وزیراعظم صاحب! خبردار

حامد میر
حامد میر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اخبارات میں شائع ہونے والی ایک تصویر نے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ میں اس تصویر کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا کہ میں کیوں مسکرا رہا ہوں۔ مجھے اس تصویر میں ایک حقیقت اور سو افسانے نظر آ رہے تھے۔

بدھ کے اخبارات میں شائع ہونے والی اس تصویر میں وزیراعظم نوازشریف کے دائیں طرف وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور بائیں طرف وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے ساتھ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کھڑے ہیں۔

اخبارات کی خبریں بتا رہی ہیں کہ اس تصویر میں موجود ملک کے سات طاقتور افراد نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر طالبان سے مذاکرات کے ذریعے امن قائم نہ ہوا تو پھر حکومت طاقت استعمال کرے گی نیز انٹیلی جنس اداروں میں روابط کو بہتر بنانے کےلئے ایک انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ بھی قائم کیا جائے گا۔ اس تصویر کو دیکھ کر یہ تاثر ملتا ہے کہ ملک کی سیاسی و فوجی قیادت ملکی سلامتی کے تحفظ کے لئے متحد ہوچکی ہے لیکن اس تصویر کے ارد گرد شائع ہونے والی خبروں کی سرخیاں کچھ اور ہی بتا رہی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکمران ملکی سلامتی کے خلاف کوئی فیصلہ کریں تو فوج بغاوت کر دے۔

اس سے بھی زیادہ اہمیت ایک اور خبر کی ہے جس میں سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے کہا ہے کہ اگر 35لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ 35افراد کے مقدمے کی 34سماعتیں ہوچکی ہیں لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ جج صاحبان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے اور انہیں ترلے منتوں پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ایک اورخبر کہہ رہی ہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمے میں فوجی حکام کی ضد کے باعث وزیراعظم کے سر پر توہین عدالت کی تلوار لٹک رہی ہے۔ یہ تلوار دسمبر 2013 سے لٹک رہی ہے جب اس مقدمے میں سیکرٹری دفاع کو عدالت نے طلب کیا تو وہ بیماری کا جواز بنا کر عدالت میں نہیں آئے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سیکرٹری دفاع کی غیر حاضری پر وزیر دفاع کو طلب کرلیا تھا۔ اس وقت وزارت دفاع کا منصب وزیراعظم کے پاس تھا لہٰذا وزیراعظم نے فوری طور پر یہ منصب خواجہ محمد آصف کے حوالے کیا اور پھر وہ عدالت میںپیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت سے بار بار وقت لیا۔ 35میں سے گیارہ افراد کو عدالت میں لایا گیا۔ دوکے بارے میں کہا گیا کہ ان کی موت واقع ہوگئی باقی کے بارے میں کبھی کہا گیا کہ وہ افغانستان روپوش ہو گئے کبھی کہا گیا کہ بہت جلد عدالت میں پیش کر دیئے جائیں گے۔ خواجہ صاحب عدالت سے وقت لیتے رہے اور افتخار محمد چوہدری ریٹائر ہوگئے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدالت نے کافی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اب پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے۔ اپنے آپ کو عدالت سے زیادہ طاقتور سمجھنے والے کچھ افراد نے ایک طرف قانون کو مذاق بنا دیا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم نوازشریف کو بھی انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ کچھ لوگ جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ وزیراعظم نوازشریف کے خلاف بھی توہین عدالت کے الزام میں ویسا ہی فیصلہ کر دے جیسا وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سنایا گیا تھا۔

وزیراعظم نوازشریف چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور آرمی چیف کے ساتھ جتنے چاہیں گروپ فوٹو بنوا سکتے ہیں اور اخبارات میں شائع بھی کروا سکتے ہیں لیکن جب تک لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو اخبارات میں شائع ہونے والی کسی بھی تصویر کو حقیقت نہیں سمجھا جائے گا۔ بدھ کے اخبارات میں شائع ہونے والی تصویر میں موجود وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک آج بھی یہ کہتے ہیں کہ ان کے صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لئے وہ باربار وزیراعظم اور آرمی چیف سے درخواستیں کرتے رہتے ہیں۔ طاقتور لوگ انہیں چپ کرانے کے لئے مختلف طریقوں سے تنگ کر رہے ہیں لیکن یہ طاقتورلوگ بھول رہے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالمالک کی ناکامی ایک فرد کی نہیں بلکہ ریاست کی ناکامی تصور کی جائے گی۔ یہ وہ شخص ہے جو زمانہ طالبعلمی میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوا۔ پھر اس نے ہتھیار رکھ دیئے اور اپنے حقوق کے لئے سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ سیاست اور جمہوریت کے ذریعے وہ بلوچستان کا وزیراعلیٰ بن گیا لیکن اگر وزارت ِ اعلیٰ دے کر اسے ذلیل و خوار کیا گیا تو سوچ لیجئے نقصان کس کا ہوگا؟ نقصان صرف اور صرف پاکستان کا ہو گا اور فائدہ ان کا ہوگا جو کہتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست ڈائیلاگ کی نہیں طاقت کی زبان سمجھتی ہے۔ آج وزیراعظم نوازشریف ڈائیلاگ کے ذریعے بدامنی سے نجات کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن باخبر لوگ جانتے ہیں کہ ڈائیلاگ کو دھوکے میں تبدیل کرنے کے خواہش مند منتخب وزیراعظم سے زیادہ طاقتور ہیں۔

سچی بات ہمیشہ کڑوی ہوتی ہے۔ میری بات کچھ لوگوں کو کڑوی لگے گی لیکن مجھے خدشہ ہے کہ ڈائیلاگ کی حالیہ کوششوں کے پردے میں نوازشریف کو چوہدری شجاعت حسین بنا دیا جائے گا۔ یاد کیجئے۔ 2006میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات کے لئے چوہدری شجاعت حسین کو استعمال کیا گیا۔ بگٹی صاحب نے کبھی پاکستان کے خلاف بات نہ کی تھی لیکن جنرل پرویز مشرف نے انہیں ملک دشمن قرار دے دیا کیونکہ وہ اپنے علاقے میں زیادتی کا شکار بننے والی ایک خاتون ڈاکٹر کے لئے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بگٹی صاحب نے 1947 میں نہ صرف پاکستان کی حمایت کی بلکہ کوئٹہ میں قائداعظم ؒ کے ساتھ ملاقات کر کے ریفیوجی ریلیف فنڈ میں دس ہزار روپے کا عطیہ بھی دیا لیکن مشرف نے بگٹی صاحب کی ذاتی رہائش گاہ پر بمباری کروادی۔ ردعمل میں بگٹی قبائل نے بھی پہاڑوں میں مورچے سنبھال لئے تو چوہدری شجاعت حسین کو مذاکرات کے لئے بھیجا گیا۔ مذاکرات کا مقصد صرف فوجی آپریشن کی تیاری تھی اوراس آپریشن میں بگٹی صاحب کو ختم کردیا گیا۔ بگٹی صاحب کی موت نے بلوچستان میں جو آگ بھڑکائی وہ آج تک بجھ نہیں پائی۔ 2007میں ایک دفعہ پھر چوہدری شجاعت حسین کے ذریعے لال مسجد والوں سے مذاکرات کئے گئے۔

ان مذاکرات کا میں عینی شاہد ہوں کیونکہ مذاکرات کا آغاز جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے ذریعے ہوا۔ میں مشرف حکومت کے ایک وزیر طارق عظیم کو لال مسجد کے اندر لے کر گیا جہاں مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی کے ساتھ لائیو پروگرام میں مذاکرات پر اتفاق ہوا۔ پھر چوہدری شجاعت حسین نے مذاکرات شروع کئے۔ مختلف مراحل میں عبدالرشید غازی اپنا فون نمبر بدلتے رہے اور میں نیا نمبر چوہدری شجاعت حسین کو دیتا رہا۔ بات چیت چلتی رہی۔ اس بات چیت میں اس وقت کے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کی درخواست پر میں نےاسلام آباد کے کچھ جید علما کو بھی شامل کر دیا۔ اعجاز الحق کو بھی میں مذاکرات کے لئے مسجد میں لے کر گیا۔ جب مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھنے لگے اور غازی صاحب نے چوہدری شجاعت حسین کی سب شرائط تسلیم کرلیں تو آپریشن کردیا گیا اور مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمٰن خلیل کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن چوہدری شجاعت حسین نے انہیں اپنے گھر میں چھپا کر گرفتاری سے بچایا۔ بگٹی صاحب اور عبدالرشید غازی صاحب کے ساتھ مذاکرات کے نام پر دھوکہ ہوا اسی لئے آج کل حکومت اور طالبان میں جو مذاکرات چل رہے ہیں ان کے بارے میں اکثر لوگ زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے مذاکرات کے نام پر جو دھوکے کئے ان کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ مشرف نے چوہدری شجاعت حسین کو استعمال کیا تھا لیکن وزیراعظم نوازشریف طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والی تصاویر کے ذریعے وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سیاسی و فوجی قیادت متحد ہے۔ خدانخواستہ مذاکرات ناکام ہوگئے تو ذمہ داری کسی اور پر نہیں صرف نوازشریف پر آئے گی۔ وزیراعظم نوازشریف نہ صرف چوہدری شجاعت حسین بلکہ یوسف رضا گیلانی کے انجام سے خبردار رہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں