.

ڈالر اور موہنجو داڑو

حسن نثار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شیخ رشید کو پریشان اور قوم کو حیران ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی ن لیگ والے بغلیں اور باجے بجائیں کیونکہ ڈالر ڈرامہ کا تو ابھی ’’انٹرول‘‘ بھی نہیں ہوا۔ اصل کہانی تو ’’انٹرول‘‘ کے بعد شروع ہونی ہے۔ ڈالر اور ہمارے پیارے روپے میں سے ایک ’’ہیرو‘‘ تو دوسرا ’’ولن‘‘ ہے اور اس ڈرامے کے ’’کلائمیکس ‘‘ سے پہلے کسی کو اندازہ نہیں ہو سکتا کہ میدان ہیرو کے ہاتھ رہے گا یا ولن کے۔ آخری قہقہہ ڈالر لگائے گا یا روپیہ ؟ حتمی فتح ڈالر کی ہو گی یا روپے کی۔ میں کسی کو کوئی مشورہ دینے کی پوزیشن میں تو ہرگز نہیں لیکن ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ موسم دراصل ڈالر کی خریداری کا ہے۔

ممکن ہے کہ ڈالر شریف تھوڑا مزید ’’سلائیڈ‘‘ بھی کرے لیکن انجام وہی کہ --- ’’اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دو گے ‘‘ سو روپے کی نفسیاتی حد تک جعلی اور وقتی طور پر جانے کے بعد ڈالر کی تزویراتی گہرائی کا سامنا ہو گا اور ایسا سناٹا طاری ہو گا کہ خاموشی کی آواز بھی صاف سنائی دے گی اور یہی وہ وقت ہو گا جب میں یہ تمہیدی قسم کا پیرا ری پروڈیوس کروں گا جو مجبوری کے عالم میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ ہر طرف ’’ڈالر ڈالر ‘‘ کا شور مچا ہے اور ڈار صاحب شیخ رشید کو جگتیں مار رہے ہیں اور ان پر میٹھے میٹھے جملے چست کر رہے ہیں۔

اوپر والا پیرا تو جیسے عرض کیا، مجبوراً لکھنا پڑا کیونکہ آج میرا اصل موضوع تو پیپلز پارٹی مرحومہ کا صدر پنجاب منظور وٹو ہے۔ معروف محاورہ تو یہ ہے کہ فلاں--- فلاں کے تابوت میں آخری کیل کی مانند ہے۔ میرے نزدیک وٹو میاں پیپلز پارٹی پنجاب کی کشتی میں آخری ’’وٹہ ‘‘ ہیں کہ ’’بیڑیوں میں وٹے ‘‘ والا پنجابی محاورہ تو ہم سب نے سن رکھا ہے اور اب وٹو صاحب کی شکل میں دیکھ بھی رہے ہیں۔ سچ تو یہ کہ جس دن زرداری صاحب نے منظور وٹو کو پیپلز پارٹی پنجاب کا صدر بنایا، میں اسی دن سمجھ گیا تھا کہ زرداری صاحب نے پنجاب کو اپنی سیاسی لغت سے رائٹ آف کر دیا ہے۔ ’’ اجڑے باغاں دے گالہڑ پٹواری ‘‘ یا یوں کہہ لیجئے کہ ’’ چمپوپلٹن دا تاجا حوالدار ‘‘ موڈ ذرا شاعرانہ ہو تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’’اپنی طرف سے بوم بسے یا ہما رہے ‘‘۔

پیپلز پارٹی اس نظر بٹو قسم کے وٹو فیصلہ سے پہلے ہی پنجاب سے لاتعلق سی ہو چکی تھی لیکن پاکستان تحریک انصاف کا ٹیک آف ہونے کے بعد تو اس نے باقاعدہ طور پر ہاتھ اٹھا لئے ۔ میاں منظور وٹو کو پنجاب کی صدارت سونپنا اس اعتراف کا اعلان تھا کہ ہم اس میدان کے کھلاڑی ہی نہیں، ن لیگ جانے یا پی پی آئی ورنہ کوئی نارمل آدمی، نارمل حالت میں پیپلز پارٹی کو منظور وٹو کے حوالے کیسے کر سکتا ہے جس کی وجوہات شہرت میں ایک بھی قابل ذکر وفخر نہیں ۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ طوطا چشم، احسان فراموش اور بہت ہی نچلے درجہ پر جوڑ توڑ کا تجربہ،

دوسری طرف غور کریں تو صاف دکھائی دے گا کہ پیپلز پارٹی شعوری طور پر خود کو سندھ میں ہی مجتمع اور مستحکم کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔تمام تر فوکس سندھ پر ورنہ موجودہ ملکی حالات میں ’’سندھ فیسٹول ‘‘ جیسی ہائی پروفائیل نوٹنکی کا مطلب کیا ہے ؟

’’قائد عوام ‘‘ ذوالفقار علی بھٹو اور ’’چاروں صوبوں کی زنجیر ‘‘ بے نظیر بھٹو کے وارث بلاول بھٹو زرداری کو ایک سندھی قوم پرست لیڈر کے طور پر لانچ کرنا چہ معنی دارد؟ ابھی کل کی بات ہے جب زرداری صاحب نے نعرہ لگایا ---’’پاکستان کھپے ‘‘ لیکن لانچنگ جیسے نازک موقعہ پر برخوردار بلاول باآواز بلند کہتا ہے ---’’مرسوں مرسوں سندھ ناں ڈیسوں ‘‘ کیا واقعی پیپلز پارٹی نے پنجاب بھول کر خود کو سندھ تک محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ؟ اور اگر کر لیا ہے تو اس کی اصل وجوہات کیا ہیں ؟

کیا صرف ن لیگ کے ’’جن جھپے‘‘ یا پی ٹی آئی کی اٹھان کے سبب ایسا ہو رہا ہے تو اس میں کچھ زیادہ وزن نہیں کہ یہ دونوں اپنے لئے خود ہی کافی ہیں، ان کی پرفارمینس ہی کافی ہے بشرطیکہ پارٹی کی پنجاب لیڈر شپ میں کوئی دم خم موجود ہو، اس کے صدر کی پنجاب میں کوئی ساکھ اور اہمیت ہو ورنہ وٹو تو ڈوبتی بیڑی میں آخری وٹے سے زیادہ کچھ نہیں لیکن اگر یہ سادہ سی سیاسی حقیقت بھی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے پلے نہیں پڑتی تو پھر ہر کوئی یہ کچھ سوچنے میں حق بجانب ہو گا کہ پنجاب کے حوالہ سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت بے خبر ہے یا پھر گلوبل پلیئرز کی طرف سے کوئی اشارہ ہے کہ ’’مٹھ رکھو اور بوجوہ پنجاب پر خواہ مخواہ وقت اور انرجی ضائع نہ کرو‘‘ میکرولیول پر بلکہ یوں کہئے کہ گلوبل لیول پر قصہ جو بھی ہو وٹو صاحب کی یہ بڑھک بازی کسی بور لطیفے سے بھی گئی گزری ہے کہ ’پیپلز پارٹی پنجاب میں ایک طاقت بن کر ابھر رہی ہے۔‘ سچ یہ کہ پیپلز پارٹی پنجاب سے فیڈآئوٹ ہو رہی ہے اور اگر اسکی ڈولتی ڈگمگاتی بیٹری میں ’’ وٹے ‘‘ اسی طرح موجود رہے تو یہ مکمل طور پر فیڈ آئوٹ ہو کر سیاسی تاریخ کا موہنجو داڑو رہ جائے گی۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.