یوکرائن ۔ روس کے دروازے پر بارودی سرنگ

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یوکرائن اس وقت دنیا میں خطرناک ترین ملک بن گیا ہے، سرد جنگ شروع ہو گئی ہے۔ اگرچہ بظاہر جنگ کے امکان نہیں مگر معاملات بگڑے تو جنگ کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے، شام، فلسطین، افغانستان اور ایشیا، بحرالکاہل سب کشیدگی کے حوالے سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

یوکرائن کے معاملے میں روس کو اپنی پوزیشن کی مضبوطی اور امریکہ کی کمزوری کا بخوبی علم ہے، وہ یوکرائن پر امریکہ کے ساتھ ہرطرح کی محاذآرائی کے لئے اپنے آپ کو تیار کر چکا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یوکرائن کا ایک دستور ہے جس کے مطابق یوکرائنی صدر کو اُن کی موت کی صورت میں، اُن پر عدم اعتماد کی وجہ سے یا وہ خود مستعفی ہوجانے، کے علاوہ اُنہیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ یوکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ جو اب روس میں پناہ لے چکے ہیں، وہ یوکرائن کے قانونی صدر ہیں اور تمام انتظامیہ اُن کے احکامات کی پابند ہے۔ روس یوکرائن کریمیا پر قبضہ کرنا نہیں چاہتا تاہم یوکرائن کی نئی حکومت نے وہاں روسی زبان پر پابندی لگا دی ہے، اس لئے روس نے روسی نژاد یوکرائن کی حفاظت کے لئے یوکرائن میں مداخلت کی اور روسی اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کمربستہ نظر آتے ہیں۔

امریکہ بطور مداخلت کار یوکرائن میں داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ نہ تو یوکرائن نیٹو کا ممبر ہے اور نہ ہی اُس کا امریکہ کے ساتھ کوئی دفاعی معاہدہ ہے، اسی وجہ سے وہ روس پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اِس کے علاوہ امریکہ کو روس پر حملے یا کسی پابندی کی صورت میں یورپ کی حمایت بھی حاصل نہیں ہو سکے گی کیونکہ یورپ کا روس میں سرمایہ اس سے کہیں زیادہ لگا ہواہے جتنا روس کا یورپ میں۔ روس نے یورپ میں 225 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کررکھی ہے جبکہ یورپ اور امریکہ کی روس میں 400 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔ ہالینڈ کی سرمایہ کاری 80 بلین ڈالر ہے جو اس نے زراعت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

جرمنی کی سرمایہ کاری 75 بلین ڈالر ہے خود امریکہ کی سرمایہ کاری 25 بلین ڈالر ہے۔ اس لحاظ سے اگر روس اور یورپ کی سرمایہ کاری کا موازنہ کریں تو یہ امریکہ اور یورپ کے مفاد میں ہے کہ وہ کسی قسم کی پابندی نہ لگائیں۔ اس لئے امریکہ پابندیاں لگانے کی بات تو کرسکتا ہے مگر پابندی لگانے میں خود یورپ اُس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو گا۔ مزید برآں روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھی تو روس امریکہ کی افغانستان میں آمدورفت روک دے گا جو پاکستان کے لئے تو مفید ہوگا مگر امریکہ کو تین گنا زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ یہی نہیں وہ ڈالر کے لین دین بند کر کے امریکہ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی دھمکی کی وجہ سے ڈالر کی عالمی منڈی میں قدر میں کمی واقع ہوئی۔ روسیوں کا کہنا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ملک ساری دُنیا پر اپنی جبری بالادستی قائم رکھے۔ روس کے اپنے مفادات ہیں اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کمر باندھے ہوئے بیٹھا ہے جبکہ امریکہ اُس سے شام کے معاملے کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ روس کے نزدیک یہ وقت ہے جب وہ امریکہ کی سپر طاقتی کو ایک اور دھکا لگائے۔

اس وقت امریکہ اِس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ فوجی طاقت استعمال کرے اگرچہ اس نے بحر اسود میں اپنا بحری بیڑہ ٹامک ٹوئیوں کے لئے بھیج دیا ہے اور کیونکہ اُس کے ساتھ یورپ نہیں ہے، اس لئے وہ روس پر پابندی لگانے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے اور عالمی برادری کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلنے کا اُس کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ اس وجہ سے شاید روس یہ سمجھتا ہے کہ وہ امریکہ کو یوکرائن کے معاملے میں خفت سے دوچار کرے اور دُنیا کے لئے ایک مثال قائم کرے کہ امریکہ کی ہر بات نہیں مانی جا سکتی۔ یورپ خود امریکہ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اُس کو روس کے حملے کے خطرے سے ڈرا کر رکھا ہوا ہے، اب روس کی خواہش یہ لگتی ہے کہ یورپ امریکہ کے ہاتھ سے نکل جائے، روس جارحیت نہیں کررہا ہے اور دلائل سے بات کررہا ہے۔ اس لئے امریکہ اس کے خلاف اپنی پوزیشن کی وضاحت کر کے ہمدردی سمیٹ رہا ہے اور یورپی ممالک کو امریکہ کے دبائو سے نکالنے کے لئے ایک مثال قائم کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

روسی اخبارات کے مطابق یوکرائن ایک آزاد ملک ہے اس کا ایک دستور ہے اور امریکہ اپنے حمایتیوں کے ذریعے ایک ہی دن میں روسی زبان کو یوکرائن سے ختم کرنے کا بل پاس کراتا ہے تو یہ ایک غلط بات ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ امریکی ایماء پر ہوا ہے۔ جہاں تک کریمیا کے مسلمانوں کا معاملہ ہے وہ بھی روس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ روسی اخبارات اِس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ جمہوریہ تاتارستان کے حکمرانوں نے جا کر کریمیا کے تاتاریوں کو جن کی آبادی کریمیا کی آبادی کا 12 فیصد ہے، کو روس کا ساتھ دینے پر راضی کرلیا ہے۔ کریمیا کے عوام نے 16مارچ کے ریفرنڈم میں روس کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کر لیا ہے، اس طرح روس کے لئے وِن وِن پوزیشن ہے۔ روس کی پوزیشن جائز ہے۔ یوکرائن میں اُس کی پوزیشن درست ہے کہ کریمیا پر قبضہ اُن کے مطابق اس لئے درست ہے کہ وہ وہاں کی حکومت کے بلاوے پر گیا ہے۔ کریمیا کی کل آبادی 19 لاکھ کے قریب ہے، وہ جزیرہ نما ہے اور 58 فیصد روسی، 12 فیصد تاتاری اور کوئی 30 فیصد کریمیائی زبان بولنے والے لوگ رہتے ہیں۔ روس کو کریمیا پر قبضہ کی ضرورت بھی نہیں تھی کہ سارے راستے کھلے ہوئے ہیں اور وہ کریمیا میں آسانی سے آ جا سکتے ہیں، سڑکیں، ریلوے اور دیگر ذرائع سے وہ ماسکو سے ملا ہوا ہے۔ امریکہ کی پابندیاں لگ سکتی ہیں تو وہ صرف سیاسی پابندیاں لگا سکتا ہے، جس کی روس کو کوئی فکر نہیں ہے مگر انہوں نے یہ ریفرنڈم خونریزی سے بچنے کے لئے کیا۔ یہ صورتِ حال روسی نقطہ نظر ہے لیکن اگر ایک تجزیہ نگار کی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ روس امریکہ کو پے درپے شکستیں دینے کا خواہاں ہے اور وہ امریکہ جو روس کو گھیرنا چاہتا ہے، اُس کو گھیرے توڑنے کا تہیہ کر چکا ہے۔

امریکہ ساری دُنیا میں یا تو ڈرا کر اپنے دبائو میں رکھتا ہے۔ اگر اُس کے دبائو میں نہ آئے تو اس کو گھیرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسے وہ چین کو گھیرنے کے لئے ایشیا بحرالکاہل منصوبہ بنائے بیٹھا ہے، پاکستان کو گھیرنے کے لئے بھارت اور افغانستان کو استعمال کر رہا ہے۔ یورپ کو دبا کر رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت اکثر ممالک کی خواہش ہے کہ وہ امریکہ کے دبائو سے نکلیں اس نے یوکرائن میں گلابی انقلاب لا کر یوکرائن کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ روس نے آہستہ آہستہ اپنا اثر جمایا اور یوکرائن کو امریکہ کے ساتھ نہیں رہنے دیا۔ اب امریکہ نے وہاں کی آرمی کو استعمال کرکے یوکرائن میں بغاوت کرا دی ہے۔ یوکرائن ایک بڑی آرمی رکھتا ہے مگر روسی فوج کے مقابلے میں اُس کی حیثیت زیادہ نہیں ہے۔

اس لئے یہاں کے نتائج ساری دُنیا کو متاثر کریں گے اور امریکہ کی پوزیشن ساری دُنیا میں کمزور پڑے گی اور اُس کی معاشی حالت کسی بڑی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ روس موجودہ امریکی نواز یوکرائن حکومت کو معاشی، سیاسی، قانونی اور فوجی دبائو کے ذریعے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ 25مئی 2014ء کو یوکرین میں انتخاب ہو رہے ہیں روس کو امید ہے کہ امریکی نواز حکومت کا صفایا ہوجائے گا۔ اگر کسی خراب صورتِ حال کا بھی اسے سامنا کرنا پڑے تو روس اس کے لئے تیار ہے، وہ امریکہ کو اِس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ امریکہ روس کے دروازے پر بارودی سرنگ بچھائے۔ روس کریمیا کے لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یوکرائن کی امداد کے ذریعہ مدد بھی کر سکتا ہے، یہ صلاحیت فی الحال امریکہ کے پاس موجود نہیں ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں