یہ ہمارے بھارتی فلمی مہمان

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ہمارے حکمرانوں نے جب سے بھارت کی پرستش شروع کی ہے تب سے پاکستانی بھارت پرست بھی شیر ہو گئے ہیں اور ان کے بھارتی مہمان بھی ان کی شہ پا کر دونوں ملکوں کے درمیان ’’دوریاں‘‘ ختم کرنے کے در پے ہو گئے ہیں۔ ہمارے حکمران تو کچھ عرصہ سے خاموش ہو گئے ہیں شاید کسی مشیر نے ان کو سمجھا دیا ہے کہ بھارت کے سرپرست امریکا کی کمک آنے سے پہلے پاکستانی عوام کے ہاتھوں ان کا اقتدار خطرے میں پڑ سکتا ہے یا وہ مقتدر رہتے ہوئے بھی ناپسندیدہ ہو سکتے ہیں اس لیے فی الحال اپنی بے چینی پر قابو پا لیں تو بہتر ہے، دل کے بہلانے کے لیے سڑکیں اور پل بنانے کے نیک کام میں زیادہ مصروف ہو جائیں۔ ایسے کام دکھائی بھی دیتے ہیں اور مفید بھی ہیں۔ اس دوران ہمارے حکمرانوں کی سابقہ پالیسی کے مطابق اور اسے آگے بڑھانے کے لیے بھارت کے فنکار بھی میدان میں آ گئے ہیں۔ ایک اداکار شری اوم پوری ان دنوں یہ نعرہ لگاتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئے کہ جب دونوں ملکوں کی ثقافت اور تہذیب ایک ہے تو یہ جپھی کیوں نہیں ڈال لیتے۔ ان کا دونوں ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو یکساں قرار دینا پاکستان کے وجود کی کھلی مخالفت تھی کیونکہ پاکستان کے قیام کی جو وجوہات تھیں ان میں سر فہرست یہ تھی کہ مسلمانوں کو ایک ایسا ملک چاہیے جہاں وہ اپنی مخصوص ثقافت اور اسلامی تہذیب کو زندہ رکھ سکیں اور ہندوستانی نہیں پاکستانی بن کر اپنا تعارف کرا سکیں اور بھی بہت کچھ تھا جو پاکستان کے قیام کا باعث تھا لیکن ان دنوں ثقافت کی بات زیادہ ہو رہی ہے جسے دونوں ملکوں میں یکساں قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے بڑا جھوٹ کوئی متعصب بھارتی ہندو ہی بول سکتا ہے جسے فلمی دنیا سے باہر کا کچھ علم نہ ہو اگر کوئی دونوں ملکوں کی ثقافت اور کلچر کو ایک جیسا کر سکتا ہے تو اس معجزے پر اسے تاریخ سے داد ملے گی۔

بھارتی اوم پوری صاحب ہمارے سیاسی لیڈروں سے بھی ملے اور انھوں نے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہیٰ کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔ بھارت کے ان مہمانوں نے پاکستانیوں کی مہمان نوازی کی بہت تعریف کی جس پر ان کا شکریہ ادا کیا اور لاہور شہر سے اپنی شیفتگی کا اظہار بھی کیا۔ چوہدری صاحبان جو عام زندگی میں بھی مہمان نواز مشہور ہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھوں نے بھارتی مہمان کی خاطر تواضح میں کھانے سے آگے بڑھ کر بھارت سے محبت کا اظہار بھی کیا یا نہیں لیکن یہ طے ہے کہ انھوں نے حسب روایت مہمان کو ہر لحاظ سے خوش کر کے بھیجا ہو گا۔ ہمارے اس بھارتی مہمان نے اپنی آمد پر تو مشترکہ کلچر وغیرہ کی بات کی تھی لیکن پھر وہ اس پر خاموش رہے اور یہ اچھا ہوا کیونکہ ان کی یہ بات یکسر حقیقت کے برعکس تھی تاہم انھوں نے ایک بات کہی کہ فنکاروں کے تمام ملک ساجھے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ کسی ادبی تقریب میں بھارت کے ایک مندوب نے کہا تھا کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ مرحوم سید محمد جعفری بھی اس محفل میں موجود تھے انھوں نے بلند آواز میں کہا کہ فن کی سرحد ہو نہ ہو فنکار کی سرحد ضرور ہوتی ہے یعنی وہ خود بھارتی یا پاکستانی ہوتا ہے۔

بھارت کی پاکستان دشمن کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور بھارت کے حکومتی پالیسی سازوں کو پاکستان کا وجود برداشت نہیں ہوتا۔ بلوچستان میں بھارت تخریب کاری کر رہا ہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں۔ اسی طرح ان دنوں پاکستان کے اندر جو دھماکے ہو رہے ہیں ان کے پیچھے بھی بھارت کا ہاتھ ہے اور بھارت نے ہمارا پانی جس طرح بند کر رکھا ہے جب بھی کوئی غیرت مند پاکستانی یا یوں کہیں کہ پاکستان پرست حکمران آیا تو وہ اس خطرناک اور تباہ کن جارحیت پر خاموش نہیں رہ سکے گا۔ آج ہم ایک تھر کو رو رہے ہیں بھارت ہمارے ملک میں نہ جانے کتنے تھر اور ریگستان بنانے کا عزم کر چکا ہے۔ بھارت ہماری اس ثقافت کو مٹانے کی فکر میں ہے جس کو بھارتی فلمی فنکار ہماری سرپرستی کرتے ہوئے اپنے جیسی ثقافت بھی قرار دیتے ہیں اور ہم پاکستانی ان باتوں کو مہمان نوازی کے آداب میں شمار کر کے چپ رہتے ہیں۔ اب تو حالت یہ ہے کہ ہمارے سینماؤں میں بھارتی فلمیں دکھائی جا رہی ہیں، یہ کیسی ہیں ان کے بارے میں پاکستانی طالب علموں کے ایک گروہ نے انھیں دیکھنے کے بعد گھر لوٹ کر احتجاج کیا ہے، انھیں دیکھ کر شرمندگی ظاہر کی ہے۔ ہمارے ٹی وی کے مختلف چینلز پر بھارتی فلموں کے بارے میں پروگرام مسلسل چل رہے ہیں اور ہمارے قومی اخباروں میں ہر روز پورا ایک صفحہ بھارتی فلموں کے بارے میں ہوتا ہے۔ ہماری فلم انڈسٹری تو اب ناکام ہو چکی ہے، اس لیے فلم کے نام پر بھارتی فلموں کا ذکر ہی ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی فلموں کے اداکار بھی اب سارے ملک کی بنیادوں پر حملے کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا کہ ایک بھارتی لیڈر سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ بھارتی لوگ فکر نہ کریں پاکستان کے لیے بھارتی فلمیں ہی کافی ہیں۔ بھارت کی اس خاتون لیڈر کی بات خدا نہ کرے کہ سچ ثابت ہو لیکن لگتا ہے کہ بھارتی فلمیں اثر انداز ہونی شروع ہو چکی ہیں اور ہم بھارتی فلمی لوگوں کی بھی ملک دشمن باتیں برداشت کر رہے ہیں۔

ایک بھارتی اداکار نے کہا ہے کہ اگر دو جرمنی ایک ہو سکتے ہیں ان کے درمیان کی دیوار گر سکتی ہے تو پاکستانی اور بھارت دونوں کیوں نہیں ایک ہو سکتے۔ ایسی باتیں ان پڑھ اور بے خبر یا بددیانت لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ جرمنی کے دونوں حصوں میں فرق ہی کیا تھا، ایک مذہب ایک تہذیب ایک زبان جغرافیہ سب کچھ ایک جو کسی قوم میں ہو سکتا ہے وہ تو جنگوں کے نتیجے میں تقسیم کر دیے گئے جو موقع ملتے ہی ایک ہو گئے۔ بھارت اور پاکستان میں کون سی ایسی چیز مشترک ہے جو ان کو پھر سے ایک کر سکتی ہے۔ پاکستانیوں کو عقل سے کام لینا ہو گا اور بھارت تو جو ہے وہ ہمیں معلوم ہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں