مور‘ بلاّ اور سیکیورٹی

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ہماری بد اعمالیاں اب اس انتہاء تک پہنچ چکی ہیں کہ ان کے جواب میں عذاب آنے شروع ہو گئے ہیں۔ تھر کے صحرا کو موت نے اپنے حصار میں لے لیا۔ ہڈیوں کے ڈھانچے جن کو انسانی بچے کہا گیا ان کے بھوکے نیم مردہ باپ ان کی لاشیں اٹھاتے رہے اور اٹھاتے چلے جا رہے ہیں۔ ہماری سخت دلی کہ ہم ان بچوں کے صرف اعدادوشمار جمع کرتے رہے کہ اب تک کتنے مر چکے ہیں۔ اس میں اختلاف رہا کہ صحیح تعداد کیا ہے یہ اختلاف جاری ہے، اسی دوران یہ عذاب تھر کے صحرا سے نکل کر اپنے سے دور دراز کے ایک اور صحرا چولستان میں بھی پہنچ گیا۔ پانی ذخیرہ کرنے کا واحد ذریعہ جنھیں مقامی زبان میں ٹوبھے کہا جاتا ہے مٹی سے بھر گئے، کسی نے ان کی بھل صفائی پر توجہ نہ دی چنانچہ ان میں پانی جمع کرنے کا ذخیرہ اتنا محدود ہو گیا کہ یہ برائے نام رہ گئے۔ اب چولستان سے لوگ اپنے مال مویشی لے کر ہجرت کر رہے ہیں ان زمینوں کی طرف جہاں پانی مل سکتا ہے اور کچھ چارہ بھی۔

آپ کو شاید پتہ نہ ہو یہ مویشی زندگی کا سب سے بڑا سہارا ہوتے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں تو ایک بیوہ نے مرغیوں کے انڈے بیچ کر اتنی رقم جمع کر لی کہ بیٹی کو بیاہ دیا۔ چولستان کے لوگ اپنے مویشیوں کو بچا کر یہاں سے بھاگ رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی بے حسی نہیں سنگ دلی اور بے رحمی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ یہ عذاب ایک معمول سمجھ لیا گیا ہے اور اس پر غور و فکر کے لیے پر آسائش کمروں میں چائے کی پیالیوں پر اجلاس جاری ہیں اور اخباروں کو بیان جاری کیے جا رہے ہیں۔ سچ ہے کوئی مصیبت اکیلی نہیں آتی اسی دوران یہ سانحہ بھی سامنے آیا کہ جاتی عمرہ میں میاں صاحب کے نجی چڑیا گھر کا ایک مور کسی بلے نے مار دیا۔ یہ مور چونکہ میاں صاحب کا تھا اس لیے نایاب بھی تھا اور لاکھوں کی مالیت کا بھی۔ اس سانحہ کے سامنے آنے پر لاتعداد محافظ معطل ہو گئے اور شکاری کتوں کی مدد سے اس بدتمیز خونی بلے کی تلاش بھی شروع ہو گئی جس نے سیکیورٹی کے اس بے مثل انتظام کے باوجود یہ واردات کر دی اور بچ کر نکل گیا۔ ناکام سیکیورٹی کے ہاتھوں اب نہ جانے کتنے بلے اس کے شبہے میں مارے جائیں گے لیکن مور پھر بھی زندہ نہیں ہو سکے گا۔ اس واردات سے یہ سبق ملنا چاہیے کہ زندگی اور موت کسی قسم کی سیکیورٹی کے ہاتھ میں نہیں ہے اور موت کے اپنے مخصوص طریقے ہیں جن کا مقابلہ آج تک کوئی انسان اور جاندار نہیں کر سکا۔

