مذاکرات

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

بیربل اکبر اعظم کے نورتنوں میں شامل تھا‘ اکبر ان پڑھ تھا‘ وہ اپنے والد ہمایوں کی جلاوطنی کے دوران سندھ کے علاقے عمر کوٹ میں پیدا ہوا ‘ وہ ہمایوں کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا‘ وہ کسی جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکا‘ وہ ایران‘ افغانستان اور ترکی کے علاقوں میں مارا مارا پھرتا رہا‘اکبر کا بچپن ان حالات میں گزرا لہٰذا وہ تعلیم حاصل نہ کر سکا‘ وہ 13 سال کی عمر میں ہندوستان جیسی بڑی سلطنت کا بادشاہ بھی بن گیا‘ وہ بادشاہت کے ابتدائی برسوں میں سلطنت کے استحکام میں مصروف رہا‘ ہندوستان جب پوری طرح اکبر کے کنٹرول میں آ گیا تو اسے اپنے ان پڑھ ہونے کا احساس ہونے لگا‘ اس نے اپنی کم علمی کا عجیب حل تلاش کیا‘ اس نے آگرہ سے لے کر سمرقند تک کروڑوں لوگوں میں سے 9 انتہائی پڑھے لکھے‘ ذہین‘ عالم اور ماہر لوگ اکٹھے کیے‘ ان لوگوں کو اپنے اردگرد بٹھایا اور پوری زندگی ان لوگوں کے ساتھ گفتگو میں گزار دی‘ اکبر ان نو لوگوں کو اپنے رتن کہتا تھا‘ بیربل بھی اکبر کے ان نورتنوں میں شامل تھا‘ یہ ذات کا بھانڈ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے حاضر جوابی‘ معاملہ فہمی‘ انسانی نفسیات کو سمجھنے اور حسن ذوق کی دولت سے نواز رکھا تھا‘ اکبر بیربل کی صلاحیتوں کا معترف تھا اور وہ ہر وقت اسے اپنے ساتھ رکھتا تھا۔

اکبر ہندوستانی تاریخ کا عظیم سپہ سالار بھی تھا‘ ملک کے کسی نہ کسی کونے میں اپنی فوجیں بھجواتا رہتا تھا‘ وہ روز صبح کے وقت فتوحات کی رپورٹ پڑھتا تھا اور ہر فتح کی خبر سن کر خوش ہوتا تھا‘ بیربل بادشاہ کی یہ خوشی روز دیکھتا تھا‘ ایک دن اس کے دماغ میں خیال آیا کاش میں بھی کوئی جنگ لڑوں‘ میں بھی کوئی فتح حاصل کروں اور میری فتح کی خبر سن کر بھی بادشاہ اسی طرح خوش ہو‘ یہ خیال آنے کی دیر تھی‘ بیربل نے بادشاہ سے لشکر کی قیادت کا مطالبہ کر دیا‘ بادشاہ نے انکار کر دیا مگر بیربل اڑ گیا‘ بادشاہ انکار کرتا رہا‘ بیربل اصرار کرتا رہا یہاں تک کہ بادشاہ نے ہار مان لی‘ یہ وہ دور تھا جس میں اکبر نے دین اکبری کے نام سے نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی‘ ہندوستان کے زیادہ تر علاقوں نے اکبر کا مذہب تسلیم کر لیا لیکن افغانستان کی سرحد پر موجود یوسف زئی قبیلے نے دین اکبری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا‘ اکبر نے لشکر تیار کیا‘ بیربل کو اس لشکر کا سپہ سالار بنایا اور اسے یوسف زئی قبیلے کی سرکوبی کے لیے آج کے فاٹا کی طرف روانہ کر دیا‘ یہ لشکر جب رخصت ہوا تو اکبر کو بیربل کی جان کی فکر ہو گئی چنانچہ اس نے بیربل کے لشکر کی حفاظت کے لیے ایک اور لشکر تیار کیا اور یہ لشکر اپنے سب سے جری کمانڈر مان سنگھ کے حوالے کر کے اسے بھی فاٹا روانہ کر دیا‘ یہ دونوں لشکر آج کے قبائلی علاقوں میں پہنچے‘ قبائلیوں کے ساتھ ان کی لڑائی ہوئی‘ ان دونوں لشکروں کو شکست ہوئی‘ بیربل اس جنگ میں مارا گیا جب کہ مان سنگھ بھاگ کر ایبٹ آباد کے علاقے میں پناہ گزین ہو گیا‘ یہ جس جگہ پناہ گزین ہوا وہاں ایک شہر آباد ہو گیا‘ وہ شہر شروع میں مان سنگھ کی مناسبت سے مان سرائے مشہور ہوا اور وہ بعد ازاں مانسہرہ ہو گیا۔

پاکستان کے قبائلی لوگ سیکڑوں ہزاروں سال سے تخت کابل‘ تخت دہلی اور تخت لاہور سے لڑتے آ رہے ہیں‘ یہ آج بھی پاکستانی ریاست سے برسر پیکار ہیں‘ ہم قبائلیوں سے لڑ سکتے ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم محمود غزنوی‘ امیر تیمور‘ اکبر اعظم اور لارڈ ڈلہوزی سے زیادہ مضبوط ہیں‘ کیا ہماری سلطنت ان فاتحین سے بڑی ہے؟ کیا ہمارے پاس ان سے زیادہ فوج ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہم کیوں چاہتے ہیں ہم بھی اپنے بیربلوں سے محروم ہو جائیں؟ ہم تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے؟ حکومت کے طالبان سے چوتھے مذاکرات شروع ہو چکے ہیں‘ مذاکرات کی پہلی کوشش میاں نواز شریف نے فضل الرحمن خلیل اور میجر عامر کے ذریعے کی‘ فضل الرحمن خلیل کا طالبان کی قیادت حکیم اللہ محسود سے رابطہ ہوا‘ انھوں نے حکیم اللہ محسود کو وزیر داخلہ چوہدری نثار کا ایک خط پہنچایا‘ خط میں مذاکراتی ٹیم کے نام تھے‘ حکیم اللہ محسود نے دو نام کاٹ دیے اور ان کی جگہ دو نئے نام تجویز کر دیے‘ یہ بڑی کامیابی تھی‘ اس کامیابی نے فضل الرحمن خلیل کا رویہ بدل دیا‘ چوہدری نثار اس رویئے سے نالاں ہو گئے اور یوں یہ مذاکراتی عمل ختم ہوگیا۔ مذاکرات کا دوسرا خفیہ عمل چوہدری نثار اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے کراچی کے چند علماء کرام کے ذریعے شروع کیا‘ طالبان حکومتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے تیار ہوگئے ‘ حکومت نے تین رکنی کمیٹی بنائی لیکن کمیٹی کے روانہ ہونے سے ایک دن قبل حکیم اللہ محسود ڈرون حملے کا نشانہ بن گیا یوں مذاکرات کا یہ عمل بھی ختم ہو گیا‘ مذاکرات کا تیسرا دور عرفان صدیقی اور مولانا سمیع الحق کی کمیٹیوں کے ذریعے شروع ہوا مگر یہ عمل بھی بدقسمتی سے 16فروری کو ایف سی کے 23 جوانوں کی شہادت کے بعد ختم ہو گیا اور اب مذاکرات کی چوتھی اور آخری کوشش جاری ہے۔

حکومت نے سرکاری اہلکاروں پر مشتمل چار رکنی کمیٹی بنا دی‘ طالبان جنگ بندی کا اعلان کر چکے ہیں‘ طالبان کی کمیٹی 14 مارچ کو میرانشاہ میں طالبان سے ملاقات کے بعد واپس آئی‘ میرانشاہ میں پروفیسر ابراہیم‘ مولانا عبدالحئی اور یوسف شاہ کی طالبان کی سیاسی شوریٰ سے ملاقات ہوئی‘ اس ملاقات میں طالبان کے نائب امیر شیخ خالد حقانی بھی موجود تھے‘ طالبان نے کمیٹی کے ذریعے ریاست کو تین پیغامات بھجوائے‘ پہلا پیغام‘ تین سو سے زائد لوگوں کی ایک فہرست ہے‘اس فہرست میں وہ بوڑھے‘ خواتین اور بچے شامل ہیں جو سوات آپریشن کے دوران گرفتار ہوئے اور انھیں شروع میں فوجی کیمپوں میں رکھا گیا‘ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو مالاکنڈ ایجنسی کے پلانی کے کیمپ میں رکھا گیا تھا‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے خاندان کا کوئی فرد تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہوا اور ریاستی اداروں نے اس جرم میں اس کے لواحقین اور رشتے داروں کو گرفتار کر لیا‘ اس فہرست میں ایسے لوگوں کے نام بھی شامل ہیں جن کے بارے میں طالبان نے دعویٰ کیا‘ ان کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘ یہ لوگ محض شک کی بنیاد پر سرکاری اداروں کی حراست میں ہیں‘ فہرست میں ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کے خاندان کے لوگ بھی شامل ہیں تاہم اس فہرست میں مسلم خان‘ محمود خان اور مفتی بشیرکے نام شامل نہیں ہیں‘ یہ تینوں حضرات 2009ء میں حکومت سے مذاکرات کے لیے آئے تھے اور سرکاری اداروں نے انھیں گرفتار کر لیا تھا‘ اس گرفتاری نے بعد ازاں ایسی غلط فہمیوں کو جنم دیا جن کی وجہ سے آج تک طالبان اور حکومت اکٹھی نہیں بیٹھ سکی‘ رہی سہی کسر حکیم اللہ محسود پر ڈرون حملے نے پوری کر دی‘ دوسرا پیغام مذاکرات کی جگہ کا تعین ہے۔

طالبان کا خیال ہے حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے بہترین جگہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل مکین ہے‘ یہ شہر رزمک سے صرف بیس منٹ کے فاصلے پر ہے‘ رزمک شمالی وزیرستان میں واقع ہے‘ یہ فوجی علاقہ ہے‘ یہاں کیڈٹ کالج بھی ہے‘ ہیلی پیڈ کی سہولت بھی موجود ہے اور فوج بھی۔ طالبان کا خیال ہے اگر مکین سے فوج کو ہٹا لیا جائے اور اس شہر کو فری پیس زون قرار دے دیا جائے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں‘ سرکاری ٹیم ہیلی کاپٹر کے ذریعے رزمک آ جائے اور وہاں سے گاڑیوں پر مکین پہنچ جائے تو طالبان کی سیاسی شوریٰ خفیہ ٹھکانوں سے نکل کر مکین آ جائے گی اور یوں مذاکراتی عمل شروع ہو جائے گا‘ طالبان نے گزشتہ سے گزشتہ ملاقات کے دوران پروفیسر ابراہیم کو یہ تجویز بھی دی تھی اگر پاکستان میں ممکن نہیں تو پھر ہم افغانستان‘ سعودی عرب‘ عراق اور یو اے ای میں بھی مذاکرات کر سکتے ہیں‘ حکومت کا ایک ڈیپارٹمنٹ اس تجویز پر بھی غور کر رہا ہے‘ یہ مذاکرات بحرین‘ سعودی عرب یا یو اے ای میں بھی ہو سکتے ہیں اور تیسرا پیغام‘ طالبان نے’’ احرار الہند‘‘ جیسے گروپوں کو ’’ڈس اون‘‘ کر دیا‘ ان کا کہنا تھا‘ ہم احرار الہند جیسے کسی گروپ سے واقف نہیں ہیں‘ اس گروپ میں کون لوگ شامل ہیں؟ ان کا ایجنڈا کیا ہے اور انھیں کون سپورٹ کر رہا ہے‘ ہم نہیں جانتے‘ طالبان نے یہ پیغام بھی بھجوایا‘ ہم تمام متحارب گروپوں کو اپنی چھتری تلے لائیں گے‘ یہ گروپ ہمارے معاہدے تسلیم کریں گے اور اگر کسی گروپ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ہم اس گروپ کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں گے اور اسے ریاست کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے‘ طالبان کے ان تینوں پیغامات کے علاوہ یہ پیغام بھی حکومت کو ملا ’’ حکومت نے شمالی وزیرستان میں درجنوں فضائی حملے کیے‘ ان حملوں میں ہمارا کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا‘ ہلاک شدگان کے بارے میں اطلاعات غلط ہیں‘ ان حملوں میں صرف عام لوگ‘ خواتین اور بچے مارے گئے ہیں۔

یہ پیغامات اور حکومتی کوششیں دونوں بہت واضح ہیں‘ حکومت اس بار بڑی حد تک کامیابی کے قریب پہنچ گئی ہے‘ یہ معاملہ تین چار میٹنگ میں حل ہو جائے گا لیکن سپائلر ایک بار پھر ایکٹو ہو چکے ہیں ‘مجھے خطرہ ہے سپائلر ان ملاقاتوں کے درمیان کوئی ایسی شرارت کر دیں گے جس کے نتیجے میں مذاکرات کی یہ چوتھی کوشش بھی ناکام ہو جائے گی کیونکہ یہ سپائلر اس مسئلے کا پرامن حل نہیں چاہتے‘ یہ پاکستان میں خانہ جنگی چاہتے ہیں‘ ایک ایسی خانہ جنگی جس میں ہمارے رہے سہے بیربل بھی ختم ہو جائیں اور ہمارے مان سنگھ باقی زندگی چھپ کر گزارنے پر مجبور ہو جائیں چنانچہ اب حکومت اور طالبان کو صرف مذاکرات نہیں کرنے بلکہ ان مذاکرات کو سپائلرز سے بھی بچانا ہے‘ امن کی فاختاؤں نے اب صرف انڈے نہیں دینے‘ ان انڈوں کی حفاظت بھی کرنی ہے مگر سوال یہ ہے کیا خون میں بھیگی ہوئی فاختائیں ایسا کر پائیں گی؟ کیا یہ امن کے انڈوں کی حفاظت کر سکیں گی؟ پاکستان کی بقا اس سوال میں پوشیدہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size