.

ترکی، ترقی اور بلند ایجوت (2)

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم بلند ایجوت نے ترکی میں معاشی بحران کو حل کرنے کے لیے 2001ء میں دس سالہ منصوبہ بندی کی، جس کی ذمہ داری انہوں نے کمال درویش پر ڈالی جو UNDP کے سابق ناظم اعلیٰ تھے۔ کمال درویش نے ترک معیشت میں بنیادی اصلاحات کیں جن میں بینکنگ اور صنعتی شعبوں کو خصوصی توجہ دی گئی۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ جب 1983ء سے کی گئی معاشی اصلاحات جن کی بنیاد وزیراعظم ترگت اوزال نے ڈالی تھی اور معاشی ترقی کے عمل میں دولت کا ارتکاز چند خاندانوں تک محدود ہونے لگا اور معیشت پر پرائیویٹ بینکوں کا اثرورسوخ بڑھنے لگا۔ بلند ایجوت نے 2001ء میں کمال درویش سے ترکی واپس آ کر معاشی ترقی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ بلند ایجوت نے ترکی میں ایسے منصوبوں کی بنیاد رکھی جس نے ترکی پر دہائیوں اثرات مرتب کرنے تھے، انہی میں Black Sea اور مرمرہ سمندر کے درمیان دنیا کی ایک عظیم الشان نہر کا منصوبہ ان کی قومی ترقی کے خوابوں میں سرفہرست ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد تیز رفتار ترقی کرتی ترکی کی معیشت میں بحری مال برداری کا عمل سستا ہونے اور ترکی کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے لگے گا۔ بلندایجوت نے ترکی کی سیاست میں، ایک طرف سوشل ڈیموکریٹک اور ویلفیئر سٹیٹ کے سیاسی رحجانات کی بنیاد رکھی، وہیں پر انہوں نے خطے میں آزاد اورخود مختار خارجہ پالیسی پر توجہ دی اور علاقائی تنازعات میں مداخلت کی بجائے اپنے اندرونی قومی معاملات پر توجہ دی۔ انہوں نے کمال اتاترک کے نظریات ’’صلح گھر میں، صلح دنیا میں‘‘ کے اصول کو اپنایا۔ یاد رہے کہ کمال اتاترک کے مقابلے میں انورپاشا Pan Turanism کے علمبردار تھے اور انہی کے مہم جویانہ اقدامات کے نتیجے میں ترکی کو جنگ بلقان اور جنگ عظیم اوّل میں قومی نقصان اور شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

بلند ایجوت کی حکومت کے بعد نومولود جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی برسراقتدار آئی جس کی قیادت عبداللہ گل اور رجب طیب اردوآن کر رہے تھے۔ رجب طیب اردوآن نے نجم الدین اربکان کی جماعت کے پلیٹ فارم سے بحیثیت میئر استنبول، اس تاریخی، اقتصادی اور معاشی اہمیت رکھنے والے شہر میں شاندار کارکردگی کی بنیاد پر اپنی ساکھ قائم کی تھی جس کا چرچا پورے ترکی میں تھا اور اس دوران ترکی کی سیاست میں اہم سماجی تبدیلیاں اپنا وجود قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ 1983ء میں جب کنعان ایورن نے ترگت اوزال کو سیاست میں متعارف کروایا جن کی جماعت کے پلیٹ فارم سے ایک نئی ابھرتی ہوئی کلاس یا طبقے نے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔

یہ طبقہ ترگت اوزال کے دائیں بازو اور مذہبی رجحانات کے سائے تلے اپنی عافیت جاننے لگا اور اس دَور میں جن لوگوں نے پہلی بار سیاست میں حصہ لیا، بعد میں وہی لوگ طیب اردوآن کی سیاست کا ہر اول دستہ بنے۔ یہ چھوٹا کاروباری اور مذہبی رجحانات رکھنے والا طبقہ تھا۔ ترگت اوزال اور نجم الدین اربکان کی جماعتوں کے پرچم تلے سیاست کرتے کرتے نوے کی دہائی میں اس بازرگانی طبقے/ مرکنٹائل کلاس نے جہاں سیاست میں اہم مقام پا لیا، وہیں پر تجارت پر اس طبقے کا اثرورسوخ مضبوط ہوتا چلا گیا اور یوں ایک ابھرتے صنعتی معاشرے میں یہ تجارتی طبقہ، صنعتی طبقے میں بھی حصہ دار ہوا اور سیاست کے قائدانہ کردار میں طاقت پکڑ گیا، جس کی قیادت کا حتمی سہرا رجب طیب اردوآن کے سر بندھا۔ ان لوگوں نے بڑی احتیاط اوراعلیٰ کارکردگی کے فلاحی طرزِسیاست کی بنا پر ترکی میں سوشل ڈیمو کریٹک رحجانات رکھنے والی اہم سیاسی جماعتوں کو انتخابی سیاست میں چت کر دیا۔ جہاں اردوآن کی جماعت نے قومی انتخابات میں کامیابیاں حاصل کیں وہیں ان کی جماعت کے قائدین نے انقرہ، استنبول،برصہ سمیت ملک بھر کے بلدیاتی انتخابات میں بھی شان دار کامیابیاں حاصل کیں۔

2002ء کے انتخابات کے بعد جب عبداللہ گل اور طیب اردوآن کی جماعت برسراقتدار آئی تو انہوں نے کمال درویش کے معاشی منصوبوں کو جاری رکھا اور یوں 2006ء تک ترکی ایک مضبوط معیشت کے طور پر ٹیک آف کرنے کے قابل ہو گیا۔ انہوں نے بلندایجوت کی خطے میں تنازعات میں عدم مداخلت کی حکمت عملی جاری رکھنے کو ترجیح دی۔ 2002ء میں امریکہ نے جب عراق میں فوجی مداخلت کا فیصلہ کیا تو اردوآن ذاتی طورپر امریکہ کے جنگی منصوبوں کے لیے ترک سرزمین امریکہ کے استعمال پر راضی تھے، لیکن دلچسپ بات ہے کہ ان کی اپنی جماعت AKP کے متعدد اراکین پارلیمنٹ نے اس فیصلے کے خلاف ووٹ ڈالا۔ بعد میں انہوں نے ایک سکالر احمت دعوت اولو کو وزیر خارجہ نامزد کیا، جنہوں نے Zero Conflict کی پالیسی کے تحت خارجہ پالیسی تشکیل دی اور اس خارجہ پالیسی کے تحت ترکی اپنے روایتی علاقائی حریفوں آرمینیا، روس، یونان، شام اور ایران کے قریب ہوا۔ جناب طیب اردوآن اپنی دوسری منتخب مدت وزارتِ عظمیٰ کے دوران مزید اختیارات کے لیے سرگرم ہوئے، یہیں سے ان کی سیاست کا نقطۂ زوال شروع ہوا۔ تیسری مدت کے انتخابات میں وہ جس قدر ووٹوں کا حصول چاہتے تھے، وہ نہ ہوا کہ جس کے تحت ان کو اپنی خواہشات کے مطابق بنیادی آئینی ترامیم کا اختیار حاصل ہو جاتا، لیکن تیسری مدت کے انتخابات کے بعد ان کی سیاست میں Authoritative رحجانات نے غلبہ پا لیا۔ اب وہ اپنے وزیر خارجہ کو بھی ایک خطرہ سمجھنے لگے کہ جس نے ترکی کو علاقائی تنازعات سے اجتناب برتنے کی پالیسی پر گامزن کیا۔

طیب اردوآن اب غیر ترک قوموں کے عالمی رہنما بننے کا خواب دیکھنے لگے۔ ان کے لیے یہ ایک انہونا خواب تھا کہ ان کی تصاویر بیروت میں حزب اللہ، غزہ میں حماس اور مصر میں مرسی کے مداح سجانے لگے۔ وہ ترک قائد سے بڑھ کر علاقائی بلکہ اسلامی امہ کی قیادت کا خواب دیکھنے لگے۔ تیسری مدتِ انتخابات میں انہوں نے ترکی کے اندر اقتدار کو تقویت دینے کے لیے سخت اقدامات پر عمل شروع کر دیا اور ترکی ان ممالک میں ابھر کر سامنے آیا جہاں پر پریس کی آزادیاں محدود اور مخالف سیاسی جماعتوں پر جبر ہونے لگا۔ ان کے خاندان اور ان کی جماعت کے لوگ اربوں ڈالرز کے کاروباری منصوبوں میں مداخلت کرنے لگے اور یہی وہ مقام تھا جب ان پر کرپشن کے الزامات لگنے لگے۔

23 دسمبر کو جب وہ اپنے دوست ملک پاکستان میں اپنے دیگر وزراء کے ہمراہ لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی جانب سے استقبالیہ تقریبات میں شرکت کر رہے تھے تو اسی دوران استنبول میں عوام ان کا اور ان کے ساتھ تین وزراء وزیرخزانہ ظفر جالیان، وزیر داخلہ معمر گُلر اور وزیر برائے یورپین یونین ایگمین بگیس کے خلاف میگا کرپشن سکینڈل کے انکشاف پران کی واپسی پر استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے۔ شہبازشریف کی میزبانی کے بعد جب یہ رہنما واپس ترکی پہنچے تو یہ تینوں وزراء مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے، وزیراعظم اور ان کے بیٹے بلال اردوآن کرپشن سکینڈلز کے مطالبوں کا سامنا کرنے لگے۔ اور اہم بات کہ طیب اردوآن اس دوران مکمل طور پر اپنے ایک ہمدرد فتح اللہ گلین کی بھی مکمل حمایت کھو چکے ہیں اور آئے روز ان کی مقبولیت کا گراف گرنے اور اقتدار کا ستارہ ڈوبنے لگا ہے۔ مقبولیت، شہرت، اقتدار اور سب اس ابھرتی معیشت کے وسائل سے مال بنانے کی بدولت اب اپنے انجام کو پہنچنے لگا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.