.

کیا ہم لیمنگ ہیں؟

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پگلی نہ ہو تو ،اس کا کیا خیال تھا جل مرنے سے اقتدار کے ایوان لرز اُٹھیں گے ،منصف بے چین ہو جائیں گے اور اس کے نہاں خانہ ٔدل میں سلگتی اضطراب کی آگ بجھ جائے گی؟مجھے تو اس بات پر تعجب ہے کہ اس پھول جیسی بچی آمنہ کی عزت تار تار کرنے والے کتنے ہی بے حس کیوں نہ ہوں،کیا انہیں ایک پل کے لئے یہ خیال نہیں آیا کہ وہ جسے بھنبھوڑ رہے ہیں،اس کا نام کیا ہے اور کسی مسلمان کے لئے یہ نام کس قدر حرمت والا ہے؟ آمنہ تو چلی گئی مگر وہ پگلی دوسروں کو بھی بھٹکا گئی۔اس کی راہ پر چلتے ہوئے اب تک کئی مظلوم اپنی راہ کھوٹی کر چلے ہیں۔ چنیوٹ کی سمیعہ بی بی کے ساتھ بھی درندگی کا وہی کھیل کھیلا گیا جو مظفر گڑھ کی بدقسمت آمنہ کی خود سوزی کا باعث بنا۔ جبری زیادتی پر عدالت نے ملزموں کو گرفتار کر کے ڈی این اے کرانے کا حکم دیا۔

پولیس نے روایتی ہتھکنڈے اپناتے ہوئے ملزموں کو حراست میں لیا نہ ڈی این اے کرانے کی زحمت کی۔ سمیعہ نے آمنہ کے جل مرنے پر سیاسی اداکاروں کو مگرمچھ کے آنسو بہاتے دیکھا تو اس غلط فہمی کا شکار ہو گئی کہ اپنے بدن پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی جائے تو میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جانے کے باعث مجرم بچ نہیں پاتے۔چنانچہ اس نے ایڈیشنل سیشن جج شہزاد حسین کی عدالت کے باہر آمنہ کی طرح خود کو نذر آتش کر دیا۔ 21مارچ کو پولیس گردی کا شکار ایک اور خاتون نے لاہور میں وزیر اعلیٰ ہائوس کے سامنے اپنے آپ کو جھلسا لیا۔ 22مارچ کو اسلام آباد کے قریب پیر سوہاوہ میں ایک طالب علم مختار نے خود کو شعلوں کی نذر کر دیا۔

اس سے پہلے اعظم ہوتی کی سابقہ بیوی شمیم کیانی نے خودسوزی کی کوشش کی ،اسے بھی ناانصافی کا شکوہ تھا۔اس نے چند روز قبل ایف آئی آر درج کرائی تھی کہ f-7/2 میں اس کے گھر پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا اور دھمکی دی کہ فیملی کورٹ میں دائر کیس واپس لے لو ورنہ مار دیا جائے گا۔ چند روز قبل ضلع ملتان کے تھانہ راجہ رام کی حدود میں اقامت پذیر رانا فدا حسین نے فون کر کے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے گھر میں گھس کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ پولیس گردی، ناانصافی یا ظلم کے ستائے افراد کو آمنہ نے ایک نئی راہ دکھائی ہے کہ اگر اس اندھے ،بہرے اور گونگے نظام میں کوئی انصاف کا طلبگار ہے تو جل مرے۔ مگر اس پگلی کی تقلید کرنے والوں کو میں کیسے سمجھائوں کہ ان کے جلے ہوئے لاشے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں پھینکے جا رہے وہ کنکر ہیں جن سے وقتی طور پر معمولی سا ارتعاش پیدا ہوتا ہے مگر کوئی جوار بھاٹا نہیں آتا۔

یہ ازخود نوٹس، یہ جواب طلبی، معطلیاں، انکوائریاں، سب سراب اور دھوکہ ہیں۔ یقین نہیں آتا تو گزشتہ چند سال کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں۔25مارچ 2012ء کو شیخوپورہ کے علاقے اقبال پارک میں فرسٹ ایئر کی ایک معصوم طالبہ کو محافظ فورس کے پانچ اہلکاروں نے اٹھایا اور اجتماعی طور پر جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ خادم اعلیٰ پنجاب نے تب بھی اسی طرح واقعہ کا سخت نوٹس لیا تھا اور رپورٹ طلب کی تھی ۔اسی سال مارچ میں ہی بلال کھر کے ہاتھوں تیزاب پھینک کر جھلسائی گئی فاخرہ تحریم نے خودکشی کی ،جس پر خادم اعلیٰ پنجاب نے ٹسوے بہاتے ہوئے مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا ۔اگر دو سال گزرنے کے بعد ان دونوں واقعات کے مرتکب افراد کیفر کردار تک پہنچ گئے ہیں تو بڑے شوق سے مٹی کا تیل خریدیں اور خود کو جلا ڈالیں۔

