.

ایل ۔ کے ۔ ایڈوانی کا مستقبل؟

سیما مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ایسا ہوگا لیکن ایسا ہو چکا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے عمر رسیدہ قائد ایل ۔ کے ۔ ایڈوانی کے لیے اب افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے ۔۔۔ جنہوں نے نہایت ہی بے غرضی اور انتھک محنت سے پارٹی اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے لیے کام کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بابری مسجد کے انہدام میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ۔ کئی مواقع پر بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرف سے انہیں نظرانداز کیا گیا ہے۔

پہلا موقع وہ تھا جب ایل۔ کے ۔ ایڈوانی بمقابلہ اٹل بہاری واجپائی پر مبنی صورت حال پیدا ہوئی اور واجپائی وزیراعظم بن گئے جبکہ ایڈوانی اس عرصہ کے دوران روٹھے ہی رہے۔ لیکن اصل بدقسمتی نے حال ہی میں انہیں آن گھیرا جب ایڈوانی کو مکمل یقین تھا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی، انہیں بھارت کی وزارت عظمٰی کے لیے امیدوار مقرر کریں گے لیکن انہیں گزشتہ چندماہ میں بے شمار صدموں سے دوچار ہونا پڑا۔ پہلا صدمہ انہیں اس وقت برداشت کرنا پڑا جب انہیں یہ یقین ہو گیا کہ گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرا مودی، جو کچھ عرصہ پہلے تک ان کے پاؤں چھوتے رہے تھے، نے آہستہ آہستہ بلکہ نہایت ہی منظم طریقے سے آر ایس ایس اور بی جے پی میں غالب حیثیت کر لی ہے۔ ایڈوانی یہی خواب دیکھتے رہے کہ وزارت عظمٰی کے لیے انہیں نامزد کیا جائے گا لیکن مودی نے ان لوگوں (آر ایس ایس) کے دلوں میں گھر کرنا شروع کر دیا جو اس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت کے مالک تھے۔

یہ کوئی حیران کن امر نہیں تھا جب ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ رونے لگے۔ ٹھکرائے جانے کا یہ احساس اس لحاظ سے انتہائی شدید تھا کہ انہوں نے جسے بچے کی طرح پالا، اس نے ہی انہیں ٹھکرا دیا۔ اور یہ ایک نہایت ہی افسوسناک اور غمگین احساس تھا۔ اس وقت صورت حال مزیدسنگین ہو چکی ہے کیونکہ عملی طور پر نریندرا مودی نے انہیں انتخابی منظرنامے سے باہر دھکیل دیا ہے۔

درحقیقت اب ایڈوانی کو اپنی قسمت پر شاکر ہو جانا چاہیے کہ انہیں عملی طور پر انتخابی دوڑ اور منظر نامے سے باہر کر دیا گیا ہے۔ اصل حقیقت ہے کہ بی جے پی کے امیدواروں کے انتخاب کے ضمن میں بھی ان سے قطعاً مشاورت نہیں کی گئی، اور بی جے پی میں موجود بہت سے قائدین کی نسبت کہیں زیادہ پُروقار حیثیت کے مالک ہونے کے باعث انہوں نے اس وقت بھی کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا جب یہ واضح ہو گیا کہ اب پارٹی کو ان کی ضرورت نہیں۔

ایک اور حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کی انتخابی مہم کے متعلق لائحہ عمل طے کرنے کے ضمن میں انہیں گھاس تک نہیں ڈالی گئی۔ اس سے بدترین صورت حال یہ ہے کہ انہیں پارٹی کے لیے انتخابی مہم چلانے کے قابل بھی نہیں سمجھا گیا۔ ہر طرف مودی چھائے ہوئے ہیں کیونکہ اب یقینی طور وہ ایل ۔ کے ۔ ایڈوانی 2014ء کو بھارتی انتخابات سے عملی طور پر الگ کر چکے ہیں جنہوں نے بابری مسجد کے انہدام میں اہم کردار ادا کیا تھا حالانکہ اس وقت وہ نریندرامودی کے گاڈ فادر کی حیثیت اختیار کے ہوئے تھے۔ انتخابی مہم چلانے کے ضمن میں انہیں ایک دم سے ایسا الگ کیا گیا جیسے ان کا کہیں وجود نہیں۔

مزید یہ کہ ان کے لیے مزید بدترین صدمہ یہ ہے کہ انہیں ایسے حلقے سے انتخاب لڑنے کے لیے کہا جا رہا ہے جوان کی مرضی کے مطابق نہیں۔ ایل ۔ کے۔ ایڈوانی جو خود کو آئندہ بھارتی وزیراعظم کے لیے اپنی پارٹی کا یقینی امیدوار سمجھتے تھے، اب اپنی مرضی کی ایک نشست حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ بہرحال، آر ایس ایس نے ان کی اس مشکل کا حل یہ نکالا ہے کہ بی جے پی کے عمررسیدہ اور بے غرض قائد کو گاندھی نگر سے انتخاب لڑنے کی دعوت دی ہے لیکن بی جے پی نے یہ بھی کہا کہ ایل ۔ کے ۔ ایڈوانی اپنے لیے فیصلہ کرنے میں بالکل آزاد ہیں۔ ایل۔ کے۔ ایڈوانی اس سلوک کا کبھی بھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔

اس وقت ایل۔کے۔ایڈوانی کی حالت ایک ایسی بانجھ مرغی کے مانند ہے جسے کوئی بھی اپنانے کے لیے تیار نہیں، اس وقت وہ بی جے پی میں دوستوں سے محروم ہو چکے اور تنہائی ان کا گھیراؤ کر چکی ہے۔ اس وقت بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اب ایل۔ کے ۔ ایڈوانی صفر ہو چکے اور ان کا پارٹی کی قیادت سے کوئی تعلق نہیں۔

لیکن سیاست میں کوئی بات بھی حرفِ آخر نہیں ہوتی اور ہر سیاست دان، جب تک اس میں طاقت اور دم ہوتا ہے، اچانک منظر عام پر پوری طاقت کے ساتھ رونما ہو سکتا ہے اگرچہ اس کے لیے خواہ کچھ کہا گیا ہو یا تحریر کیا گیا ہو۔ اور کون کہہ سکتا ہے کہ انہیں اس وقت خوش قسمتی اپنے دامن میں پناہ دے دیے جب ووٹ ڈالے جا چکے ہوں اور گنتی ہو رہی ہو۔

یقیناًجس طرح بھارت کے لیے انتخابات سے پہلے کا عرصہ اہم ہے، عین اسی طرح انتخابات سے بعد کازمانہ بھی اہم ہو سکتا ہے۔

بشکریہ : نئی بات

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.