.

اسامہ بن لادن اور آئی ایس آئی

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عقل انسان کی رہنما اور اللہ کی عطاکردہ شاید سب سے بڑی نعمت ہے تاہم اس عقل کو بعض اوقات بعض خطرناک بیماریاں بھی لاحق ہوجاتی ہیں پھر عقل یہی رہتی ہے لیکن رہنمائی کے بجائے وہ گمراہی کا موجب بن جاتی ہے۔ ایسا شک پڑتا ہے کہ نیویارک ٹائمز کی کارلوٹا گال کی عقل بھی ان بیماریوں کی شکار ہو گئی ہے۔ اس پر بھی تعصب کا پردہ پڑگیا ہے، جذبات غالب آ گئے ہیں، غصے کی آگ نے اس کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور نفرت کے جذبے نے اس کو اندھا کر کے رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقل مند، تجربہ کار اور نیویارک ٹائمز جیسے بین الاقوامی شہرت کے حامل اخبار کی سینئر رپورٹر ہو کر بھی انہوں نے 19مارچ کو اسی اخبار میں اپنی زیرطبع کتاب کا ایک باب "What Pakistan Knew about Bin Laden" شائع کرکے اپنے آپ کو ہم جیسوں کی نظروں سے مزید گرایا اور اپنے اخبار کو بے وقعت کرکے رکھ دیا۔

اندیشہ ہے کہ ان کی عقل کو اس قدر بیماریاں لاحق ہوگئی ہیں کہ آرٹیکل کے آغاز میں وہ اس وجہ کو بھی تحریر کر گئیں جس نے انہیں پاکستان اور پاکستانی اداروں کا دشمن بنا دیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ 2006ء میں افغان طالبان کی تلاش میں کوئٹہ گئی ہوئی تھی جہاں آئی ایس آئی کے بندوں نے ان کی اور ان کی ٹیم کی نہ صرف پٹائی کی بلکہ ان سے سارا مواد بھی چھین لیا۔ ان کی اسٹوری میں سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا کو علم تھا اور ان کی طرف سے ایک افسر تنہا ان کو ڈیل کر رہا تھا۔ جنرل پاشا جب تک ڈی جی آئی ایس آئی تھے، تو ان کے معتوب صحافیوں میں یہ عاجز بھی شامل رہا۔ ان کی طرف سے تحریک انصاف کی کھلی سپورٹ، سیاست میں مداخلت اور صحافیوں کے ساتھ ان کے رویّے کا میں شدید ناقد رہا۔ ایبٹ آباد آپریشن پر حکومت اور ان کے موقف کا میں شدید ناقد تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس آپریشن کے بعد آرمی چیف جنرل کیانی کی بریفنگ میں ان کی اور میری تلخی بھی ہو گئی۔ الغرض وہ میرے طرز صحافت کے شدید مخالف اور میں ان کی بیشتر پالیسیوں اور طریق کار کا شدید ناقد رہا لیکن چونکہ اللہ کے فضل سے میری عقل کو ان حوالوں سے وہ بیماریاں لاحق نہیں ہوئیں جو لگتا ہے کہ کارلوٹا گال کی عقل کو لاحق ہو گئی ہیں اس لئے اپنی معلومات، تجزیے اور دلائل کی بنیاد پر یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آئی ایس آئی اور جنرل پاشا سے متعلق یہ الزام سراسر لغو ہے۔

میں ماضی میں کئی بار لکھ اور بول چکا ہوں کہ اسامہ بن لادن سے جب کسی نے پوچھا کہ دنیا کی مخالفت کے باوجود وہ کیسے زندہ بچے ہیں تو انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ وہ خفیہ ایجنسیوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ امریکہ کی تحویل میں القاعدہ کے وابستگان سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اسامہ بن لادن اپنے قریبی لوگوں کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ خفیہ ایجنسیوں پر کبھی اعتماد نہ کرو۔ اسامہ بن لادن کے دست راست خالد شیخ محمد، ابو فراج اللبی، ابوعبیدہ، رمزی بن الشیبہ اور اسی طرح کے دیگر درجنوں افراد کو آئی ایس آئی گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر چکی تھی۔ اس تناظر میں کیا اسامہ بن لادن جیسے خود دار اور پوری دنیا سے جنگ کا بیڑا اٹھانے والے زیرک انسان کا دماغ خراب تھا جو آئی ایس آئی کے سربراہ پر اعتماد کرتے۔

سچی بات یہ ہے کہ یہ خبر صحافتی اصولوں کے بھی منافی ہے اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ نیویارک ٹائمز جیسے اخبار میں یہ شائع کیسے ہوئی؟ کیونکہ اتنے بڑے دعوے کے لئے کارلوٹا گال نے اپنی سورس یا راوی کا نام ظاہر نہیں کیا ہے بلکہ نامعلوم پاکستانی اور امریکی افسر کا حوالہ دیا ہے۔ ایک جگہ پر انہوں نے جنرل مشرف اور ان کی ٹیم کے ہاتھوں تکلیف اٹھانے والے ان کے شدید ناقد اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ضیاء الدین بٹ کا حوالہ دیا ہے لیکن خود اسی اسٹوری میں یہ بھی لکھا ہے کہ جنرل بٹ کہتے ہیں کہ ان کے الفاظ کو غلط جامہ پہنا دیا گیا ہے۔

جنرل پاشا جذباتی ضرور ہیں لیکن بیوقوف ہر گز نہیں۔ انہوں نے اگر اسامہ بن لادن کو رکھنا تھا تو کیا پی ایم اے کاکول کے قریب ایبٹ آباد شہر میں رکھتے؟ کیا کراچی یا کوئٹہ ان کی دسترس سے باہر تھے؟ وہ انہیں گلگت یا چترال کیوں نہیں لے گئے؟ ابیٹ آباد آپریشن کے بعد امریکی صدر اوباما، سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن اور افواج کے سربراہ مائیک مولن کے بیانات ریکارڈ پر ہیں جن میں انہوں نے اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں انٹیلی جنس کی سطح پر پاکستان کے تعاون کو سراہا ہے۔ اگر پاکستان کے ڈی جی آئی ایس آئی نے ان کو چھپا رکھا تھا تو پھر کیا ان تینوں کے ذرائع سے کارلوٹاگال کے ذرائع زیادہ ہیں۔

کارلوٹا گال نے یہ تاثر دیا ہے کہ جو ریٹائرڈ بریگیڈئر تنہا اسامہ بن لادن کو ڈیل کر رہے تھے وہ آئی بی کے سابق سربراہ بریگیڈئر (ر) اعجاز شاہ تھے۔ کارلوٹاگال یہ بھول رہی ہیں کہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ ذاتی حوالوں سے جنرل پرویز مشرف کے بہت قریب تھے اور ان کی طرح یا پھر طارق عزیز کی طرح جو لوگ ذاتی حوالوں سے پرویز مشرف پر زیادہ اثرانداز ہوتے تھے فوج اور آئی ایس آئی بطور ادارہ ان کو پسند نہیں کرتی تھی۔ اسی طرح اعجاز شاہ پرویز مشرف کے قابل اعتماد تھے لیکن جنرل کیانی یا جنرل پاشا کے قریب نہیں رہے پھر سوال یہ ہے کہ یہ حساس ترین کام کیسے ان کے سپرد کیا گیا؟ یہ کام جنرل (ر) حمید گل جیسے کسی فرد سے کیوں نہیں لیا گیا؟

کارلوٹاگل کی اس اسٹوری نے پاکستان یا ہندوستان میں تو بہت ہلچل مچا دی لیکن صحافتی معیار پر یہ اس قدر ناقص ہے کہ خود امریکہ اور یورپ میں بھی کسی نے اسے خاص اہمیت نہیں دی۔ خود نیویارک ٹائمز نے بھی اس کے فالو اپ کو ضروری نہیں سمجھا بلکہ خود کارلوٹا گال کے قریبی دوست اور القاعدہ پر رپورٹنگ کے ضمن میں عالمی شہرت کے حامل سی این این کے نیشنل سیکورٹی کے ماہر پیٹر برگن (Peter Bergen) نے لغویات پر مبنی اس اسٹوری کا منہ توڑ جواب سی این این کے ذریعے دیا ہے۔ پیٹر برگن کہتے ہیں کہ اپنی کتاب مین ہنٹ (Manhunt) کو لکھتے وقت انہوں نے وائٹ ہائوس، پینٹاگون، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور امریکی انٹیلی جنس کے سیکڑوں اہلکاروں سے آف دی ریکارڈ اور آن دی ریکارڈ بات کی لیکن سب امریکیوں کی یہ رائے تھی کہ پاکستانی اداروں کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا کوئی علم نہیں تھا۔

دوسری دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ 2011ء میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہت کشیدہ تھے اور اگر امریکہ کو کوئی بھی ثبوت ملتا کہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کا آئی ایس آئی کو علم تھا تو وہ ضرور حقائق سامنے لا کر پاکستان کو زیر دبائو لاتا۔ پیٹر برگن کیمرون منٹر اور ان دیگر لوگوں سے بھی ملے ہیں جو پاکستانی اعلیٰ حکام کے ٹیلی فون مانیٹر کر رہے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ کیمرون منٹر جیسے لوگ بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی حکام کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا کوئی علم نہیں تھا۔

ایک اور دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ اسامہ بن لادن زیادہ احتیاط کی وجہ سے اس کمپائونڈ میں موجود اپنے دو محافظین کی بیویوں سے بھی چھپا کے رکھتے تھے تو وہ آئی ایس آئی پر کیسے اعتماد کر سکتے تھے۔ اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ سے امریکیوں کو جو مواد ہاتھ آیا تھا وہ سب امریکیوں کے پاس ہے اور ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان سے اگر امریکیوں کو اسامہ بن لادن اور پاکستانی اداروں کے رابطے کا کوئی ثبوت ہاتھ آتا تو وہ اگر پیٹر برگن نہیں تو خود کارلوٹا جیسی پاکستان دشمن صحافی کو ضرور مہیا کر دیا جاتا اور اگر فراہم نہیں کیا گیا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کارلوٹا کا الزام لغو ہے۔ جہاں تک کارلوٹا گال کے اس الزام کا تعلق ہے کہ اسامہ بن لادن جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے ساتھ بھی رابطے میں رہے تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ ایک عرب ملک کے محبوب ترین حافظ محمد سعید پر اسی ملک کے مطلوب ترین شخص کیسے اعتماد کر سکتے ہیں۔ کارلوٹا گال اگر وہ ویڈیوز اور لٹریچر ملاحظہ کرلیں جس میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے وابستگان نے حافظ سعید اور ان کی جماعت کی سرگرمیوں کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار کیا ہے تو ان کا شک خود بخود دور ہوجائے گا۔

زندگی رہی تو کسی اگلے کالم میں بے نظیر بھٹو قتل اور دیگر موضوعات سے متعلق کارلوٹا گال کی گالیوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کی بھی کوشش کروں گا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.