امریکہ کی خلیجی ممالک سے نئی شراکت داری

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

عرب دُنیا بٹ گئی ہے وجہ یہ ہے کہ قطر کی ریاست کو امریکہ نے اپنے زیر نگیں بنا لیا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور قطر کے درمیان تعلقات پرویز مشرف کی غلطی کی وجہ سے ہوئے۔ قطر کے پانچ شہری 9/11 کے واقعے کے بعد پاکستان میں سی آئی اے کی اطلاع پر پکڑے گئے تھے۔ اس پر قطر نے پاکستان سے کہا کہ یہ شہری ہمارے حوالے کردیئے جائیں کیونکہ ہم ایک چھوٹی سی آبادی کا جزیرہ ہیں اور سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں۔ اس لئے امریکہ کو یہ گمان گزرے گا کہ ہم حکومت کی سطح پر 9/11 کے معاملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اُن کی بات نہ مانی اور اس نے اُن قطریوں کو امریکہ کے حوالے کردیا۔ اِس کے بعد قطری حکومت نے اپنی حکمرانی بچانے کیلئے امریکہ کو اپنے ملک میں اڈہ بنانے کی اجازت دیدی ۔ قطر پر ایک عرب انٹیلی جنس چیف نے ایک ملک کے دورہ کے دوران بھپتی کسی تھی کہ ایک 300 افراد کا شہر اور ایک ٹی وی چینل الجزیرہ کا مالک کو آپ ایک ملک کیسے کہہ سکتے ہیں، پھر قطر اور سعودی عرب کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، یینون منصوبہ کے تحت جب مشرق وسطیٰ کی نئی حد بندی ہوگی تو سعودی عرب کا خیبر تبوک کا علاقہ امریکہ کے انتہائی قریبی اتحادی اردن کو دے دیا جائے گا، اُس کے بدلے میں قطر، سعودی عرب کے حوالے کردیا جائے گا، مگر اب اِس منصوبے میں کئی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں کیونکہ قطر میں خود امریکہ بہادر موجود ہے۔ وہ خود ایک خلیجی ملک بن چکا ہے اس لئے وہ کیوں سعودی عرب کو دیں گے۔

قطر نے امریکہ کے کہنے پر اسرائیل سے تعلقات جوڑنے کی کوشش کی۔ امریکہ کے کہنے پر لیبیا میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کو گرانے میں باغیوں کی مدد کی، جس طرح معمر قذافی کو مارا گیا، وہ درندگی کی نئی مثال قائم کی۔ جواباً وہاں امریکی سفیر کو مار دیا گیا جس پر امریکہ نے قطری حکومت کو موردِ الزام ٹہرایا کہ اس نے احتیاط کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ اس کے بعد قطر نے شام میں شامی لبریشن آرمی کی بنیاد ڈالنے میں امریکہ کی مدد کی۔ امریکہ ہی کے کہنے پر شامی لبریشن آرمی کی مدد بند کر دی اور ساتھ ساتھ ایران سے تعلقات بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

دوسری طرف بحرین اور قطر کی بھی آپس میں نہیں بنتی۔ یہ سعودی عرب تھا جو سب کو جوڑے رکھتا تھا اب خلیج تعاون اتحاد میں دراڑ آ گئی ہے، اس کے علاوہ مصر اور دیگر ممالک میں بھی معاملات کافی بگڑے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اپنے سفیر قطر سے بلا لئے ہیں۔ یہ کافی سنگین صورتِ حال کی غماز ہے اور اِس بات کا پتہ دیتی ہے کہ امریکہ نے اپنا کھیل شروع کردیا ہے۔ اگرچہ شیل گیس دریافت ہوجانے کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ہمیں سعودی عرب کی اتنی ضرورت نہیں رہی جتنا کہ پہلے تھی۔ شیل گیس کی ایجاد نے جو انقلاب برپا کیا ہے اُس کی وجہ سے وہ یورپ کو روسی اثر سے جو روسی تیل کی فراہمی کی بنا قائم ہے، نکالنا چاہتا ہے۔ یوکرین سے روسی پائپ لائن کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔

امریکہ خود یوکرائن میں کھلی مداخلت کر رہا ہے مگر یہ ایک الگ موضوع اور تفصیلات کے ساتھ لکھے جانے کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ روس صرف یوکرائن کے تیل کی سپلائی کا محتاج نہیں ہے بلکہ اس نے زیرسمندر پائپ لائن بچھا رکھی ہے، اس طرح اُس کے پاس تیل سپلائی کے لئے دو پائپ لائنوں جنوبی اور شمالی کا نظام موجود ہے۔ جب امریکہ میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ امریکہ اب عربوں کے تیل کا محتاج نہیں رہا اور اب اُن کے حال پر چھوڑ دیا جائے، اس پر عربوں میں کافی بے چینی پھیلی اور سعودی عرب متحرک ہوا۔ اُن کے وزراء اور ولی عہد روس، پاکستان اور بھارت کے دورے کے ساتھ کئی ممالک کے دورے کرکے اپنی سلامتی کے انتظامات شروع کئے تو امریکہ کے ڈپٹی وزیر خارجہ ولیم برنس نے سینٹر آف اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں تقریر کرتے ہوئے 19 فروری 2014ء کو خلیجی ملکوں کے ساتھ شراکت داری کا نیا ایجنڈا پیش کیا جوکہ پردہ اٹھانے کے مترادف ہے اور شاید اس لئے بھی کہ امریکی صدر اوباما مارچ کے آخری ہفتے میں خلیجی ممالک کا دورہ کریں گے۔ سعودیوں کی اپنی سلامتی کے لئے نئی صف بندی پر امریکی انتظامیہ قدرے بے چین ہوئی ہے کہ یہ لوگ اپنے پیروں پر کھڑے کیسے ہورہے ہیں اور انہیں کیوں کھڑا ہونے کا موقع دیا جائے، چنانچہ ولیم برنس نے کہا کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے اپنے تعلقات کو ازسرنو بڑھائیں گے اور انہوں نے یہ خلیجی ممالک کے بارے میں کہا کہ اُنکی ان ممالک کے بارے میں پالیسی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اُن کے بارے میں ہماری مثبت پالیسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ GCC ایک اعلیٰ درجے کی علاقائی سیکورٹی تنظیم ہے اور اگلی صف کی دفاعی لائن ہے اور ہم اُن کے ساتھ مل کر اُن کے دفاع کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے خلیجی ملکوں کو میزائل ڈیفنس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ یاد رہے کہ امریکہ نے پہلے ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات کو ہوا دی، اُن کے ایٹمی پروگرام کا ہوّا کھڑا کیا پھر شام میں سعودیوں کی مرضی کے خلاف کسی کارروائی سے دوری اختیار کی، صرف اس لئے کہ علاقہ میں کشیدگی رہے اور وہ یہاں سے اُن کے دفاع کے نام سے دولت لوٹتے رہیں۔ یہ دفاعی ڈھال کا نظام میں سرمایہ کاری کی دعوت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، تاہم ولیم برنس نے خلیجی ممالک کی اس تنقید کو غلط قرار دیا کہ وہ ایران کو ترجیح دے رہا ہے اور عربوں کو نظرانداز کررہا ہے جبکہ عربوں کے نزدیک ایران اُن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے اور یہ کہ اس کی وجہ سے اُن کا اُن کے دوستوں کے مفادات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ امریکہ کا اپنا کھیل ہے اس لئے وہ کہتے ہیں ایران اور P5+1 کے مذاکرات کی کامیابی کے 50 فیصد امکانات ہیں۔ اس لئے کہ مذاکرات بہت کھلے ہوئے ہیں، وہ کسی نقطہ پر سکڑے نہیں ہیں۔ جس پر ہم یہ گرہ لگائیں گے کہ وہ ایران میں تخریب کاری کے لئے راستہ بنا رہے ہیں۔ ولیم برنس کہتے ہیں کہ ان کی ایران پر گہری نظر ہے وہ نہ خلیج اور نہ ہی شام اور لبنان میں ایرانی اثر قائم ہونے دیں گے۔ شام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ استحکام آہی نہیں سکتا۔ اگر وہاں حکومت تبدیل نہیں ہوئی۔ یہ بات وہ سعودی عرب کو خوش کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں۔ دراصل وہ وہاں خونریزی کو طول دینا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اور سعودی عرب کے درمیان انتہائی مضبوط تعلقات ہیں، اگرچہ عرب بہار کا سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے مگر ہم یہ ذہن میں ضرور رکھیں گے کہ ہمارے دوست متاثر نہ ہوں اور اس سلسلے میں بھی امریکہ اور خلیجی ملکوں کے درمیان اِس بات پر بھی اختلافات ہیں کہ یہ تبدیلیاں کیسے آئیں اور امریکی حکومت اس سلسلے میں کیا جوابی کارروائی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو نئی پالیسی وضع کرنے اور اس کے راستے کو بدلنے میں دقت کا سامنا ہے۔ اُن کے بیان میں خلیجی ملکوں کے لئے معصوم سی امید ہے۔ اگرچہ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ میانہ روی والے عناصر کی حمایت کریں گے۔ جس کا آسان ترجمہ یہ ہے کہ وہ اِن ممالک کی بادشاہتوں پر عرب بہار کی پالیسی کو ترجیح دیتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں