.

صد حیف ۔۔۔۔

طارق محمود چوہدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بائیس ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے لق و دق صحرائے تھر میں موت قحط، خشک سالی، بھوک، افلاس اور بیماری کا روپ دھارے قدم بہ قدم آگے بڑھتی رہی اور وادئ سندھ کے حکمران، نوٹوں کو آگ لگا کر موہنجو داڑو کی صدیوں پرانی قبروں کی بحالی کا جشن مناتے رہے۔ آفت، کچھوے کی رفتار سے چلتی، انسانی آبادیوں تک پہنچی۔ اس دوران سندھ کا عمر رسیدہ حکمران اپنی کابینہ کے ہمراہ مشروب غفلت پی کر خواب خرگوش کے مزے لیتا رہا۔ سپریم کورٹ سندھ کے حکمرانوں کو ضلع تھر میں قحط اور اموات کا ذمہ دار قرار دے چکی۔ لیکن حیف ہے ان حکمرانوں پر کہ میڈیا کو مجرم ٹھہراتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیکر بری الذمہ ہو چکے۔ صد حیف ایسے حکمرانوں پر!

صحرا دنیا میں جہاں بھی ہوں، وسنیکوں کی زندگی آسان نہیں ہوتی۔ پیاس، بھوک، رتیلے طوفان، زہریلے ناگ، خون خوار جانور ان صحراؤں میں بسنے والوں کی جہد بقا کا امتحان لینے کے لئے گھات لگائے منتظر رہتے ہیں۔ دن کو بدن جھلساتا، حشرناک سورج نیزے کی انی بن کر جسم میں زخم کرتا ہے تو رات کو سرد ہو جانے والی ریت کو چھو کر آنے والی ٹھنڈی ہوائیں برمے کی طرح چھید کرتی انسانی جسم کے آرپار گزرتی جاتی ہیں۔ خانہ بدوشی، نقل مکانی، قلت آب صحرائی باشندوں کی روزمرہ زندگی کا معمول ہوا کرتی ہے۔ لیکن یہ زمانہ قدیم کی بات ہے، آج کے دور جدید میں جہاں انسان نے علم اور تحقیق کی بنیاد پر وقت سے پہلے موسموں کے تیور جان لینے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔

اس علم کی بدولت خشک سالی، بارش، صحرائی طوفان، صحرائی بگولوں کی آمد اور اس سے بچاؤ کے اسباب کئے جا سکتے ہیں۔ آنے والے طوفانوں اور خشک سالی کا قبل از وقت پتہ لگ جائے تو مخلوق خدا اور اس کی معیشت کے دارومدار، مویشوں کو بچانے کے لئے انتظامات کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کیلئے بیدار مغز اور ہمہ وقت چوکس حکمران، اہل، فعال اور اعلیٰ استعداد کی سرکاری مشینری درکار ہوا کرتی ہے، جو ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو شہید کی جنم بھومی میں ’’کستوری‘‘ کی طرح نایاب ہے۔

زمانہ جدید میں ذرائع مواصلات لامحدود، موبائل فون، انٹرنیٹ سے رابطے، پیغام رسانی آسان ترین ہو چکی۔ انسانی ہاتھ کی لکیروں کی طرح سڑکوں کے پھیلے جال اور ہنگامی صورت حال میں ہیلی کاپٹر اور سست رفتار نیچی پرواز کرنے والے سی ون تھرٹی طیاروں کے ذریعے امدادی سازوسامان متاثرہ علاقوں میں ترسیل کرنا کوئی کار دارد نہیں۔ بس اس کیلئے مثبت نیت اور حسن عمل درکار ہوتا ہے۔

قحط اور خشک سالی نے سندھ کے صحراؤں پر کئی ماہ پہلے ہی پیشگی دستک دے ڈالی تھی۔ لیکن اس وقت سندھ کے حکمران انتخابات، جیت جانے کا جشن منانے میں مصروف تھے۔ جشن کے ڈھول کی تھاپ ذرا مدہم ہوئی تو وزارت، عہدوں کا جوڑ توڑ شروع ہو گیا۔ ضلع تھر کے متعلق سرکاری کاغذوں میں سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر درج ہے کہ اگست کے آغاز تک بارشیں نہ ہوں تو ستمبر کے پہلے ہفتہ میں اس علاقہ کو آفت زدہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن عین ان دنوں میں دنیا کے معمر ترین حکمران قائم علی شاہ، اپنی وزارت اعلیٰ کو اویس مظفر پٹی کی نظر حریصانہ سے محفوظ کرنے کے لئے اپنے اردگرد حفاظتی خندقیں کھود رہے تھے۔ قحط کے آثار سب سے پہلے پرندوں اور جانوروں پر نمودار ہوئے۔

سب سے پہلے خوش رنگ، چہچہاتے پرندے، ہجرت پر مجبور ہوئے، پھر تھر کے صحرا کو گلزار بنا دینے والے ہفت رنگ مور پراسرار موت کا شکار ہوئے، اس کے بعد نایاب ہرنوں کو ناگہانی اجل نے آ لیا۔ پھر چرواہوں کے گرد ناچتی، کودتی، دوڑتی معصوم بھیڑیں موت کی گھاٹ اتریں۔ چند ماہ میں سترہ ہزار سے زائد بھیڑیں قحط اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہلاک ہوئیں۔ صحرائی جہاز، اونٹ، جس کے بغیر صحرائی باسیوں کی زندگی نامکمل ہی رہتی ہے، اس کی باری بھیڑوں کے بعد آئی۔ اس دوران ضلع تھر کو آفت زدہ قرار نہ دیا جا سکا، کیونکہ سندھ کے حکمرانوں کو سیاسی ولی عہد کو سیاست میں متعارف کرانے کا اہم ترین فریضہ سر انجام دینا تھا۔ قومی خزانے کے منہ کھول دیئے گئے۔ 45 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے موہنجو داڑو کے آثار اور مکلی کے قدیمی قبرستان پر جشن برما شروع ہوا۔ کراچی میں مشاعرے کرائے گئے۔

خوش بدن رقاصائیں تھرکتی رہیں، مغنیائیں فضاؤں میں نغمے بکھیرتی رہیں، رنگ برنگی پتنگیں ہواؤں کے دوش پر اٹھلاتی، لہراتی رہیں۔ ایسے میں صحرائے تھر کے بچوں کی زندگی کی ڈور کب کٹ گئی۔ کب انسانی جان موت کے اندھیروں میں ڈوب گئی، کسی کو خبر ہی نہ ہو سکی۔ تھر کے بے کس، بے بس بندے شکایت کرتے بھی تو کس سے؟ تھر کے لئے 60 ہزار سے زائد گندم کی بوریاں خوراک کیلئے مختص تھیں۔ لیکن بروقت ٹینڈر جاری نہ ہو سکا۔ ٹینڈر جاری ہوا تو تقسیم و ترسیل کیلئے مطلوبہ رقم جو تقریباً 30 لاکھ روپے بنتی وہ بروقت جاری نہ ہوتی۔ صرف گندم کی 960 بوریاں تقسیم ہو سکیں۔ باقی ماندہ گندم سرکاری گوداموں میں سڑتی رہی۔ لیکن انسانی دہن تک نہ پہنچ سکی۔

آخرکار سندھی اور قومی میڈیا ایک مرتبہ پھر آگے بڑھا اور تھر کے صحرا میں کھیلے جانے والے نااہلی، بے حسی اور غفلت کے اس کھیل کا پردہ چاک کیا۔ حکومت سندھ نے پہلے تو اس المیہ کوتسلیم کرنے سے ہی انکار کیا۔ ٹی وی چینلوں اور اخبارات نے انکشاف کیا کہ اس قحط نے اب تک 150 انسانوں کی جان سے اپنا پیٹ بھر لیا ہے۔ ضلع کے ہسپتال میں مریضوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ ضلع کی پانچوں تحصیلوں میں ڈاکٹروں کی 32 آسامیاں خالی ہیں۔ پورے ضلع میں صرف سات ڈاکٹر آن ڈیوٹی ہیں۔ ماضی میں جن ترقیاتی منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ان کے صرف آثار باقی ہیں۔ لیکن حکمران سارا مدعا میڈیا اور موسم پر ڈال کر مطمئن ہو چکے ہیں۔ سندھ کے صحافیوں کا بے باک لیڈر لالہ اسد پٹھان کہتا ہے کہ سندھی میڈیا کئی ماہ سے خطرے کے الارم بجا رہا تھا لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ لالہ اسد مزید کہتا ہے کہ کارو تھر میں جنم لینے والا المیہ تو منظر عام پر آ چکا۔ اب اس صحرا کے گھوٹکی اور خیرپور سے ملحق اچھروتھر سے ہلاکتوں کی رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔ بروقت سدباب نہ کیا گیا تو ایک اور سانحہ زیادہ دور نہیں۔

قحط زدہ علاقوں میں سرکاری اور نجی شعبہ کے مخیر حضرات کی کوششوں سے امداد پہنچ رہی ہے۔ لیکن اس سانحہ کے ذمہ داران کا تعین ابھی نہیں کیا جا سکا، ہو بھی کیسے؟ سندھ کے محکمہ صحت کا سیکرٹری وزیراعلیٰ کا اپنا داماد اقبال درانی، ریلیف کے محکمہ کا وزیر مخدوم جمیل الزمان، ڈپٹی کمشنر مخدوم امین فہیم کا ایک اور صاحبزادہ عقیل الزمان۔ حساب کس سے لیا جائے اور کون لے۔

تھر کے باشندوں کی اکثریت غوثیہ، سروری، حر، جیلانی اور رانی پور کی گدیوں کو ماننے والی اور اپنا مال و متاع گدی نشینوں پر نچھاور کر دینے والے وارفتگان پر مشتمل ہے۔ اس ضلع میں ارباب غلام رحیم کا سکہ آج بھی چلتا ہے، تھر کے عوام منتظر ہیں کہ ان کے روحانی تاجدار مخدوم شاہ محمود قریشی، مخدوم امین فہیم اور پیر پگاڑا اپنی روحانی طاقت سے کچھ اور نہیں تو مٹھی بھر چاول اور روٹی کے چند نوالوں کا ہی بندوبست کر دیں۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.