امریکی دہشت گردی

حافظ شفیق الرحمان
حافظ شفیق الرحمان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکی تاریخ بدترین دہشت گردی کی سیاہ اور بھیانک ترین تاریخ ہے۔ 18 ویں، 19 ویں اور 20 ویں صدی کے مغربی اقوام سے تعلق رکھنے والے سفید فام ناجائز قابضین کی رائے اور سوچ مقامی آبادی (ریڈ انڈینز) کے متعلق کیا تھی اب اگر اُس کا غیر جانبدارانہ تجزیہ و تحلیل کیاجائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح نکھر کر سامنے آئے گی کہ یہ سفید فام اقوام 10 کروڑ ریڈ انڈینز کو بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے بعد امریکا میں سفید فام مغربی اقوام کے غلبے ، استیلا اور بالادستی کو قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ آج دہشت گردی اور بین الاقوامی دہشت گردی کیخلاف جنگ کے علمبردار امریکا اور اُس کے حلیف مغربی ممالک کے وہ طالع آزما اور مہم جو جو ریڈ انڈینز کے اس خطے کے35لاکھ مربع میل کو ہڑپ کر چکے تھے، مستقبل کی نسل انسانی کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ جب یہ’ نئی دنیا ‘ بین الاقوامی سطح پر غلبہ اور عروج حاصل کر لے گی تو وہ ایشیاء، افریقہ، لاطینی امریکا اور دیگر پسماندہ براعظموں کے تمام ممالک کی مقامی آبادیوں کی نسل کشی کو اپنا شیوہ و شعار بنانے سے اس لئے احتراز نہیں برت سکے گی کہ ایسا کرنا ان کے جینز میں شامل ہے۔

20 ویں اور 21 ویں صدی کے امریکی حکمران اور بالخصوص بڑے بش، چھوٹے بش اور اوباما ایسے امریکی صدور در حقیقت فلسطین ، عراق ، افغانستان اور وزیرستان میں مقامی آبادی کی نسل کشی کی ایک جامع پالیسی بنا کر امریکا کے آئندہ آنیوالے حکمرانوں کیلئے ایک لائحہ عمل تراش گئے۔ بڑا بش، چھوٹا بش اور اوباما تو کسی قطار شمار میں نہیں ، یہاں تو عالم یہ ہے کہ امریکی عوام جس شخص کو آج اپنے بابائے قوم کا درجہ دیتے ہیں وہ بھی مقبوضہ ریڈ انڈینز کے مجبور ، مفتوح اور مقہور علاقوں کو سفید فاموں کیلئے صرف ایک سلاٹر ہاؤس، شکار گاہ اور قتل گاہ سے زیادہ حیثیت دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔

امریکیوں کا بابائے قوم جارج واشنگٹن ایک طرف تو 1790ء میں ’’ریڈ انڈینز کی زمینوں کو تحفظ دیا جاتا ہے ‘‘کے عنوان سے ایک تحریری معاہدہ بقلم خود سپرد قرطاس کرتا ہے لیکن منافقت کا عالم یہ ہے کہ اپنے ایک اور خط میں وہ یہ لکھنے سے دریغ نہیں کرتا: ’’ہماری آباد کاری کا تسلسل یقینی طور پر جانوروں (ریڈ انڈینز) کو اسی طرح ختم کر دے گا جس طرح بھیڑیوں کو بالآخر موت آ گھیرتی ہے، شکل صورت میں مختلف ہونے کے باوجود دونوں کا انجام یکساں ہے‘‘ اس خط کے اس اقتباس کو مشہور محقق ڈرئینن رچرڈ نے 1990ء میں شائع ہونیوالی تحقیقی کتاب (Facing West: The metaphysics of Indian! Hating & Empire Building کی زینت بنایا۔۔۔۔ جارج واشنگٹن منافقت ، دوہرے پن اور دو رخے پن کا بد ترین مظاہرہ کرتا رہا۔ ایک طرف وہ 1790ء میں ریڈ انڈینز سرداروں کو محبت بھرے خطوط لکھتا رہا اور تحفظ دینے کا وعدہ کرتا رہا لیکن دوسری طرف اُس کے خبث باطن کا عالم یہ تھا کہ وہ برملا کہتا: ’’ریڈ انڈینز میں انسانی صورت کے علاوہ کچھ اور انسانی نہیں ہے‘‘ جارج واشنگٹن کی طرح تھامس جیفر سن بھی ریڈ انڈینز کی مکمل نسل کشی کے حق میں تھا۔ اُس کا کہنا تھا: ’’یہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ ریڈ انڈینز کو سرے سے نابود کر دینا چاہتے ہیں یا وہ اُنہیں نقل مکانی کی اجازت دیتے ہیں‘‘

