امریکہ کی ہار اور ہماری جیت؟

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

سوویت یونین صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا علمبردار تھا جو ہر محاذ پر مغربی دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کرچکا تھا۔ یہ نظام یورپ میں نقب لگا چکا تھا اور امریکہ کے لئے خطرہ بنا ہوا تھا۔ سوویت یونین کی سرکردگی میں اشتراکی بلاک سیاسی ‘ اقتصادی ‘ سفارتی اور جنگی محاذوں پر پوری دنیا میں امریکہ سے پنجہ آزمائی کر رہا تھا۔ سوویت یونین‘ افغانستان اور ہماری غلطیوں نے مل کر افغانستان اور پاکستان کو فیصلہ کن جنگ کا میدان بنا دیا۔ امریکہ نے صرف سفارتی حربے استعمال کئے یا چند ارب ڈالر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جھولی میں ڈال دیئے۔ اس جنگ میں لاکھوں اور ہزاروں پاکستانی لقمہ اجل بنے۔ ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر سے پاکستان کا چہرہ مسخ ہو گیا۔ ہر جگہ مسلح نان اسٹیٹ ایکٹرز ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے لئے وجود میں آ گئے۔

افغانستان کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا۔ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد مجاہدین کی آپس کی لڑائیوں میں جو تباہی ہوئی ‘ سوویت دور سے وہ بہت بڑی تھی ۔ گویا ہمارے یا افغانوں کے حصے میں کوئی خیر نہیں آئی۔ اس کے برعکس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اس قوت (سوویت یونین ) سے نجات مل گئی جو ان کے لئے درد سر بنی ہوئی تھا۔ وہ نظریہ اشتراکیت اپنی موت مرگیا جو ان کے سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کر رہا تھا اور وہ اشتراکی بلاک راستے سے ہٹ گیا جو ہر جگہ امریکہ کی راہ میں رکاوٹ بن رہا تھا۔ گویا چند ارب ڈالر کے عوض امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا۔ پہلی مرتبہ دنیا اور بالخصوص مسلمان دنیا واحد سپر پاور کے پنجے میں آگئی ۔ خان عبدالولی خان نے اس پر یہ کہہ کر بڑا اچھا تبصرہ کیا تھا کہ اپنی سرزمین پر اپنے بھائیوں کو مروا کر ہم نے یاسرعرفات کو امریکہ اور فلسطینیوں کو اسرائیل کی قدموں میں بٹھادیا لیکن ہم پھر بھی خوش ہیں کہ بڑا تیر مارا ہے ۔ تماشا یہ تھا کہ امریکہ کی اس جیت اور مسلمانوں کی اس ہار کو ہم اپنی جیت سمجھ رہے تھے اور مرحوم قاضی حسین احمد کی قیادت میں جماعت اسلامی پورے پاکستان میں جشن فتح منا رہی تھی ۔ ہمارے جرنیل فاتحانہ انداز میں کتابیں لکھ کر دیواربرلن کی دیواروں کے ٹکڑوں کو اپنے ڈرائنگ روموں میں سجارہے تھے لیکن کچھ ہی عرصہ بعد امریکہ سوویت یونین سے بڑھ کر جارح کے طور پر سامنے آ گیا۔ اس کا پہلا شکار اسلامی ممالک اور وہ مجاہدین بننے لگے جنہیں سوویت یونین کے خلاف میدان میں اتارا گیا تھا چنانچہ وہ مذہبی شخصیات اور وہ جنرل صاحبان جو امریکہ کی فتح اور سوویت یونین کی شکست کا جشن منا رہے تھے‘ رونے پیٹنے میں لگ گئے۔ خود وہ امریکہ کو عالم اسلام کا نمبرون دشمن قرار دینے لگے۔

جماعت اسلامی جیسی جماعتیں جو چند سال قبل جشن فتح منارہی تھیں‘ مردہ باد امریکہ مہمات چلانے لگیں۔ وہ القاعدہ جو عالم عرب سے نوجوانوں کو جمع کر کے سوویت یونین کے خلاف تیار کی گئی تھی‘ اس نے امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔

امریکہ نے پہلی فرصت میں فلسطینیوں کو اسرائیلیوں کے قدموں میں لا بٹھا دیا۔ پھر القاعدہ کے پیچھے پڑ گیا پھر افغانستان اور اس کے بعد عراق پر قبضہ کر بیٹھا۔ ادھر پاکستان کی مذہبی تنظیمیں اور ان لوگوں کو جو سردجنگ کے دنوں میں امریکہ کی سرپرستی میں سوویت یونین کے خلاف لڑے تھے ‘ نے امریکہ کے خلاف کمرکس لی۔ مذہبی سیاسی لیڈر تمام برائیوں کی جڑ امریکہ کو قرار دینے لگے اور تو اور عمران خان جیسے لبرل لیڈر بھی اسی روش کا ایسے شکار ہو گئے کہ ان کے خطابات امریکہ کے خلاف زبانی ڈرون حملوں سے شروع اور انہی پر ختم ہونے لگے۔ آج دس سال بعد امریکہ واپس جانے کا سوچ رہا ہے۔ اس کے فوجیوں کی بڑی تعداد واپس چلی جائے گی لیکن وہ اپنے چند ہزار فوجیوں کو چند اڈوں پر بدستور تعینات رکھنے پر مصر نظر آتا ہے۔ بظاہر امریکہ کے مقاصد پورے نہیں ہوئے ۔ ہم پاکستانیوں کا خیال تھا کہ وہ افغانستان پر دائمی قبضے کے لئے آیا تھا اور وہ ایسا نہ کرسکا۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ طالبان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے حملہ آور ہوا تھا لیکن اس کیخلاف مزاحمت بدستور پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ ہم سنتے اور سناتے رہے کہ وہ وسط ایشیائی قدرتی ذخائر کو یہاں سے نکال کر لے جانے کے لئے آیا ہے اور ظاہر ہے یہ کام بھی وہ نہ کر سکا ۔

ہمارے تجزیہ نگار بتاتے رہے کہ وہ افغانستان میں بیٹھ کر چین کا گھیرائو کرنا اور پاکستان کو سبق سکھانا چاہتا ہے اور ظاہر ہے یہ کام بھی وہ نہ کرسکا۔ ہم یہ بھی سنتے رہے کہ وہ افغانستان کو اڈہ بنا کر ایران پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے اور ظاہر ہے یہ مقصد بھی پورا نہ ہوسکا۔ دوسری طرف وہ حامد کرزئی جو امریکیوں کا انتخاب تھے‘ آج ان کے لئے دردسر بنے ہوئے ہیں ۔ امریکی افغانستان میں حسب وعدہ تعمیر نو کرسکے اور نہ اسے امن کا گہوارا بناسکے۔ یوں امریکہ بظاہر رسوا اور شکست خوردہ ہو کر نکل رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مذہبی سیاسی رہنما بشمول عمران خان اور دفاعی و تذویراتی ماہرین بغلیں بجا رہے ہیں کہ امریکہ کو شکست ہو گئی۔ ابھی باقاعدہ جشن منائے نہیں جارہے ہیں لیکن تقریروں کا انداز یوں فاتحانہ ہوتا ہے کہ جیسے امریکہ سے ناک رگڑوا دی گئی اور پاکستان و افغانستان کے دن بدلنے والے ہیں لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے ۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ امریکہ نے اپنے بیشتر مقاصد حاصل کر لئے۔ نائن الیون سے قبل القاعدہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے بڑا خطرہ تھی اور وہ نائن الیون یا پھر سیون سیون جیسی وارداتوں کی صلاحیت رکھتی تھی۔ آج اگرچہ القاعدہ پہلے سے زیادہ پھیل گئی ہے لیکن عالم اسلام میں۔ جبکہ امریکہ یا برطانیہ کے اندر اسی طرح کی کارروائیوں کی اس کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ نائن الیون سے قبل عالم اسلام کے جہادی عناصر کی توپوں کا رخ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف تھا لیکن امریکیوں نے ایسی چال چلی کہ وہ ہر جگہ اپنے مسلمان بھائیوں سے نبردآزما ہو گئے۔ آج افغانستان میں طالبان افغان حکومت سے‘ پاکستان میں طالبان پاکستانی ریاست سے اور یمن میں القاعدہ والے یمنی حکومت سے لڑرہے ہیں ۔ شام ‘ مصر‘ عراق ‘ الغرض ہر جگہ پر مسلمان مجاہد ‘ مسلمان لبرل سے لڑ رہا ہے جبکہ امریکہ تماشا دیکھنے لگا ہے۔ گویا وہ جنگ جو امریکہ کے خلاف شروع ہوئی تھی‘ اس کے گھر سے نکل کر مسلمانوں کے ملکوں میں منتقل ہو گئی اور ظاہر ہے مسلمان لبرل ہو یا مجاہد ‘ مسلمان ہے ‘ امریکی نہیں۔ اسی طرح امریکہ نے اپنے دشمن نمبرون اسامہ بن لادن کو بھی تلاش کر کے قتل کر دیا اور یوں اپنے لوگوں کو نفسیاتی فتح کا احساس بھی دلوا دیا۔ امریکہ افغانستان سے مکمل یا جزوی طور پر نکل رہا ہے لیکن وہ کئی دیگر شکلوں میں افغانستان میں موجود رہے گا۔

نائن الیون سے قبل کے افغانستان میں امریکہ کی کوئی لابی نہیں تھی لیکن اب وہ اپنی بہت سی لابیاں چھوڑ کر جا رہا ہے جو لمبے عرصے تک اس کے مفادات کا تحفظ کرتی رہیں گی۔ اس پوری جنگ میں امریکہ کے چند سو ارب ڈالر خرچ ہوئے جو ہماری نظروں میں تو بڑی رقم ہے لیکن امریکی معیشت کے لحاظ سے وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ دس سالہ جنگ میں امریکہ کے صرف چھبیس سو سپاہی مرگئے جبکہ لاکھوں افغانی اور ہزاروں پاکستانی لقمہ اجل بن گئے۔ افغانستان اور پاکستان کے معاشرے دو انتہائوں میں تقسیم ہو گئے ‘ معاشرت کا حلیہ بگڑگیا ۔ نہ جانے امریکہ کے نکلنے کے بعد سرحد کے آر پار ان مصیبتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا‘ جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مصیبتوں اور خانہ جنگیوں کا مقابلہ کیسے ہوگا‘اس سوال پر کوئی غور نہیں ہو رہا ہے لیکن خوشیاں منائی جارہی ہیں کہ ہم جیت گئے اور امریکہ ہار گیا۔ واہ جی واہ کیا عجیب جیت ہے اور کیسی شاندار ہار ہے۔

بشکریہ روزنامہ "حنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size