اگر موت کا توڑ کسی کے پاس ہوتا تو آج ترقی یافتہ دور میں کہیں نہ کہیں ضرور سامنے آ جاتا۔ آج کے حکمرانوں کے حالات سامنے رکھ کر دنیا کی تاریخ کے انتہائی قیمتی اور نایاب قسم کے حکمرانوں کی کسی بھی بات کا کوئی کیسے حوالے دے کہ شہر سے باہر کہیں تنہا جاتے ہوئے کسی نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ اچھا ہوتا آپ حفاظت کے لیے کسی کو ساتھ لے لیتے تو انسانی حکمرانی کی تاریخ کے اس بے مثل حکمران نے جواب دیا کہ یہ لوگ میری حفاظت کے لیے نہیں بلکہ میں ان کی حفاظت کا ذمے دار ہوں۔ زندگی کی حفاظت کا حکم ہے لیکن حفاظت کے اسباب میں زندگی کا کوئی جواز نہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی میں سرتا پیر گھری ہوئی اس جگہ پر ایک بلا اس قدر جرات کر سکتا ہے تو ایسی سیکیورٹی کو کسی بلے کے سامنے ڈال دینا چاہیے یعنی ہماری ایسی زبان میں کسی باگھڑ بلّے کے سامنے جو اس قدر بدذوق ہے کہ مور جیسے خوبصورت پرندے کو صرف خوراک سمجھتا ہے۔ ہمیں تو ایسے کسی مور کا ایک پر بھی مل جائے تو اسے شیشے کے فریم میں لگا کر دن رات سامنے رکھیں اور لطف لیتے رہیں۔

جاتی عمرہ کی سیکیورٹی کے افسر اور عام اہلکار ان دنوں اس بلے کے ہاتھوں جس عتاب میں ہیں میں اس بلے پر اس سے کہیں زیادہ برہم ہوں۔ مجھے تو یہ بلا کہاں ملے گا لیکن عرض ہے کہ اگر یہ سیکیورٹی کے ہتھے چڑھ جائے تو اس کو سزا دینے کے لیے پولیس کے ماہرین کی خدمات حاصل کریں مگر ایک ضروری گزارش یہ ہے کہ کسی بے گناہ بلے کو مار کر اپنے سر گناہ نہ لیا جائے بلکہ کسی مشکوک بلے کا ایکسرے یا الٹرا ساؤنڈ کرا کے تسلی کی جائے کہ کیا اس بلے کے اندر مور کی کوئی نشانی ملتی ہے یا نہیں۔ یہ اتنی لمبی چوڑی باتیں میں اس مور اور بلے کی وجہ سے لکھ رہا ہوں جو تھر وغیرہ کے بچوں سے بہر حال زیادہ اہم ہیں ویسے خود تھر کے اندر بچوں کے علاوہ کئی مور بھی مر چکے ہیں۔ وہ مور جو اس لق و دق صحرا میں ناچا کرتے تھے اور کوئی دیکھے یا نہ دیکھے وہ یہ رقص جاری رکھتے تھے شاید وہ اپنے اس رقص کے خود بھی عاشق تھے۔ قدرت نے مور کو جو خوبصورت اور دلربا قسم کے پر دیے ہیں اور ناچ کے وقت وہ جس طرح پھیلتے ہیں کوئی بلا ہی قدرت کے اس حسن و جمال کی توہین کر سکتا ہے۔

جاتی عمرہ کی اس وسیع و عریض دنیا میں آباد موت بھی پرند و چرند کے ساتھ ہے اور سیکیورٹی کا کوئی حصار اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن بلوں کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔ میں جب گاؤں میں رہتا تھا تو میں نے بھی ایک بلا پال رکھا تھا لیکن اس ناہنجار کی کہانی اور کرتوت میں پھر کسی مناسب موقع پر بیان کروں گا، فی الحال یہ گزارش ہے کہ خطرناک انسانوں کی طرح اس علاقے کے گردونواح میں خطرناک بلوں وغیرہ کی بیخ کنی بھی ضروری ہے۔ جس قدر ممکن ہو موت کے راستے بند کر دیے جائیں اور سیکیورٹی والے یہاں سرگرم چاپلوسوں پر بھی کڑی نظر رکھنے کے لیے ایک خصوصی شعبہ قائم کریں جو بلوں سے کم خطرناک نہیں ہیں اور کئی مور ان کی نظروں میں ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں