دوران دستی صاحب کے مظفر گڑھ میں ’’جلوے‘‘ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ مجھے ذاتی طور پر پورا علم ہے کہ کس طرح دستی صاحب کی اپنے حلقے پر دھاک کو مستحکم کرنے اس وقت کے صدر پورے پروٹوکول کے ساتھ مظفر گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں سرکاری طیارے سے اُترے تھے۔

مظفر گڑھ ہی کے ایک اور حلقے سے براہِ راست منتخب ہونے والی حنا ربانی کھر جو ان دنوں پاکستان کی وزیر خارجہ بھی ہوا کرتی تھیں ’’اپنے صدر‘‘ کے ہمراہ جہاز میں نہ بٹھائی گئیں۔ حنا بی بی کو ایک اضافی طیارے میں فرحت اللہ بابر کے ساتھ بٹھایا گیا جو ہنگامی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے صدارتی طیارے کے ہمراہ اُڑایا جاتا ہے۔ انتخابی سیاست سے پوری طرح واقف لوگ فوراً سمجھ سکتے ہیں کہ حنا ربانی کھر کو ایک حوالے سے نظرانداز کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے ’’دستی کی خاطر‘‘ سیلاب کے دنوں میں مظفر گڑھ اس انداز سے اُترکرکیا پیغام دیا تھا۔ یہ پیغام میرے اور آپ تک تو خیر کیا پہنچتا ان دنوں کی حکومت کے تمام وزیروں تک فوراً پہنچ گیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اس واقعہ کے بعد جمشید دستی صاحب کو ماضی کے تین ایسے وزراء پر رُعب جماتے اور حکم چلاتے دیکھا ہے جو گیلانی اور پرویز اشرف کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، صرف اس وجہ سے کہ یہ وزیر آصف علی زرداری کے چہیتے مانے جاتے تھے۔

ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ میرے اندر کا ’’مڈل کلاسیا‘‘ دستی صاحب کی اس شان سے بڑا متاثر بھی ہوا۔ بڑے خلوص سے یہ سوچتا رہا کہ اپنی محنت سے کسی نامور خاندان یا مالی وسائل کے بغیر دستی جیسے لوگوں کا اس مقام پر پہنچنا ایک گراں قدر بات ہے۔ یہ جمہوریت کا حسن وغیرہ ہے اور اس امر کی نوید کہ پاکستان میں ’’موروثی سیاست‘‘ کے دن گنے جاچکے ہیں۔ مئی 2013ء کے انتخابات آئے تو یہی دستی مگر ’’آزاد‘‘ ہوگئے۔ قومی اسمبلی کے ایک کے بجائے دونوں حلقوں سے کھڑے ہوگئے۔ مظفر گڑھ کے رائے دہندگان نے موصوف کو دونوں نشستوں سے متاثر کن اکثریت کے ساتھ جتوا دیا۔ ایسی شاندار ’’فتح‘‘ حاصل کرنے کے بعد اپنے تئیں ’’سرائیکی وسیب‘‘ کی بنیاد پر ’’تخت لہور‘‘ کے خلاف قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقاریر کرنے والے دستی صاحب مگر بن بلائے بالآخر رائے ونڈ جا پہنچے، نواز شریف اور شہباز شریف کو اپنی حمایت کا یقین دلانے۔

شاید ان کا وہاں چلے جانا مجھے اتنا حیران نہ کرتا کہ تھانے کچہری کی مجبوریاں اپنے اپنے حلقوں میں ’’سورما‘‘بنے بہت سے سیاسی لوگوں کو ممکنہ وزیر اعلیٰ کے آگے سرنگوں کرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب اپنی خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست پر ’’موروثی سیاست‘‘ کے خلاف مجاہد بنے دستی صاحب نے اپنے ہی سگے چھوٹے بھائی کو کھڑا کردیا۔ کوٹ ادوّ کے ووٹر ان کے ارادوں کو فوراً بھانپ گئے اور حناربانی کھر کے والد کو منتخب کردیا۔ سچی بات ہے اس دن کے بعد سے جمشید دستی صاحب جب بھی قومی اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہوتے، میں پریس گیلری سے باہر نکل آتا۔

قومی اسمبلی کے اس اجلاس میں لیکن میں اپنی نشست پر براجمان رہا جب دستی صاحب اُٹھے اور یہ دعوے کرتے پائے گئے کہ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اراکین کے لیے بنائے رہائشی فلیٹوں میں شرم وحیاکی ساری حدود و قیود پامال ہو رہی ہیں۔ 1985ء سے مسلسل پارلیمان اور اس کے اراکین کے بارے میں رپورٹنگ کررہا ہوں۔ مجھے پورا علم ہے کہ پارلیمان میں آنے والے تمام افراد ’’حاجی نمازی‘‘ نہیں ہوتے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اخلاقی قدروں کے حوالے سے ’’اچھوں‘‘ اور ’’بُروں‘‘ میں جو تناسب ہے وہ پارلیمان میں بھی نظر آتا ہے۔ اسلام آباد آج سے دو تین سال قبل تک ایک پرامن اور صاف ستھرا شہر بھی سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے 1990ء کی دہائی سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کی اکثریت پارلیمنٹری لاجز میں اپنے بچوں سمیت رہنا شروع ہوچکی ہے۔ پارلیمنٹری لاجز نے اب ایک خوش حال محلے کی شکل اختیار کرلی ہے اور ’’محلوں‘‘ میں اپنے خاندان سمیت رہنے والے بُرے سے بُرے لوگ بھی ’’احتیاط‘‘ برتا کرتے ہیں۔

دستی صاحب نے جب ’’ثنا خوانِ تقدیس ِمشرق کہاں ہیں‘‘ والی داستان چلائی تو ہمارے میڈیا کے اکثر لوگ ایسے بنیادی معاشرتی حقائق کو یاد نہ رکھ پائے۔ سیاستدان ہمارے لیے ویسے بھی ’’چور، لٹیرے اور جعلی ڈگریوں والے‘‘ ہوا کرتے ہیں۔ ان کے خلاف کوئی ’’گھر کا بھیدی‘‘ علم پارسائی بلند کردے تو Ratingبھی ملتی ہیں۔ دستی صاحب کباڑیوں والی بوری سمیت اینکر حضرات کو ہمہ وقت میسر تھے۔ ’’خالی بوتلیں، خالی ڈبے‘‘ نے تین چار دن کھڑکی توڑ رش لیا اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کو حقائق جاننے کے لیے ایک سات رکنی کمیٹی بنانا پڑی۔ چونکہ اس کمیٹی کے اجلاس Live نہیں دکھائے جاسکتے تھے اس لیے دستی صاحب وہاں اپنے ’’ثبوتوں‘‘ کی نمائش سے کنی کتراتے ہوئے دو دن کی چٹھی لے کر مظفر گڑھ لوٹ گئے۔ جمشید دستی نے اپنا اصل ’’مقصد‘‘ مگر حاصل کرلیا تھا۔

اپنے اجلاس کے آخری ہفتے میں قومی اسمبلی کو چوہدری نثار علی خان کی دی ہوئی قومی سلامتی پالیسی کو زیر بحث لانا تھا۔ جمشید دستی صاحب نے ’’خالی بوتلیں، خالی ڈبے‘‘ دکھاکر مگر پاکستانیوں کو پوری طرح سمجھا دیا کہ ’’پارلیمنٹری لاجز‘‘ میں شرم وحیا کی حدودوقیود سے ’’آزاد‘‘ ہوئے میرے اورآپ کے ’’نمایندہ‘‘ بنے لوگ اس قابل ہی نہیں کہ قومی سلامتی کو درپیش خطرات کو پوری طرح سمجھ سکیں۔ ان کے بارے میں فیصلے کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ یہ کام ان ہی اداروں کو زیب دیتا ہے جو 1958ء سے ہمارے ملک کو ’’سیدھے راستے‘‘ پر رکھے ہوئے ہیں۔ مختصراً جس کا کام اسی کو ساجھے۔ دستی صاحب نے اپنی بات سمجھاتے ہوئے خوب رش لیا اور ’’جو میرا فرض تھا میں نے پورا کیا‘‘۔ اسلام آباد چھوڑتے ہوئے مگر انھوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو کیا کہا خدارا ہمیں یہ تو بتا دیں۔

بشکریہ روزنامہ ' ایکسپریس '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.