.

سیاست کا میدان سب کے لئے برابر

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی جرنیل کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانا کیوں ضروری ہے اور کیوں نہیں؟ جرنیل غدار ہو سکتا ہے یا نہیں؟ ان سوالوں کا جواب تو خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں دینا ہے۔ پرویز مشرف کے وکیلوں نے اپنی تازہ درخواست میں ایمر جنسی کے جن کرداروں کو اپنے مؤکل کا معاون اور ساتھی قرار دیا ہے ان کی تفصیل دیکھ کر ہمیں حیدرآباد کمیشن کا زمانہ یا دآ گیا۔ جس میں خان عبدالولی خان ، غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ مینگل اور ا ن کے ایک سو سے زائد ساتھیوں پر غداری کا مقدمہ حیدر آباد کی خصوصی عدالت میں چلایا گیا تھا۔

1975ء میں مقدے کی کارروائی کا آغاز ہوا دو سالوں میں ابتدائی نوعیت کی سماعت تک نہ ہو سکی تھی۔ جیسے ہی پیپلز پارٹی کے اقتدار کا قصہ تمام ہوا یہ غدار ہیرو بن کر قومی سیاست میں پھر سے رواں دواں ہو گئے۔ مشرف کے وکیلوں نے اپنے مؤکل کے مبینہ ملزم ساتھیوں کی جو تفصیل خصوصی عدالت کو فراہم کی ہے اس میں بہت سے چہرے ہائی پروفائل ہیں اور اب بھی بڑے اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح اور حکم کے مطابق جو کچھ منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ آئندہ کچھ لوگ سبق سیکھ سکھیں اور ملک کو قانون کی حکمرانی کے مطابق آگے بڑھنا چائیے۔ نہ اس میں کسی کی تذلیل اور نیچا دکھانا مقصود و مطلوب ہے۔ نہ ہی عداوت یا انتقام کا پہلو اجاگر ہو سکتا ہے اور نہ ہونا چاہئے ۔ یہ مثال آئندہ کسی کی بے لبا امڈتی اور مچلتی خواہشوں کے سامنے بند ھ باندھنے کی کوشش ہے مگر پاکستان کے سابق وزیر قانون جناب ایس ایم ظفر صاحب نے ہمیں ڈرا دیا۔

سچ کو بیان کیا ہے یا ایسا ہونا ہماری قسمت اور مقدر کا حصہ رہے گا۔ ان کے تازہ ارشاد کے مطابقٌ مشرف کو سزا ملنے سے مارشل لاء کے دروازے بند نہیں ہوں گے۔ ان کا سیاسی تجربہ ایوب خان کے وزیر قانون سے شروع ہوا تھا وہ یحیی خان اور ضیاء الحق کے مارشل میں ہمیں فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں ۔اب جو سوال مکالمے اور بحث کی صورت میں سوسائٹی کے لئے اٹھایا جانا چاہئے وہ بڑا اہم ہے۔ کیا کسی جرنیل کو ملک کی سیاست میں حصہ لینا چاہئے یا نہیں۔ اس کا جواب ہے ہاں ایس ایم ظفر صاحب توایوب خان کی آمرانہ حکومت کو جمہوریت اور سیاست دانوں کے ہاتھوں ڈھیر ہونے کے گواہ ہیں وہ اپنے ایک انٹرویو میں سیاست اور جمہوریت کی گواہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں، جب سیاست میں مجھے دخل دینے کا موقعہ ملا تو میری خواہش تھی کہ جمہوری عمل فروغ پائے۔

گو ل میز کانفرنس میں میں نے جو کردار ادا کیا وہ نواب زادہ نصر اللہ سے پوچھیں مجھے جب یہ ذمہ داری سونپی گئی تو میں سیدھا لاہور آیا میں نے مولانا مودودی اور چوہدری محمد علی سے ملاقات کی۔ ولی خان سے جا کر ملا میں نے کہا صاحب تشریف لایئے ایوب خان آپ کے مطالبات ماننے کے لئے تیار ہیں۔ آپ آدھ گھنٹے کے لئے آیئے ایک لیٹر اپنے مطالبات پر مشتمل لکھ کر لیتے آیئے، یہ ایوب خان کی شکست کا نقطہ انتہا تھا۔ جب سیاست میں جرنیل اور مارشل لاء چار باریاں لے چکے ہیں۔ ہر بار ناکام حکومتیں اپنے ورثہ میں چھوڑ کر جاتے رہے۔ صدموں اور المیوں کی کہانیاں تو الگ ہیں۔ سچ بات یہ ہے سیاست اور ملازمت دو الگ الگ چیزیں ہیں حاضر تو حاضرمگر ریٹائرڈ جرنیلوں نے بھی سیاست میں کوئی کمال نہ دکھائے۔ ان کی سیاست میں آنے کی مخالفت مقصود نہیں ہے۔

لیکن سیاست کے میدان میں انہیں ملک کے دوسرے شہریوں کی طرح قومی سیاست میں حصہ لینا چاہئے۔ جمہوریت کا مطلب ہی یہ ہے کہ ملک میں بسنے والے لوگ اپنی منشاء اور مرضی کے مطابق ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہو کر اپنے ملک کے نظام کو چلائیں۔ ریٹائرڈ جرنیل بھی پاکستان کے عام شہری ہیں اس لئے اگر وہ ملک کے مسائل کو سنوارنے کے لئے عملی سیاسیات میں سرگرم عمل ہونا چاہتے ہیں تو سیاست میں داخلے پر کسی کو اعتراض کی گنجائش نہیں۔ اعتراض تو طاقت کے ذریعے اقتدار اعلیٰ پر قبضے سے جنم لیتا ہے۔ریٹائرڈ جرنیلوں نے پارٹیاں بنائیں مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ائرمارشل اصغر خان جسٹس پارٹی سے اپنے بیٹے عمر اصغر سے ہوتے ہوئے تحریک انصاف کو اپنی آخری پناہ گاہ ٹھہرا چکے ہیں۔ وہ کسی انتخاب میں پارلیمنٹ کے اندر آج تک جانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مرزا اسلم بیگ نے ریٹائر ہو کر سیاست میں قدم رکھا۔ بے پناہ وسائل خرچ کرنے کے باوجود وہ ایک ممبر کو بھی پارلیمنٹ میں نہ بھیج سکے۔ آئی ایس آئی کے سابق چیف حمید گل اور جنرل فیض علی چشتی نے سیاست کے دروازے اپنی مقبولیت منوانے کے لئے کھٹکھٹائے مگر عوام کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔ راؤ فرمان علی ، راؤ امراؤ خان ، جنرل نیازی اور نہ جانے کتنے نام ہیں جو ناکام ہوئے۔

اہم وجہ رویئے اور تضاد ہیں جو انہیں عوامی مقبولیت سے دور رکھتے ہیں۔ طاقت سے اقتدار میں آنا اور بات ہے مگر عملی سیاسیات میں حصہ لینے کے کچھ تقاضے ہیں جس کو سمجھنا بہت ضرور ی ہے۔ ریٹائرجرنیل سیاست میں اس لئے ناکام رہتے ہیں کہ وہ عوامی مزاج کو نہیں سمجھتے حکم دینے اور حکم پر چلنے کی روایت سیاست میں انہیں کامیاب نہیں ہونے دیتی۔ عملی سیاست میں ایک عام سا سیاسی کارکن بڑے سے بڑے قائد کا دامن پکڑکر سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے۔ کڑوے سے کڑوے سوال لیڈروں کو سننا ہی پڑتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں کارکن ہلا گلا نہیں کرتے بلکہ ڈسپلن کی تمام حدود کو پار کر جاتے ہیں۔ برطانیہ میں ریٹائر جرنیلوں کی عملی سیاسیات میں حصہ لینے کی روایات بہت کمزور ہیں البتہ ایسے کمانڈروں کو جنہوں نے معرکہ آراء کارنامے سرانجام دیئے ہوں۔

ہاؤس آف لارڈز کا رکن نامزد کر دیا جاتاہے۔ فیلڈ مارشل منٹگمری جنہوں نے جنرل رومیل کی فوجوں کو شکست دی تھی ہاؤس آف لارڈز میں سارجنٹ ایٹ آرمز نامزد کر دیاتھا۔ البتہ فرانس اور امریکہ میں ریٹائر جرنیل یا اعلیٰ فوجی افسر کامیاب رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں اتحادی افواج کے سابق کمانڈر جنرل آئزن ہاور جنہوں نے ہٹلر اور مسیولینی کی فوجوں کو شکست دینے کے لئے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے تھے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل کو شکست دے کر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ ایسا ہی معاملہ ڈیگال کا تھا۔ طاقت سے حکمرانی کرنے والے ہمارے چاروں جرنیل اپنی حکمرانی تک مقبولیت کے جھنڈے گاڑے نظر آتے ہیں۔ ایوب خان سے مشرف تک کسی طاقت ور نے اقتدار سے باعزت رخصتی نہیں پائی۔ جناب ایس ایم ظفر صاحب کے تازہ تبصرے سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔

دنیا کا بدلتا ہو اسیاسی منظر نامہ کسی آمر یا ڈکٹیٹر کو آئندہ خوش آمدید کہنے کے لئے تیار نہ ہو گا۔ جس ریاست میں دو آئین تہ و بالا ہو چکے مگراب تیسرے آئین کی حفاظت کرنے والے پہلے سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ ایک سبق جو قدرت کا فیصلہ ہے۔ چند سال پہلے حکمرانی کا جو جاہ و جلال تھا آج ان کی بے بسی بہادر شاہ ظفر سے مختلف نہیں ہے۔ عزت، شہرت اور اقتدار آزمائش ہے۔پرویز مشرف اگر شکر گذاری سے جیتے آج وہ مشکلات سے آزاد ہوتے۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.