ڈاکٹر حقی حق کی تحقیق کے مطابق ’’رونالڈٹکاکی اپنی کتاب (The metaphysics of Civilization: Indians and the age of Jackson) میں رقمطراز ہے: ’’اینڈریو جیکسن ریڈ انڈینز عورتوں اور بچوں کو اُن کی خفیہ پناہ گاہوں سے باہر نکالنے میں مہارت رکھتا تھا ، وہ اپنے ستم زدگان کے ناک کاٹ لیتا جن سے وہ اپنی’’ فتح کی یادگاری ٹرافیوں‘‘ کا کام لیتا تھا، اینڈریو جیکسن اپنے شکار کی کھال اُتار لینے کا شوقین تھا جن سے وہ اپنے خچروں کی لگامیں بناتا، کریک انڈین قبائل میں اُس نے ’’تیز دھار خنجر‘‘ کے نام سے بہت شہرت پائی‘‘ ۔۔۔ ظالم ، جابر اور سفاک امریکی صدور کی بہیمیت اور درندگی تو ایک طرف رہی یہاں عالم یہ ہے کہ ہوریس گریلی ایسے دانشور اور قلم کار بھی نسلی عصبیت کے اس حد تک بڑے پرچارک بنے کہ وہ برملا اپنی تحریروں میں اس قسم کے ’’انسانیت دوست ‘‘ خیالات کا اظہار کرتے رہے: ’’ریڈ انڈین ایسی مخلوق ہے جو انسانی فطرت پر کم ہی پورا اُترتا ہے محض پیٹ کا غلام اور بناتات پر زندہ رہنے والے جانور کی طرح جو اپنے سے طاقتور اور زیادہ کھانے کے شوقین جانور کی حاکمیت کے دباؤ سے کبھی آزاد نہیں ہو پاتا‘‘ امریکی صدور اہل قلم اور امریکی عدالتِ عظمیٰ یہ تمام ریڈ انڈین دشمنی میں نفرت کے استعارے بن چکے تھے۔

1823ء میں امریکی سپریم کورٹ نے مشہور زمانہ ’’جانسن بمقابل میکن ٹوش‘‘ مقدمے کے فیصلے میں لکھا: ’’حقِ دریافت کو ریڈ انڈینز کے زمینوں پر قابض ہونے کے حق پر ترجیح حاصل ہے جو کہ اُن کی زمینوں کو خرید لینے یا اُس فتح کر لینے سے حاصل کیا گیا ہے۔ وحشی، خبیث ریڈ انڈینز جن کے عناصر زندگی جنگل سے اخذ کیے گئے ہیں، اُن کے قبضے میں اُن کے ملک کو چھوڑ دینا ایسے ہی ہے کہ جیسے ملک کو ویرانے کے حوالے کر دینا ہو‘‘ ۔۔۔’’1829ء میں اینڈریو جیکسن امریکا کے صدر بن چکے تھے اُن کا واضح جھکاؤ جارجیا کے اُن 5 لاکھ سفید فاموں کی طرف تھا جو چیرو کیز کی زمینوں پر گدھ کی طرح منڈلا رہے تھے اور چیرو کیز کی یہ اراضی مال اسباب اور اثاثوں پر قبضے کیلئے بے تابی سے اشاروں کے منتظر تھے‘‘ ۔۔۔ 6 جون 1838ء کی صبح نقل مکانی ایکٹ کے تحت امریکی صدر وان بیورن آپریشن کا حکم دے چکے تھے۔ یہ آپریشن 6 جون 1838ء کی صبح کیلا ہون ریاست ٹینسی کی بستی سے ہوا۔ 7 ہزار فوجی سنگینیں تانے گیلا ہون پر حملہ آور ہوئے، مکینوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح مسی سپی کے مغرب میں ہانکنا شروع کر دیا۔

اس افراتفری میں بچے ماؤں سے اور گھر کے افراد ایک دوسرے سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئے۔ نہ کسی کو سامان اٹھانے کی مہلت دی گئی اور نہ کسی کو الوداع کہنے کی، جس نے مزاحمت کی وہ قتل ہوا اور جس پر تاخیر کرنے کا شعبہ ہوا وہ گرفتار۔ ایک ہزار میل لمبے سفر پر روانگی کیلئے نہ کوئی تیاری تھی نہ زادراہ، حکومت کی طرف سے جو بیل گاڑیاں مہیا کی گئیں وہ کم پڑ گئیں ۔ گرفتارِ بلا اوسطاً 10 میل روز انہ پیدل چلتے۔ چلتے پھرتے دو ماہ بیت گئے تو بھوک، نقاہت، شدید سردی اور بیماریوں نے آ لیا، ہر دو چار قدم پر کوئی ایسا گرتا کہ پھر اُٹھ نہ سکتا، ان نہ اُٹھنے والوں کو بلا تاخیر وہیں دفنا دیا جاتا یوں مسی سپی سے اوکلو ہاما تک اس طویل راستے پر جگہ جگہ قبریں وجود میں آ گئیں، اس بے کسی کے سفر نے امریکی تاریخ میں آنسوؤں کی شاہراہ کو جنم دیا‘‘۔۔۔ آنسوؤں کی شاہراہ کے المیہ پر ریڈ انڈینز نے ایسا ادب تخلیق کیا جن سے ادب عالیہ کے صفحات نم اور انسانی ضمیر کی آنکھ نمناک ہو گئی۔

آئیے مشہور ریڈ انڈینز شاعر اور ایکٹر چیف ڈان جارج کی ایک دلدوز نظم ملاحظہ فرماتے ہوئے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے مکینوں کے انجام کو پیش نظر رکھتے ہیں: ’’میں دیکھتا ہوں اور روتا ہوں۔۔۔اس یخ بستہ اور ویران راستے پر۔۔۔جس کے انچ انچ اور قدم قدم پر۔۔۔بھوک سے بلکتے اور ۔۔۔سردی سے شریانوں میں منجمد خون سے۔۔۔نیلائے ہوئے جسموں کو گھسیٹے ہوئے۔۔۔میرے معصوم بچوں کی چیخیں ایستادہ ہیں۔۔۔لاغر و لاچار ماؤں کے آنسو بکھرے ہیں۔۔۔اس راستے پر ایک جھاڑی کے تلے۔۔۔میری نسل اور قبیلے کے بیگناہ۔۔۔ قتل ہونے والے۔۔۔ بچوں ، عورتوں اور مردوں کی۔۔۔قبریں پوشیدہ ہیں۔۔۔میں یہ دیکھتا ہوں اور روتا ہوں۔۔۔کہ میرے اجداد کی وسیع زمینوں میں۔۔۔ ہماری قبروں کے نشان بھی باقی نہیں رہیں گے‘‘

اس نظم کے آئینے میں مجھے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ڈرونز حملوں کا نشانہ بننے والے ’’پاکستانی نہتے چیروکیز قبائل ‘‘ کا ہولناک انجام دکھائی دے رہا ہے۔کیا صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم محمد نواز سریف اور وزیر داخلہ ڈودھری نثار علی خان 21 ویں صدی کے اینڈریو جیکسنز اور وان بیورنز کو آنسوؤں کی ایسی ہی شاہراہ آباد کرنے سے روک سکیں گے؟

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں