بلا اور مور اور خودکشی

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جب ہم یومِ پاکستان منا رہے ہیں، ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں کہ عام افراد، خاص طور پر گمنام اور غریب گھروں میں رہنے والی عورتوں، کو ابھی تک اس ریاست میں انصاف میسر نہیں ہے، لیکن چھوڑیں اس بات کواور سنیں کہ پہلا مور مرچکا ہے، بلکہ یوں کہہ لیں کہ اُسے ایک گستاخ بلا چٹ کر گیا ہے۔ نواز شریف شاید صدمے سے نڈھال ہوں گے ، چنانچہ مقامی پولیس کے سربراہ نے اکیس سپاہیوں کو طلب کیا او ر ان کی سخت سرزنش کی۔ وہ ان پر سخت الفاظ میں چلائے ہوں گے کیونکہ وہ فرائض میں غفلت برتنے کی پاداش میں معطل بھی کیے جاسکتے تھے۔ بات بھی معمولی نہ تھی کیونکہ یہ کسی عام پاکستانی کا گھر نہ تھا، یہ ملک کے سربراہ کی جاگیر تھی اور ایک کم ظرف بلا اسے لقمہ بنا گیا اور پولیس والوں کو پتہ بھی نہ چلا۔ کیا یہ صریحاً غفلت نہیں؟
اس کے بعد ’’مجرم ‘‘ کو کفیر کردارتک پہنچانے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

اب تک وزیرِ اعظم کی رہائشگاہ پر تعزیت کے پیغامات کا تانتا بندھا ہوگاجبکہ کچھ غمزدہ افراد بین ڈالتے ہوئے فرسٹ فیملی کے غم میں شریک ہورہے ہوں گے۔ اس دل گداز واقعے کو ایک قومی سانحہ قرار دیا جائے گا۔یہ صدمہ یقیناًپتھر کا جگر بھی پانی کر سکتا ہے ، تاہم فاصلہ غم کی شدت کو کم کردیتا ہے، اس لیے امریکہ میں رہائش پذیرایک پاکستانی، جیسا کہ یہ کالم نگار، کی بینائی شاید آؤٹ آف فوکس ہے کہ اُسے خوشنما پروں والے کھائے گئے مور کی بجائے کالج کی ایک اٹھارہ سالہ طالبہ، جسے گھر جاتے ہوئے گینگ ریپ کیا گیا، زیادہ واضح دکھائی دے رہی ہے۔ آبروریزی کرنے والے مجرمان کا حشر اُس بلے کا سا نہ ہوا کیونکہ آمنہ بی بی کا تعلق ایک عام سے گھرانے سے تھا۔ اس کے لیے مختاراں مائی بھی کچھ نہ کرسکی حالانکہ اس کو میڈیا کی کوریج ملتی ہے۔ مختاراں مائی کی مشرف دور میں آبروریزی کی گئی تھی لیکن جنرل صاحب کی حکومت میں خواتین کے معاملات کی مشیرنیلو فر بخیار نے اُس سنگین معاملے کو نظر انداز کردیا۔ ہمارے ملک میں تو ایسے واقعات خبر ہی نہیں بنتے، لیکن عالمی میڈیا کی طرف سے اس واقعے کو رپورٹ کرنے پر سب جاگ اٹھے۔

اس کے بعد ایک لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کا کیس تھا۔ وہ بلوچستان کے شہر سوئی میں ایک پیٹرولیم کی کمپنی میں ملازم تھی۔ اُسے اُس ہوسٹل کے کمرے ، جہاں وہ رہتی تھی، میں ریپ کیا گیا۔ تاہم اس کمپنی کے مالکوں اور مقامی پولیس نے کیس کو دبا دیا۔ مشرف اور اس کی کابینہ کے اراکان بھی اس کیس میں ہاتھ ڈالنے سے ہچکچا رہے تھے کیونکہ آبروریزی کرنے والوں کا تعلق مبینہ طور پر مسلح افواج سے تھا۔ حکومت دم سادھے کھڑی تھی جب غیر ت مند بلوچ قبائلیوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر فیصلہ سنا دیا اور سوئی جل اٹھا۔ اس کے بعد شازیہ کو وہاں سے جلدی سے نکال کر کسی دوسرے ملک منتقل کر دیا گیا۔ کیا یہ کہانی یہاں ختم ہوجاتی ہے؟ ہر گز نہیں۔سندھ کی سززمین پر شازیہ خالد کے داد ا نے اُسے کاروکاری قرار دے دیا کیونکہ وہ ریپ ہو کر قبیلے کے لیے بدنامی کا باعث بنی تھی۔ اس کے برعکس مختاراں مائی کا کیس مختلف تھا۔ وہ پاکستان میں ہی رہی اور خود پر ہونے والے ستم کے خلاف قانونی جنگ لڑی۔

میڈیا کی وجہ سے وہ راتوں رات ویسی ہی شہرت پاگئی جیسی آج ملالہ کو ملی ہے۔ اُسے امریکی آنے کی دعوت دی گئی۔ وہاں اس نے خود پر ہونے والے ظلم اور پاکستانی معاشرے میں عورتوں پر توڑنے جانے مظالم پر بے دھڑک باتیں کیں۔ اس پر عالمی میڈیا نے اسے بے حد پزیرائی دی۔ اسے مغربی ممالک کی تنظیموں کی طرف سے بہت سے عطیات وصول ہوئے۔ اس رقم سے اُسے نے ’’مختاراں مائی سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن ‘‘ قائم کی۔ تاہم ستم یہ کہ جب آمنہ بی بی مختاراں مائی کی تنظیم کے پا س مدد کے لیے گئی تو اُسے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ اس پر مختاراں مائی کا کہنا ہے کہ اُن کی تنظیم اُسے رہائش فراہم کرسکتی تھی لیکن وہ چاہتی تھی کہ وہ آبروریزی کرنے والے مجرموں کو گرفتار کرنے میں اس کی مدد کرے اور یہ بات ان کی تنظیم کی پہنچ سے باہر تھی۔ اس پر آمنہ نے خود پر پٹرول چھڑکا اور آگ لگالی۔اس کے بعد حکومت کی آنکھیں کھلیں۔ پھر وزیرِ اعلیٰ بھاگے بھاگے وہاں پہنچے اور اُسے کے اہلِ خانہ کو پانچ لاکھ روپے پیش کیے ، لیکن اس رقم ، یا کسی بھی رقم ،سے آمنہ واپس اس دنیا میں نہیں آسکتی۔

اگر آمنہ بی بی مختاراں مائی جیسے مضبوط اعصاب کی مالک ہوتی تو وہ بھی اپنا کیس عالمی میڈیا کے سامنے پیش کرسکتی تھی۔ پھر شاید اُسے انصاف مل جاتا۔ دراصل ہمارے ملک میں میڈیا خاص طور پر ٹی وی چینلز کی سخت کمی ہے… درست تعداد تو یاد نہیں لیکن صرف دو سے تین درجن تک نیوز چینل ہیں جبکہ اس ملک کی آبادی اٹھارہ کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ بات یہ ہے کہ جب تک میڈیا کسی جرم کو کوریج نہ دے ، حکومت کو علم نہیں ہوتا اور جب تک حکومت ، اور وہ بھی وزیرِ اعظم یا کم از کم وزیرِ اعلیٰ بذاتِ خود نوٹس نہ لیں، پولیس کاروائی کرنا حرام سمجھتی ہے۔ اب بھلا ریت کے صحرا میں پانی کے چند قطرے کس طرح ہریالی لا سکتے ہیں؟ اس لیے ہم جس طرح کی گورننس کے عادی ہوچکے ہیں یا جس طریقے سے ہمیں انصاف ملتا ہے ، اس کے لیے ٹی وی کوریج ضروری ہے۔ اور ٹی وی کی مجبوری یہ ہے کہ وہ ان واقعات کو ہی کوریج دیتا ہے جو اس کی ریٹنگ بڑھائیں۔ اس لیے اس کثیر آبادی کے ملک میں کم از کم دو کروڑ ٹی وی چینل اور ایک کروڑ وزیرِ اعلیٰ اور اس تعداد کے نصف وزیرِ اعظم کی ضرورت ہے،ورنہ لاکھوں آمنہ جل مریں، انصاف نہیں ملے گا۔ دوسرا مشکل آپشن ریاستی نظم و نسق کو درست کرنا ہے کہ ارباب اختیار ایسا نظام وضح کریں کہ ہر کسی کو اس کی دہلیز پر انصاف مل سکے، لیکن اس طرح پھر حکمرانوں کی تشہیر نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی خدا ترسی کے گن گائے جاتے ہیں ، چنانچہ ایسا نظام گیا بھاڑ میں… ریٹنگ ، ریٹنگ ، ریٹنگ۔

یہ کم درجے کے انسانوں کے معاملات ایسے ہی چلنے ہیں، اس لیے واپس اعلیٰ درجے کے مور جس کی ہلاکت پر پولیس کی دوڑیں لگ گئیں، کی بات کرلیں۔ کوئی عجب نہیں کہ آئندہ کسی بلوں کو اپنے دانتوں اور پنجوں کا لائنس حاصل کرنا پڑے کیونکہ اب قانون سازی لازمی ہوگی۔ لیکن قانون کا عام انسانوں سے کیا کاکام ؟ کچھ سال پہلے ایک اور عورت انصاف کے لیے مرگئی۔ وہ شمائلہ تھی اور وہ فہیم کی بیوہ تھی۔ فہیم وہ شخص تھا جو لاہور میں ریمنڈ ڈیوس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ امریکی حکومت نے مقتول کے ورثہ کو خون بہا کے طور پر 1.4 ملین ڈالر ادا کیے اور اُس کے کچھ رشتے داروں کو امریکی شہریت بھی مل گئی۔ اس پر تمام اہلِ خانہ خوش تھے سوائے شمائلہ کے ، کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ اُسے رقم نہیں، انصاف چاہیے۔ جب انصاف کی قیمت لگ جائے اور انسان ، اور وہ بھی ایک بیوہ کیا کرسکتی ہے۔ چنانچہ اُس نے زہر کھا کر خود کشی کرلی۔ ایک مقامی مولوی نے کہا کہ وہ حرام موت مری ہے، اس لیے اُس پر عذاب ہوگا۔

آر سی ڈی روڈ پر ہونے والے حادثے میں میں درجنوں افراد جل کر راکھ ہوگئے کیونکہ ان میں ڈیزل سمگل ہورہا تھا اور اسے آگ لگ گئی۔ کیا حادثے سے پہلے کسی کوعلم نہ تھا کہ بسوں کی چھتوں پر جو ڈرم رکھے ہوتے ہیں ان میں سمگل شدہ تیل ہوتا ہے؟ساغر صدیقی نے اسی لیے کہا تھا…’’معبدوں کے چراغ گل کردو، قلبِ انسان میں اندھیرا ہے۔‘‘

بشکریہ روزنامہ ' دنیا '

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں