مسلم ووٹر دوراہے پر

طارق محمود چوہدری
طارق محمود چوہدری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

لوک سبھا کے سولہویں ’’چناؤ‘‘ نے بھارت کے 138 ملین مسلم شہریوں کو ایک مرتبہ پھر فیصلہ کے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ بھارت میں عام انتخابات کا بگل بج چکا۔ انتخابی ’’یدھ‘‘ کے لئے متحارب لشکر اپنے اپنے حلیفوں کے ہمراہ، غنیم کے مقابل اتر آئے ہیں۔ سات اپریل سے یہ گھمسان کا معرکہ شروع ہو گا اور 12 مئی تک جاری رہے گا۔ ایک ماہ تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں کون فاتح رہتا ہے اور کس کے لشکری کھیت رہتے ہیں۔ یہ تو 12 مئی کو ہی معلوم ہو گا لیکن بھارتی سیاست کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ انتخابات کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی بی جے پی کے زیرکمان نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے مابین نہیں بلکہ بھارتی سیکولر ازم اور برہمن انتہا پسندی کے درمیان ہوگا۔ یہ عام انتخابات بھارت کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت 138 ملین مسلمانوں کے لئے بھی کسی تبدیلی کا باعث ہوں گے یا نہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو بھارت کی مختلف ریاستوں کے 100 اضلاع میں مقیم مسلمانوں کے لئے ایک ڈراؤنا خواب بن کر رہ گئے ہیں۔

بھارت کی سیاست نے اگرچہ سیکولر ازم اور جمہوریت کا شاندار لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ لیکن اس کا باطن برہمنیت، ذات پات، رنگ و نسل اور مسلم دشمنی سے لتھڑا ہواہے۔ لیکن بھارت کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ سیکولر نقاب پوش کانگریس ہویا ہندو توا کی عملبردار بی جے پی یا پھر دلتوں کی نمائندگی کرنے والی علاقائی جماعتیں، موقع ملنے پر اپنا اصلی رنگ دکھانے سے کبھی نہیں چوکتیں۔

بھارت میں مقیم مسلم کمیونٹی کو آزار پہنچانے، تکلیف دینے، اس کے حقوق غضب کرنے کے معاملے میں بھارت کی کوئی بھی جماعت، دوسری سے پیچھے نہیں، بی جے پی کے دور اقتدار میں گجرات میں، نریندر مودی کی قیادت میں جس طرح تین ہزار سے زائد مسلمانوں کو سرعام ذبح کیا گیا، خواتین کی عصمت دری کی گئی، ان کی املاک کو لوٹا گیا۔ یہ اندوہناک باب دور جدید کی مہذب دنیا کی آنکھوں کے سامنے پیش آیا۔ اس بربریت کا شکار گجرات کے مسلمانوں کو آج تک انصاف نہیں ملا۔ بی جے پی اب مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کو اپنا سپہ سالار بنا کر تخت دہلی کی جانب رواں دواں ہے۔ بی جے پی کی جانب سے اس مسلم کش سیاست کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ مسلم طبقہ کانگریس کے ہاتھوں مامون و محفوظ ہے۔ کانگریس کا دور اقتدار دیکھا جائے تو اس کے ہاتھ بھی فرقہ وارانہ فسادات کے جرم میں رنگے ہوئے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کا سانحہ کانگریس ہی کے دور اقتدار میں پیش آیا۔ بھارت کی مہان ریاست اس تاریخی مسجد کو انہدام سے نہ بچا سکی۔ اسی کانگریس کے مختلف ادوار میں زندگی کے ہر شعبہ میں مسلم اقلیت کے ساتھ ناانصافی اور زیادتیوں کے طوفان ڈھائے گئے۔ بھارت میں غیر کانگریسی اور نان ’’بھاجپا‘‘ سیاسی قوتوں کا ایک تیسرا گروپ بھی ہے۔ سماج وادی پارٹی ملائم سنگھ یادیو اور اس کے جواں سال سیاسی وارث اقلیکش کی قیادت میں اترپردیش میں راج پاٹ کے مالک و مختار ہے۔ اسی سماج وادی پارٹی کے دور اقتدار میں حال ہی میں مظفرنگر کے خونی فسادات ہوئے، جس میں سیکڑوں مسلمانوں کو ہلاک اور ہزاروں کو بے گھر کر دیا گیا۔ لیکن نچلی جاتیوں کی نمائندگی کی دعویدار سماج وادی پارٹی بھی اس جلتی آگ پر تیل ڈالتی رہی۔ مسلم اقلیت مساجد، مہاجر کیمپوں میں سسک رہی تھی اور جناب شری یادیو جی اپنے آبائی گاؤں میں سلیمان خان، مادھوری ڈکشت اور دیپکا یڈو کون کی میزبانی کر رہے تھے۔ رقص و موسیقی کی اس دل پذیر تقریب میں فی مہمان ایک کروڑ روپے ریاستی خزانے سے ادا کئے گئے۔

بھارتی لوک سبھا کی 542 نشستوں میں سے کم از کم 100 سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ پندرہ تا بیس نشستیں ایسی ہیں، جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن تو نہیں، لیکن نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں لہٰذا اب کانگریس ہو یا بی جے پی، دونوں جماعتوں نے بھیڑیئے کی کھال کے اوپر مسیحاکا چولا پہن لیا ہے اور مسلم ووٹر کو رام کرنے کے لئے بغل میں موجود چھری عارضی طور پر چھپا دی ہے۔

حال ہی میں اپنے دور اقتدار کے بالکل آخری دنوں میں من موہن سنگھ سرکار کو بھولے بسرے مسلم ووٹر یاد آئے تو اس نے ہندوستان بھر میں پھیلی ہوئی چار لاکھ سے زائد مسلم وقف املاک کے تحفظ کے لئے قومی وقف ڈویلپمنٹ کارپوریشن قائم کر دی۔ اسی طرح سونیا گاندھی نے بہار کے پسماندہ ترین مسلم اکثریتی علاقہ کشن گنج میں علی گڑھ یونیورسٹی کے ریجنل کیمپس کا بھی بذات خود افتتاح کیا ہے۔ اس سے پہلے سچر رپورٹ کی روشنی میں اقلیتی امور کی وزارت بھی قائم کی گئی۔ لیکن اب تک یہ وزارت اور اس کی کارکردگی زیرو سے آگے نہ بڑھ پائی۔ یہ تینوں اقدامات اتنی تاخیر سے کئے گئے کہ فوری طور پر تو مسلم اقلیت کو اس کا کوئی فائدہ پہنچنے کا کوئی امکان نہیں۔ مسلم کمیونٹی کو ایک شکایت یہ بھی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف جانچ پڑتال اور اس کے سدباب کیلئے جو اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ان کا نشانہ صرف اور صرف مسلم نوجوان ہی بنتا ہے۔ مرکزی حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں میں کبھی بھی اس شکایت کا ازالہ کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی۔ انتخابات قریب آتے ہی وزیر داخلہ شندے کمار نے ریاستی حکومتوں کو ہدایت جاری کی کہ مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرتے وقت احتیاط سے کام لیا جائے۔ تاہم خود شندے کمار جی نے کمال ’’احتیاط‘‘ سے کام لیا اور کئی سالوں سے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتار نوجوانوں کی رہائی کے لئے کوئی ہدایت جاری کرنے کی زحمت نہ کی۔ کانگریس سرکار نے اپنی رخصتی سے پہلے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مسلم کوٹہ پر عملدرآمد کے لئے بھی کوئی کوشش نہ کی۔

بھارتی سیاست میں یو پی اے، این ڈی اے دونوں نے متحارب اتحاد بنا لیا ہے۔ چھوٹی اور علاقائی جماعتیں ایک تیسرا اتحاد بنا کر ان دو بڑے سیاسی ہاتھیوں کے ساتھ لڑائی کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کی سب سے بڑی اور منظم سیاسی و مذہبی تنظیم جماعت اسلامی ہند نے ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسلم ووٹر وسوسوں اور خدشوں کا شکار ہیں۔ ان کے پیچھے آگ اور سامنے گہرا سمندر ہے۔ اس کو خدشہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ہاتھ نہ ہو جائے اور ان کے ووٹ بٹورنے والی پارٹی، گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر اقتدار کی ٹرین میں سوار نہ ہو جائے اور وہ اگلے پانچ سال کیلئے سیاسی بھول بھلیوں میں کھڑا راستہ ہی تلاش کرتا رہ جائے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں