جیو سٹریٹجک صورتِ حال، احتیاط لازم

عارف نظامی
عارف نظامی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات پرویزرشید حکومت کے ترجمان بھی ہیں۔ قانون اور انسانی حقوق کی وزارتوں کا قلمدان بھی ان کے پاس ہے لہٰذا ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا پڑتا ہے۔ گزشتہ اتوار کو وہ ایوان اقبال میں میرے مہمان تھے۔ وزیر بننے کے بعد لاہور میں صحافیوں کے ساتھ ان کی یہ پہلی باقاعدہ نشست تھی۔ ان سے کھل کر سوال ہوئے جن کے انہوں نے کھل کر جواب دیئے، اس تقریب کے دوسرے مہمان خاص مجیب الرحمٰن شامی تھے جو حال ہی میں سی پی این ای کے صدر منتحب ہوئے ہیں۔

پرویزرشید اگرچہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت میں شامل ہیں لیکن ان کا پس منظر انقلابی ہے اس لحاظ سے ان کی سوچ بھی بہت حد تک تجزیاتی ہے۔ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ طالبان سے نبٹنے کے لیے سوچ میں بھی تبدیلی لانا پڑے گی۔ ان کی بات اصولی طور پر سو فیصد درست ہے، تاہم بندوق سے کام لینے والے کسی سے اجازت لینے کے قائل نہیں ہیں۔ اس کا مظاہرہ ہم حالیہ برسوں میں پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردی کے طوفان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کا حکومت کے ساتھ نام نہاد سیز فائر ہوچکا۔ نام نہاداس لیے کہ سیز فائر کے باوجود ہشت گردی جاری ہے۔ گزشتہ روز پشاور اور کوئٹہ میں افسوسناک واقعات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اچانک ایک تنظیم جس کا ذکر پہلے بہت کم سنا تھا یعنی احرارالہند فعال ہو گئی ہے۔ تحریک طالبان نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی یہ مژدہ بھی سنایا ہے کہ اگر احرار الہند کے خلاف کارروائی ہوئی تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کا کہنا ہے کہ فریقین میں اعتماد کا فقدان ہے۔ امریکہ اور بھارت مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں گویا کہ دہشت گردی کے معاملے میں بھی غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کا کہہ کر یا اس کا ملبہ غیر معروف تنظیموں پر ڈال کر ایسی وارداتوں کے ذریعے ریاست پر دبائو برقرار رکھا جائے۔ اس لحاظ سے تو طالبان کی حکمت عملی کامیاب ہے وہ ایجنڈا بھی ڈکٹیٹ کر رہے ہیں اور نئے نئے مطالبات بھی داغ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فوج کی تحویل میں طالبان کی خواتین اور بچوں کو رہا کیا جائے ۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں خفیہ حراستی مراکز ہیں جبکہ فوج کا کہنا ہے کہ کوئی خاتون یا بچہ ہماری حراست میں نہیں ہے۔ اس طرح یہ مطالبہ بھی بار بار سامنے آیا ہے کہ پاکستانی فوج شمالی وزیرستان سے نکل جائے۔ ان مطالبات کا تعلق فوج سے ہے تو پھر اصل مذاکرات تو فوج اور حکومت کے درمیان ہونے چاہئیں۔ لیکن فوج مذاکرات کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے بڑی پتے کی بات کہی ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کی نو تشکیل شدہ بیوروکریٹک مذاکراتی کمیٹی بالکل بے اختیار اور پھُس پھُسی سی لگتی ہے اور شاید صرف ڈنگ ٹپائو کام اور پیغام رسانی کیلئے بنائی گئی ہے۔ تاریخی طور پر پاکستان کا روز اول سے ہی المیہ رہا ہے کہ یہاں حکمران کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ۔ قومی مفاد کے بارے میں اکثر باتیں صیغہ راز میں ہی رہتی ہیں

گویا

ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
حال ہی میں امریکی سی آئی اے کے سربراہ جان برینن اچانک پاکستان آئے اور چکلالہ ائیرپورٹ سے سیدھے جی ایچ کیو گئے۔ وہاں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام سے ملاقات کے بعد کہیں اور پدھار گئے۔ وہ ہماری عسکری قیادت اور انٹیلی جنس چیف کے کان میں کیا منتر پھونک کر گئے کسی کو علم نہیں۔ بعض مغربی سفارتکاروں نے مجھے بتایا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ طالبان کے خلاف ایسا آپریشن ہو جس کے نتیجے میں چیچن، ازبک، تاجک، افغان طالبان کی اکثریت خود کو محفوظ بنانے کے لیے وزیرستان سے ہجرت کر کے کابل پر چڑھ دوڑے،اس صورت میں افغانستان میں آئندہ صدارتی انتخابات اور نیٹوفورسز کے گرمیوں تک انخلا کا عمل جو پہلے ہی پیچیدگیوں اور مشکلات کا شکار ہے مزید گنجلک ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فوجی کارروائی کو کم از کم چند ہفتوں کے لیے موخر رکھا جائیگا۔

دیکھا جائے تو دونوں فریق ہی مذاکرات کے بارے میں مخلص نہیں ہیں۔ طالبان بھی برف پگھلنے کے انتظار میں ہیں اور ہماری عسکری قوت کی اپنی مصلحتیں آڑے آ رہی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ امریکہ اور بھارت مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ یہ کام کرنے کے لیے اور بھی بہت سے خفیہ ہاتھ موجود ہیں۔ عمران خان صاحب نے ابھی تازہ تازہ نواز شریف صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ طالبان کے اتحاد کو توڑنا حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کسی نام سے بھی کارروائیاں ہوتی ہیں تو حکومت کو کسی مرحلے پر اپنا آہنی ہاتھ استعمال کرنا ہی پڑے گا۔

وزیر خزانہ برادراسحٰق ڈار فرماتے ہیں کہ سعودی عرب کی طرف سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی خطیر رقم کا پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ میں پارک ہونا حکومت کی کامیاب اقتصادی پالیسیوں کا مظہر ہے۔ ڈالر کو واپس ایک سو روپے پر لانا بھی بہت بڑی کامیابی گنوایا جا رہا ہے اور یہ نوید بھی سنائی جارہی ہے کہ مشکل وقت گزر چکا ہے آگے سب خیر ہے ۔ ملکی معیشت کے لاغر جسم میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا ٹیکہ لگنے سے اس میں جان تو آجائے گی۔ لیکن گزشتہ حکومت کے دور میں مسلم لیگ (ن) بالخصوص میاں برادران بطور اپوزیشن حکومت کو نکو بناتے تھے کہ پاکستان پر بیرونی قرضوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا گیا ہے اور آئی ایم ایف کا پیکج بھی انہی کا شاخسانہ ہے۔ اب نہ خوب کو بھی خوب بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔جیو سٹریٹجک صورتِ حال بھی ایک عجیب مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ بدلے ہوئے حالات میں مشرق وسطیٰ کی بادشاہتیں خود کو متزلزل محسوس کر رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے جمی برف پگھل گئی ہے۔

شام میں القاعدہ کے جھنڈے گاڑنے کے بعد مغرب نے کسی حد تک بشارالاسد کے آمرانہ اور ظالمانہ ہتھکنڈوں سے صرف نظر کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما جو ریڈ لائن لگانے کی دھمکی دے چکے تھے اپنے الٹی میٹم سے پھر چکے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا کیونکہ بعض حلقوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ پاکستان کہیں ضیاء دور میں افغان جہاد میں اپنی انگلیاں جلانے کے بعد جس کاہم خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں اب سعودی عرب کے ایما پر ‘شامی جہاد’ میں حصہ لینے جارہا ہے۔ ایسا کرنا خود کشی کے مترادف ہوگا لیکن امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔کیونکہ برادر ہمسایہ اسلامی ملک ایران کے خلاف محاذ آرائی کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔ ایران تو ایک طرف خطے کے دوسرے ملک جن میں روس، چین، بھارت اور موجودہ افغانستان بھی شامل ہیں اس پالیسی کی حمایت نہیں کریں گے
اے طائرلاہوتی، اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
میاں نواز شریف کو چاہیے وہ دو ٹوک انداز میں اس معاملے میں پالیسی بیان دے کر ابہام کو دور کریں ۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں