.

اتر پردیش اور بھارت کے مسلمان

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت ایک ارب 20 کروڑ کی آبادی کا ملک ہی نہیں بلکہ اس دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوئے دار بھی ہے۔ گو اس کے آئین کی بنیادیں بھی سیکولر ازم پر اٹھی ہیں مگر انتخابی کھیل نے سیاست کو مفاداتی گروپوں ، پس ماندہ قوموں اور اقلیتوں کے حقوق کی جدوجہد میں تبدیل اور تقسیم کر دیا ہے۔ جہاں ہندو قوم پرستی کا غلبہ بھی نمایاں ہو رہا ہو وہاں سماج کی سیاسی تقسیم کو کوئی نہیں روک سکتا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ کچھ قوتیں ابھی تک سیکولر ازم کو بھارت کا مستقبل سمجھتی ہیں۔

16 ویں لوک سبھا انتخابات 7 اپریل سے 19 مئی تک 9 مرحلوں میں تو مکمل ہو جائیں گے مگر مسلمانوں کا سیاسی حوالے سے بہت برا حال ہے۔ مسلم جماعتوں میں نہ اتحاد ہے اور اتفاق ۔20 کروڑ آبادی کی طاقت رکھنے والے مسلمانوں کی طاقت اور آواز اس لئے دب رہی ہے کہ آبادی میں تو تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں مگر پارلیمنٹ میں ان کی تعداد تیزی سے روبہ زوال ہے۔ کسی تجزیہ کرنے والے کو اس سے کبھی اعتراض نہیں ہو گا کہ انتخاب کے عمل میں مسلمان جس جماعت کی طرف رخ کرتے ہیں وہ جماعت اپنے سر پر حکمرانی کا تاج رکھنے کے قابل ہو جاتی ہے۔

گزرے تین لوک سبھا انتخاب کے اعدادو شمار کو دیکھیں تو 543 پارلیمانی نشستوں میں بھارت کی 16 ریاستوں میں 150 حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمان کوشش کریں تو ان کی سیاسی حالت بہتر ہو سکتی ہے یا دوسری جماعتوں سے بارگینگ کر کے مسلمانوں کی حصہ داری کو بڑھا سکتے ہیں۔ اتر پردیش جہاں 80 لوک سبھا نشستیں ہیں۔ وہاں 45 نشستیں ایسی ہیں جہاں مسلمان ووٹ نتائج کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح صوبہ بہار میں 17، بنگال اور مہارشٹرا میں 14,14، کیرالہ اور کرناٹک میں دس، دس، آندھرا پردیش جو اب دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے یہاں 7 ، آسام میں بھی سات، جھاڑ کھنڈ میں 6 ، جموں اور گجرات میں 5,5اتر کھنڈ ، دہلی اور راجھستان ، مدھیہ پردیش، ہریانہ میں 2,2حلقوں میں مسلمان تقسیم ہو کر اور بٹ کر ووٹ ڈالتے ہیں۔ اتنی طاقت رکھنے کے باوجود خود آپس میں لڑتے ہیں اور تقسیم ہو کر بے وقعت اور بے وقار ہو جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ جہاں مسلمانوں کی تعداد 70سے زیادہ ہونی چاہئے تھی 2004 ء میں صرف 34 جب کہ 2009 ء کے الیکشن میں گھٹ کر 30رہ گئی جب کہ 543میں سے 84لوک سبھا نشستیں شیڈول کاسٹ کے لئے مخصوص ہیں۔ مسلمانو ں کی پس ماندگی دور کرنے کا رونا مسلمان اس وقت تک روتے رہیں گے جب تک لوک سبھا میں یہ بڑی تعداد میں داخل ہو کر اپنی آواز بلند نہیں کرتے۔

تھوڑا سا ذکر ہو جائے عام عوام پارٹی کے کجریوال کا جو گاندھی وادیوں کو اکٹھا کرنے کے لئے سر پر گاندھی ٹوپی رکھ کر سیاسی شفافیت کی باتیں تو کر رہے ہیں ان کی انتخابی مہم کا طرز عمل بتا تا ہے کہ وہ بھی اقتدار کے بھوکے ہی ہیں ان کے فلسفہ ، طرز عمل اور طریقہ کار میںٌ گاندھی ازمٌ کی جھلک نظر نہیں آتی۔ انہوں نے لوک سبھا کے لئے جن امیداوروں کا انتخاب اور انتظام کیا ہے ان کے ٹکٹ ہولڈروں کی بڑی تعداد ایسے امیدواروں کی ہے جو بین الاقوامی این جی اوز سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ تاثر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جوپارٹی عام آدمی کا نعرہ لے کر نکلی تھی اس نے بھی عام آدمی کے لئے دروازے بند کر دیئے ہیں اور بھارتی سیاست میں یہ فیکٹر مشکوک ہوتا نظر آ رہا تھا یہی وجہ ہے کہ کجریوال کو انتخابی مہم چلانے میں پریشانی اور دشواری نظرآ رہی ہے۔ یوپی کی سیاست میں گھمسان کا رن پڑے گا۔ سماج وادی پارٹی اس وقت صوبے میں حکمران جماعت ہے۔

ملائم سنگھ یادیو جو پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ رہے ہیں الیکشن میں وہ اب یا کبھی نہیں کی حکمت عملی اپنائے بیٹھے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مودی کو شکست دینے کے لئے بھارت کی زمام اقتدار ان کے ہاتھ میں آ جائے تو وہ سب نفرتیں ختم کر دیں گے اور وزیراعظم بن کر بھارت کے سیکولر امیج کو درست سمت میں لگا دیں گے۔ یہی آس لے کر وہ گیارہ جماعتوں کے اتحاد میں شامل ہو چکے ہیں۔ مگر ان گیارہ کی گیارہ جماعتوں کی حالت بھی خوب ہے نہ حکمت عملی نہ منصوبہ بندی نہ مشترکہ لائحہ عمل۔ خود ملائم کا کھیل بھی خراب ہے۔ ان کے بیٹے وزیراعلیٰ ہیں لیکن ان کی گورننس مسلسل ناکام ہو رہی ہے۔ 2012ء میں ملائم کی پارٹی کو یو پی میں حکومت سازی کا جو موقع میسر آیا تھا ۔ اس میں سب سے بڑا حصہ مسلمانوں کا ہی تھا جن کو ملائم سنگھ نے کچھ سبز باغ دکھائے اور امیدوں کے دیئے جلائے تھے مگر وعدے محض امید فردا ہی رہے۔ ان کے بیٹے کی سرکار میں مظفر نگر کے فسادات کیا ہوئے ان کا سیکولر ازم خود بے نقاب ہو گیا۔ دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی کی مایا وتی ملائم کی امیدوں ، آرزوؤ ں اور سپنوں کے راستے کو روکے کھڑی ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ گزرے تین انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی کا مقام یہاں تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہی نظر آتا ہے۔

2014ء مقابلے کا میدان ملائم سنگھ اور مایا وتی کے درمیان سجے گا اور مسلمان 80میں سے 45 نشستوں پر فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا دعوی کرتے رہیں گے۔ مسلمان متحد ہو کر یوپی کی بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔ مگر وہ اس لئے نہیں بن پاتے کہ ایک نشست پر کئی کئی مسلم امیدوار کئی جماعتوں کا ٹکٹ لے کر آجاتے ہیں ووٹ تقسیم ہوتے ہیں اور سب ناکام ہو تے ہیں۔ جہاں تک مایا وتی کا تعلق ہے 2009ء لوک سبھا انتخابات میں ان کی جماعت ملائم سنگھ کے قریب تو نظر آتی ہے انہیں یہ شاندار کامیابی اس لئے ملی کہ وہ یوپی کی وزیر اعلیٰ تھیں۔ ریاستی طاقت بھی تھی ، انتظامیہ تھی، لوگوں کو مراعات دینے کی پوزیشن میں تھی۔ اب وہ وزیراعلیٰ نہیں ہے لیکن انہوں نے اپنے حریف ملائم سنگھ کا راستہ روکنے کا بندوبست کر رکھا ہے۔

مگر مایا وتی کے ساتھ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ان پر کرپشن کے سنگیں چارجز ابھی تک جڑے ہوئے ہیں۔ جن دنوں وہ راجیہ سبھا کی ممبر تھیں انہوں نے جو گوشوارے اور ٹیکس کی جو تفصیلات جمع کرائی تھیں اس سے بھارت کے شہری چونکے۔ جب ان کا نام ملک کے زیادہ ٹیکس دینے والوں میں شامل تھا نہ تو کوئی کاروبار اور نہ ہی آمدن کے کوئی ذرائع پھر کیا تھا ان کے خلاف تحقیقات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ بنیں تو اس وقت بھی ان کا محل بہت سے سوالات کو جنم دے رہا تھا۔ راہول گاندھی اور پریانکا اس وقت یہا ں کافی زور لگا رہے ہیں۔دونوں کی دادی اور دادا بھی یو پی سے کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ووٹوں کی وجہ سے یہ صوبہ طویل عرصہ تک کانگریس کا گڑھ بنا رہا ہے۔ اندراگاندھی کے شوہر فیروز گاندھی کا تعلق بمبئی سے تھا مگر وہ رائے بریلی کی نشست سے کامیاب ہوتے رہے ۔ بعدازاں اندراگاندھی اپنے آنجہانی شوہر کی نشست سے کامیاب ہوئیں۔ 1977ء میں مرار جی ڈیسائی پہلے وزیراعظم تھے جو یو پی کی بجائے گجرات سے کامیاب ہوئے تھے۔ جس یوپی سے کانگریس کامیابی و کامرانی کے جھنڈے گاڑتی رہی 1977ء میں یہاں سے کانگریس کو زبردست ناکامی ہوئی بلکہ اندراگاندھی رائے بریلی اور سنجے گاندھی امیٹھی سے ناکام ہوئے۔ 2014ء میں چاروں بڑی جماعتیں پورا زور لگا رہی ہیں اور بہت سے نامور خاندان انتخابی عمل میں ہیں۔

سابق وزیراعظم چرن سنگھ کے بیٹے اور پوتے،راہول، وردن گاندھی، مانیکا اور سونیا گاندھی کے علاوہ سابق وزیراعظم چند رشیکھر کے بیٹے، لعل بہادر شاستری کے پوتے بھی یو پی سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو یہاں بہتر انتخابی حکمت عملی دکھانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یونہی روتے اور چیختے رہیں گے۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.