.

مذاکرات، ابہام اور ارباب اختیار

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسداد ِ دہشت گردی کی پالیسی سازی کے حوالے سے پی ایم ایل (ن) کی صفوں میں پایا جانے والا ابہام اپنی جگہ پر موجود ہے۔ یہ بات تاحال واضح نہیں کہ جب ریاست اور سوسائٹی میں اس بات پر اتفاق ِ رائے پایا جاتا ہو کہ طالبان سے پاکستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے تو وزیر ِ اعظم نواز شریف ان کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کا حکم دینے سے گریزاں کیوں ہیں؟ اس پر پی ایم ایل (ن) کے ترجمانوں کا موقف ہے کہ چونکہ کسی بھی فوجی آپریشن کے نتیجے میں سب سے پہلے خیبر پختونخوا کی حکومت طالبان کی طرف سے سامنے آنے والے خونی ردعمل کا نشانہ بنے گی، اس لئے فوج کو گرین سگنل دینے سے پہلے خیبر پختونخوا کی حکومت کو اعتماد میں لینا اور پی ٹی آئی کی قیادت کا تعاون حاصل کرنا ضروری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جیسا کہ کہا جاتا ہے، میاں نواز شریف عمران خان کی دلجوئی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیر ِ اعظم صاحب اس بات سے خائف ہیں کہ کالعدم تحریک ِ طالبان پنجاب، جسے فی الحال طالبان کی طرف سے امان حاصل ہے، میں کارروائیاں شروع کردے گی۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ پنجاب پولیس اور انتظامیہ طالبان کی کارروائیاں روکنے کی پوزیشن میں نہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو وزیر ِاعلیٰ پنجاب کو لینے کے دینے پڑجائیں گے۔ صوبے میں ہونے والے ترقیاتی کام رک جائیں گے، صوبائی حکومت ہل جائے گی اور پنجاب میں ابھرنے والے عوامی ردعمل سے وفاقی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔

حکومت کی یہ حکمت ِ عملی دانائی پر مبنی نہیں کیونکہ کالعدم تحریک ِ طالبان پاکستان کی اصل منزل یہ ہے کہ وہ افغان طالبان اور القاعدہ سے مل کر افغانستان اور پاکستان کو یکجا کرکے اسلامی امارت تشکیل دیں۔ اس وقت معروضی حالات یہ ہیں کہ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ (AQN) تقویت پاتے ہوئے اپنی جڑیں مضبوط کررہے ہیں۔ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ امریکیوں کی روانگی کے بعد وہ اس خطے کی غالب قوت کے طور پر ابھریں گے اور ان کے سامنے کرزئی یا بننے والی کوئی اور حکومت، مزاحمت نہیں کرسکے گی۔ چونکہ یہ جنگجو ملکی سرحدوں کو نہیں مانتے، اس لئے ڈیورنڈ لائن غیر موثر ہو کر رہ جائے گی اور فاٹا پاکستان کی نسبت افغانستان کے قریب ہو جائے گا۔

آج جو ہم ’’اچھے طالبان‘‘ اور ’’برے طالبان‘‘ کا ورد کرتے رہتے ہیں، اُس وقت افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کا فرق مٹ جائے گا اور اگر تب ہماری آنکھیں کھلیں اور پاک فوج نے فاٹا کو جنگجو دستوں اور انتہا پسندوں سے پاک کرنے کے لئے آپریشن کا ارادہ کیا تو ہمیں(AQN) سے ٹکر لینا پڑے گی۔ اس لڑائی میں امریکی یا کرزئی مفادات سے زیادہ پاکستان کا نقصان ہو جائے گا۔ اس لئے عقل کے تمام تقاضے یہی کہتے ہیں کہ اُس مہیب چٹان سے سر ٹکرانے کے بجائے آج پائوں میں چبھنے والے کانٹے کو نکال لیا جائے۔ آج پاکستانی طالبان کا ردعمل اتنا شدید نہیں ہو گا لیکن (AQN) کی متحد قوت پاکستان میں بہت تباہی پھیلا سکتی ہے۔

حکومت کی طرف سے طالبان سے مذاکرات کرنے کے لئے تشکیل دی جانے والی پہلی کمیٹی ،جس میں سابقہ فوجی افسر، سابقہ سرکاری افسر اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، کی جگہ سرکاری افسران پر مشتمل دوسری کمیٹی حیران کن ہے کیونکہ سرکاری افسران کو احکامات کی تعمیل کرنے اور قواعد و ضوابط کے تحت فرائض سرانجام دینے کی تربیت دی جاتی ہے۔ وہ پر خطر امور ، جہاں فوری طور پر فیصلہ کرنا ہو، کے لئے موزوں نہیں ہوتے۔ اس لئے بنائی جانے والی دوسری کمیٹی کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ تعطل پیدا ہوگا۔ اس کے بعد پھر حکومت کے پاس لائحہ عمل کیا ہوگا؟اس کا ایک سراغ تو ہمیں عمران خان کے بدلتے ہوئے موقف میں ملتا ہے۔ اگرچہ وہ ابھی بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ ہماری نہیں بلکہ یہ ہم پر امریکہ نے مسلط کی ہے (حقیقت یہ ہے کہ افغان مہم میں پاکستان اور امریکہ حلیف تھے) تاہم اب خان صاحب یہ تسلیم کررہے ہیں کہ جو طالبان امن کے خواہاں ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کریں اور جو ہتھیار اٹھائیں ان کے خلاف طاقت کا استعمال کریں۔ اس سے پہلے ان کا موقف یہ تھا کہ یہ امریکی جنگ ہے اور ہمیں کسی بھی صورت میں طالبان ، چاہے وہ کتنے ہی پاکستانیوں کو ہلاک کیوں نہ کردیں، کے خلاف فوجی اپریشن کا نہیں سوچنا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان اس بات پر قائل ہوتے دکھائی دیتے ہیں کہ کچھ طالبان گروہ حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہیں چنانچہ لڑاکا گروہوں کو امن پسند گروہوں سے الگ کرتے ہوئے کمزور اور شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے۔

اس پیشرفت کے پیچھے چوہدری نثار علی خان کی سوچ کارفرما ہے۔ چوہدری صاحب کا شروع سے ہی موقف یہ تھا کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ یہ بات بھی فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ دو ماہ قبل اُن کی طرف سے بیان آیا تھا کہ تحریک ِ طالبان کے ساتھ پرامن مذاکرات کے لئے بیک چینل پر کام ہورہا تھا لیکن کچھ ڈرون حملوں نے سبوتاژ کردیا۔ اب گزشتہ دو ماہ سے کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا لیکن طالبان کی طرف سے ہونے والے حملوں میں عام شہریوں اور سیکورٹی اہل کاروں سمیت ایک سو پچاس جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ان کے ترجمان فائر بندی کی بات بھی کرتے رہتے ہیں اور ان سے منسلک گروہ بہت دیدہ دلیری سے حملے بھی کرتے رہتے ہیں۔ اب ایک مرتبہ پھر چوہدری نثار امن کی جھنڈی لہراتے ہوئے طالبان کی طرف نہ صرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں بلکہ انہیں حب الوطنی کی سند بھی پیش کر رہے ہیں۔ چوہدری نثار وزیر ِ اعظم کو جس طرح عمران خان کے پاس لے کر گئے ہیں، اس سے یہ تاثر تقویت پکڑتا ہے کہ پی ایم ایل (ن) کی طالبان پالیسی کے روحِ رواں دراصل چوہدری نثار ہی ہیں۔

جس تذبذب کے ساتھ سول حکومت اس اہم ترین معاملے کو ہینڈل کررہی ہے، اس سے دفاعی اداروں کی بے چینی بلکہ غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دفاعی اداروں کے افسران کی طرف سے گاہے بگاہے میڈیا تک پہنچنے والی سرگوشیوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے طالبان کو شکست دینا چاہتے ہیں لیکن وہ دیکھتے ہیں کہ سول حکمران اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اُنہیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ سیکورٹی اہل کار اپنی جانوں پر کھیل رہے ہیں اور عام شہری بھی طالبان کے ہاتھوں قتل ہورہے ہیں لیکن حکمران اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانوں کو تحفظ دینے کے لئے طالبان کو خوش کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اس خطرے کو بھی نظر انداز کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو ان انتہا پسندوں سے ریاست ِ پاکستان کو لاحق ہے۔ یہ خاصی تشویشناک صورت ِ حال ہے۔ اگر اس کا تدارک نہ کیا گیاتو خدشہ ہے کہ حکومت اور اس کی طرف سے مذاکرات میں شامل افراد کو کسی بھی ناروا صورت ِ حال کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.