.

روکسے لانا تا حورم سلطان

حسن نثار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوں تو اسے عورت کہنا ہی کسی تہمت سے کم نہیں۔ عجیب قسم کی عورت نما شے تھی جو بیچاری احتجاجی نرسوں کو یوں دھن رہی تھی جیسے گئے وقتوں میں پینجے سردیوں کی آمد پر لحافوں کی روئی کو دھنتے تھے۔ فرق صرف اتنا کہ روئی بے جان ہوتی ہے اور نرسیں جاندار تھیں۔ روئی دھنتے وقت بہت خوبصورت دلنشیں آواز پیدا ہوتی تھی جبکہ نرسوں کو دھنتے ہوئے ان کی غریبانہ چیخیں اعصاب کو برباد کیے دیتی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر کسی کے اندر چنگیز اور ہلاکوں کی روحیں حلول کرگئی ہیں بلکہ اس سے بھی کچھ آگے کا کام ہے کیونکہ چنگیز اور ہلاکو کے سامنے تو پھر کوئی مقصد تھا یعنی توسیع پسندی، اجنبی زمینوں پر قبضہ کا جنون، لوٹ مار کا شوق، دوسروں پر غلبہ پا لینے کا پاگل پن لیکن یہ جو ہم ایک دوسرے کیلئے ’’تاتاری‘‘ بنتے جارہے ہیں، اس کا حاصل وصول کیا ہے؟

ہر کوئی اپنے احساس محرومی، عدم تحفظ، فرسٹریشن اور ڈپریشن کا غصہ دوسرے پر نکال رہا ہے۔ ہر چولی اپنے دامن کو پھاڑ نے پر تلی ہے۔ ہر لازم اپنے ملزوم کو ادھیڑنے کی قسم کھائے بیٹھا ہے۔ طالب علموں اور ان کے اساتذہ کو عکس و معکوس کی مانند ہونا چاہئے لیکن وہ باہم دست و گریباں، وکیل ججوں پر یلغار کیے، مریض ڈاکٹر کو للکار رہا ہے، پولیس زیادتی کے ملزموں سے رشوت لیکر انہیں کلین چٹ دے رہی ہے، ڈی جی رینجرز وزیراعظم کو بتا رہا ہے کہ سیاسی رہنما مجرموں کی سرپرستی کرتے ہیں، انتظامیہ تجاوزات ختم کرنے نکلتی ہے تو چور شور ہی نہیں مچاتے پورے علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کردیتے ہیں، گوالے بھینسوں سمیت سڑکوں پر اٹھلاتے پھرتے ہیں اور شہر سے باہر نکلنے کے حکم پر جمہوری بلیک میلنگ پر اتر آتے ہیں علیٰ ہذا القیاس پوری قوم کو ’’دھرنا‘‘ ہوگیا ہے۔

یہاں آئین بھی دھرنا ...... قانون بھی دھرنا ...... اقدار بھی دھرنا ...... معیار بھی دھرنا ...... اخلاق بھی دھرنا ...... کردار بھی دھرنا جس میں اضافہ فرمایا تو کیا ؟؟؟
’’جینا ہوگا مرنا ہوگا
دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا‘‘

حالانکہ سچ یہ ہے کہ نہ جینے کا سلیقہ نہ مرنے کی تمیز۔ آج کل ایک ترکی ڈرامے ’’میرا سلطان‘‘ کی بڑی دھوم ہے جس کا مرکزی کردار سلطان سلمان عالیشان کی چہیتی ملکہ ’’ حورم سلطان ‘‘ ہے۔ ڈرامے تو بہرحال ڈرامے ہی ہوتے ہیں جبکہ میں تاریخ کا بیحد سنجیدہ طالب علم ہوں اور تاریخ کو سائنس سمجھ کر پڑھتا ہوں اور یہ بات تاریخ میں محفوظ ہے کہ ’’حورم سلطان‘‘ کا اصلی نام ’’روکسے لانا‘‘ تھا جو آج بھی یوکرین میں ایک مقبول نام ہے۔ ’’روکسے لانا‘‘ غلام سے کنیز بنی، حرم میں پہنچی اور اپنی طلسمی شخصیت کے سبب سلطان کے حواس و اعصاب پر طاری ہوگئی۔ ترکوں میں جادو گرنی کہلانے والی یہ عورت جب ’’روکسے لانا‘‘ ’’حورم سلطان‘‘ بننے کا سفر طے کررہی تھی تو اس نے پورے حرم کو تگنی کا ناچ نچا رکھا تھا جب ایک بار سلطان کی والدہ محترمہ نے اس کی حرکتوں، عادتوں اور تبصرہ کرتے ہوئے کئی دریا کوزے میں بند کردیئے ۔

’’وہ ضدی، سرکش، غصیلی، منتقم مزاج، ناتراشیدہ، عجلت پسند، سازشی اور دوغلی ہے تو اسے ایسے ہی ہونا چاہئے کیونکہ وہ مدتوں غلام رہی ہے۔‘‘
سامر لدھیانوی نے کہا تھا ؎
مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

جتنی لمبی غلامی ...... اتنی ہی لمبی بدصورتی کیونکہ غلام صرف مال کے حوالہ سے ہی مفلس نہیں ہوتے، آداب زندگی سے بھی ناآشنا اور سلیقہ و قرینہ کے حوالہ سے بھی قلاش اور کنگال ہوتے ہیں۔ ہم ہزار سالہ غلامی سے آزاد تو ہو گئے، آزاد لوگوں کی طرح جینا نہیں آیا، آیا بھی تو کیا آیا۔

’’جینا ہوگا مرنا ہوگا
دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا‘‘

چلتے چلتے یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ غلام صحیح معنوں میں آزاد ہو جائیں تو پھر ان جیسا آزاد بھی کوئی نہیں ہوتا۔ یہی غلام اور کنیز ’’روکسے لانا‘‘ تھی جس نے ’’حورم سلطان‘‘ بن کر بتدریج زندگی کو سیکھا، سمجھا، سوچا اور حرم کی ہر ملکہ اور شہزادی کو مات دیکر اپنے ’’کنیززادہ‘‘ شہزادے کیلئے تخت کا رستہ ہموار کیا۔ سلطان سلیم اسی کا بیٹا تھا اور خود اسے ’’سلیم دی سٹوپڈ‘‘ قرار دیتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.