.

ترکی، ترقی اور بلند ایجوت(1)

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں نوے کی دہائی کے آغاز میں یہ کہا جا رہا تھا کہ ہم اگلے دس برسوں میں دنیا کی پندرہ بڑی معیشتوں میں شمار ہونے لگیں گے۔ آج ترکی، دنیا کی 17ویں بڑی معیشت بن چکا ہے۔ ترکی میں معاشی ترقی کا سفر اور جمہوری تاریخ کا سفر تمام تر نامساعد حالات کے ساتھ پچھلے نوے برس سے اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ یہ کوئی معجزہ نہیں بلکہ ایک قوم کے کٹھن سفر کی ہم عصر تاریخ ہے۔

ترکی، دنیا کی واحد سرمایہ دارانہ ریاست ہے جس نے 1923ء میں نئے قومی سفر کے آغاز میں معیشت کے بڑے حصے پر کنٹرول قائم کیا۔ یہ اصول مصطفی کمال پاشا کے بنیادی 6 اصولوں میں سے ایک ہے، یعنی Stateism۔ کمال ازم میں ریاست پر معیشت پر کنٹرول کی بڑی ذمہ داری ڈالی گئی تھی۔ جدید ترکی کے قومی سفر میں معیشت، سیاست اور سماجیت کے حوالے سے ارتقائی عمل جاری ہے، جس میں بحیثیت قوم ترکوں نے نیشنلسٹ بنیادوں پر جمہوری اور معاشی ترقی کا سفر کیا۔ پچاس کی دہائی میں عدنان میندرس کی حکومت نے متعدد شعبوں میں اصلاحات کیں، جس میں عالمی سرمایہ داری کو ترکی میں دَر آنے کے مواقع فراہم کیے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ ترکی کے سرمایہ دار طبقے کی طرف سے سیاست اور اقتدار پر کنٹرول اور اقتدار کے بل پر کرپشن کے الزامات بھی میندرس حکومت پر لگے، جس کے نتیجے میں ترکی کی سیاست میں تلخ واقعات رونما ہوئے، جن میں عدنان میندرس کی پھانسی سرفہرست ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اتاترک کے دست راست عصمت اِنونو جو عدنان میندرس کے سیاسی مخالف تھے، وہ عدنان میندرس کی پھانسی کی سزا کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے فوجی جنتا سے بھرپور مطالبہ کیا کہ میندرس کو پھانسی نہ دی جائے۔ عدنان میندرس کو پھانسی کی سزا کی ترک قوم کے کسی بھی سیاسی دھڑے نے حمایت نہیں کی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ میندرس حکومت کے عالمی سرمایہ داری پر بڑھتے ہوئے انحصار اور کرپشن کو ترکی میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

عدنان میندرس کا دورِ سیاست درحقیقت تنگ نظر قوم پرستی اور رجعتی سیاست کے تصادم کی انتہا تھی۔ اس کے بعد ترکی کے اندر تنگ نظر قوم پرستی کی سیاست میں اصلاحات کا دَور شروع ہوا۔ اتاترک کی جماعت CHP، جمہور خلق پارٹی اس دَور کے بعد تنگ نظر قوم پرستی سے ایک سوشل ڈیمو کریٹک سیاست کی جانب گامزن ہوئی۔ یہ وہ دَور تھا جب عصمت اِنونو اس جماعت کے سربراہ اور نوجوان بلند ایجوت سیکریٹری جنرل تھے۔ ترکی میں دوسرے مارشل 1970ء کے دوران عصمت اِنونو نے جب فوجی مداخلت کی حمایت کی تو پارٹی کے سیکریٹری جنرل بلندایجوت پارٹی سے مستعفی ہو گئے۔ بلندایجوت کے اس استعفے نے ترکی کی تاریخ میں دو اہم اثرات مرتب کیے۔ اپنے استعفیٰ کے بعد بلندایجوت ترکی کے مقبول رہنما کے طور پر ابھرے اور عوام کی طرف سے دباؤ آنے پر اتاترک کی قائم کردہ CHP جس کی قیادت اتاترک کے دست راست عصمت اِنونو کرتے تھے، اس جماعت سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے۔ اور پارٹی کا نیا قومی کنونشن بلایا گیا، جس میں اتاترک کی پارٹی CHP نے بلندایجوت کو اپنا چیئرمین منتخب کر لیا۔ اور یوں جہاں ایک طرف عصمت اِنونو جیسے انتہا پسند قوم پرست کی سیاست کا دَور ختم ہوا، وہیں یہ اتاترک کی پارٹی، بلندایجوت کے بائیں بازو کے جدید رحجانات کی بنیاد پر پارٹی کو سوشل ڈیمو کریٹک بنانے پر گامزن ہوئی اور اس کے نتیجے میں ترک سیاست مزید Welfare State کے سفر کی طرف بڑھی۔ اس نے ترکی میں دو رحجانات کو تقویت دی، ایک کہ ریاست مزید Democratize ہوئی، یعنی مزید جمہوریت کا سفر اور دوسرا مزید فلاحی ریاست کا رجحان۔

بلندایجوت ایک ترقی پسند رہنما تھے، لیکن وہ سوویت یونین کے زیر اثر یا کسی دوسرے اشتراکی ملک کے تحت چلنے کے سخت مخالف تھے۔ ان کی سیاست نے کمال ازم کے اندر اصلاحات کا عمل کیا۔ اب کمال ازم کی عملی شکل میں سوشل ڈیموکریسی ٹھہرا اور اتاترک اس سوشل ڈیموکریٹک رحجانات کے رہنما، درحقیقت یہ دَور کمال ازم کا سیاسی اجتہاد تھا۔ اس لیے ترکی کا ووٹر جو کہ خاندانی، موروثی، فرقہ وارانہ، مذہبیت اور دیگر آلائشوں سے پاک ہے، اپنی دو بڑی شناختیں رکھتا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ ووٹ اور نان سوشل ڈیمو کریٹک ووٹ۔

نوے کی دہائی تک ترکی میں، سیاست، جمہوریت اور معیشت میں ترقی کا سفر ایک موضوع ہے۔ بس اتنا عرض ہے کہ ترکی کی نوے سالہ سیاسی تاریخ میں جس نظریے کے لوگوں نے سب سے زیادہ قربانیاں (قید اور سزائے موت) کا سامنا کیا ، وہ بائیں بازو کے لوگ ہیں، جن میں کمیونسٹ، سوشلسٹ اور دیگر ترقی پسند نظریات کے رہنما اور ادیب (کُرد اس کے علاوہ ہیں، اور یاد رہے کہ تمام کُرد تحریکیں اور جماعتیں بھی بائیں بازو کی نظریات کی حامل ہیں) شامل ہیں۔ نوے کی دہائی کے آغاز میں بلندایجوت کی سیاست کے وہ بیج جو انہوں نے ستر کی دہائی میں بکھیرے تھے، ان کے اثرات نمودار ہونے لگے۔

1980ء کے مارشل لاء کی قیادت جنرل کنعان ایورن نے کی اور انہوں نے ترگت اوزال کو میدانِ سیاست میں متعارف کروایا اور پھر اس رہنما کے ذریعے مارشل لاء سے جمہوریت کا Transition کاسفر طے کیا اور ترگت اوزال نے اس فوجی حکومت کے آئین جو ریفرنڈم کے ذریعے بنایا گیا تھا، اس کے تحت بلند ایجوت کی سیاست پر دس سال کے لیے پابندی لگا دی گئی، جس کی بنا پر ان کو عملاً ایک سیاسی قیدی بنا کر رکھ دیا۔ لیکن 1980ء سے 1987ء تک ان کی شریک حیات راشان ایجوت نے سیاسی تنظیم سازی کا شان دار مرحلہ طے کیا، اور نوے کی دہائی کے آغاز پر ترکی کی سیاست میں جس عنصر نے سب سے زیادہ طاقت پکڑی ، وہ سوشل ڈیمو کریٹک رحجانات اور جمہوری سیاست تھے۔ بلندایجوت جتنے بڑے سوشل ڈیمو کریٹک تھے، اتنے ہی بڑے کمالسٹ اور سب سے زیادہ بڑی شناخت کہ نوے سال کی جدید ترکی کی تاریخ میں سب سے ایماندار سیاست دان تھے (اس موضوع پر پھر کبھی لکھوں گا)۔ ان کی اَن تھک جہد مسلسل نے ان کو ایک بار پھر 1999ء میں وزیراعظم منتخب ہونے کا موقع فراہم کیا۔

ایک بائیں بازو کے رہنما کے انتخاب پر سب سے بڑا خدشہ جس قوت کو تھا ،وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ تھا۔ 1999ء میں ترکی کی وزارتِ عظمیٰ کا قلمدان جب ان کے ہاتھ آیا، تب ترکی جہاں مزید معاشی ترقی کا سفر کر رہا تھا وہیں پر معیشت پر چند خاندانوں کو کنٹرول حاصل ہو چکا تھا اور بڑھتے بڑھتے یہ بحران 2001ء میں خطرناک سرحدوں کو چھونے لگا۔ لیکن اس دوران بلندایجوت حکومت نے جو معاشی اور قومی ترقی کے منصوبے طے کیے، اس نے ترکی کو دنیا کی 17ویں بڑی معیشت بنانے کے سامان پیدا کردیئے۔ دسمبر 2001ء کو انہوں نے ترک نژاد عالمی شہرت یافتہ ماہر معیشت کمال درویش کو، جوکہ ان دنوں امریکہ میں مقیم تھے، بغیر کسی سیکریٹری کے فون کیا، جو کمال درویش کی شریک حیات نے ریسیو کیاجنہیں یقین نہ آیا کہ وزیراعظم ترکی براہ راست فون کال پر ہیں۔ بلندایجوت نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کمال درویش میری درخواست قبول کرتے ہوئے ترکی کے وزارتِ خزانہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس کے بعد کمال درویش نے ترکی کی معیشت میں جو منصوبہ سازی کی، اس نے ترکی کو 2006ء تک ایک کامیاب معیشت میں بدل دیا۔ وہ سیاسی رحجانات جو بلندایجوت نے طے کیے اور وہ معاشی منصوبہ بندی جو کمال درویش نے طے کی، اس نے ترکی کو ایک حیرت بھری نگاہوں سے دیکھنے والا ملک بنا ڈالا اور آنے والی حکومت (نومبر 2002ء سے اردو آن کی حکومت) اس منصوبہ بندی پر گامزن ہوئی، لیکن اب اس Rich Economy پر کرپشن سکینڈلز کا راج ہے اور دوسری طرف عوامی مزاحمت کا آغاز۔ (جاری ہے)

بشکریہ روزنامہ"نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.