بے حسی کے اس ٹھہرے ہوئے پانی میں نہ جانے کتنی آمنائیں ،کتنے مختار پتھر کی صورت پھینکے گئے لیکن کوئی ایسا سیلاب نہ آیا جو ظلم و ناانصافی کو خس و خاشاک کی مانند بہا لے جاتا۔ شیخوپورہ میں ہی ایک پولیس کانسٹیبل نے 31 جولائی 2013ء کو یونیفارم میں خود سوزی کر لی۔ اسے حافظ آباد کے ایک انسپکٹر عارف شاہ نے جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر زچ کر رکھا تھا۔ اس واقعہ کا صوبائی سطح پر نوٹس تو نہ لیا گیا البتہ ڈی پی او ہمایوں تارڑ نے انکوائری کمیٹی بنا کر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا وعدہ کیا۔اگر آپ آمنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جل مرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو اس پولیس کانسٹیبل کے اہلخانہ سے ضرور پوچھ لیں کہ کیا ان کے بیٹے کو مرنے کے بعد انصاف مل گیا؟

24اکتوبر2011ء کو نوشیرو فیروز کا جیالہ اسلام آباد پہنچا اور غربت سے تنگ آ کر پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے ڈی چوک میں خود کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ اگر آپ بھی اسی نہج پر سوچ رہے ہیں تو کسی سے اس سوال کا جواب معلوم کر لیں کہ نوشیرو فیروز کے راجہ خان کے جانے سے کیا فرق پڑا، اس کے قتل کا مقدمہ کس کے خلاف درج ہوا اور آج اس کے بچے اور بیوی کس حال میں ہیں؟ 3 جولائی 2012ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں 45 سالہ اشفاق احمد نے بھی یہی سوچ کر بھیانک موت کو گلے لگایا تھا کہ اس کے مرنے کے بعد ضرور ہلچل ہو گی مگر کچھ بھی نہیں بدلا۔ یکم مئی 2012ء کو جب وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی اپنی لچھے دار تقریر میں بتا رہے تھے کہ مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافہ کر دیا گیا ہے تو سندھ کی ایک شوگر مل میں کام کرنے والا 7بچوں کا باپ عبدالرزاق انصاری بدین پریس کلب کے سامنے جل مرا کیونکہ اسے کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی اور گھر میں فاقوں کا عالم تھا۔ اگر اس شخص کی موت کے بعد شوگر مل کے مالک کو سزائے موت دی جا چکی ہے تو جی بسم اللہ ہر وہ شخص خود سوزی کر لے جس کی تنخواہ کسی سیٹھ نے دبا رکھی ہے۔

عبرت کا ایک آخری نمونہ سامنے رکھتا ہوں جسے دیکھ کر شاید خود سوزیوں کا سلسلہ تھم جائے۔ 25مارچ 2012ء کو پیش آنے والا یہ دلخراش واقعہ تو میڈیا کی توجہ بھی حاصل نہ کر سکا کہ شاید یہ ’’کنکر‘‘ بہت چھوٹا سا تھا صرف 13برس کا۔ خیبر پختونخوا کے علاقے پیر قلعہ کا معصوم کامران خان چھٹی کلاس میں پہلی پوزیشن لیکر ساتویں جماعت میں منتقل ہوا تو اس نے اپنی ماں سے نئی یونیفارم کی فرمائش کر ڈالی۔ غربت و تنگدستی کے باعث یہ فرمائش پوری نہ ہوئی تو اس نے اپنا مٹی کا چھوٹا سا ’’مَنی باکس‘‘ توڑا۔ اس میں سے صرف 25 روپے نکلے۔ ان پیسوں سے اسکول کی نئی وردی تو نہیں خریدی جا سکتی تھی لیکن مٹی کا تیل اور ایک ماچس تو بآسانی میسر آسکتی تھی۔چنانچہ اس پگلے نے خود کو جلانے اور مٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ماں کو خبر ملی تو بڑی مشکل سے پیسوں کا انتظام کر کے اپنے ادھ جلے لخت جگر کو پشاور لائی۔یہاں آ کر معلوم ہوا کہ کوئی برن سینٹر ایسا نہیں جہاں علاج ہو سکے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کامران کی ماں اسے کھاریاں کے ملٹری ہاسپٹل لے گئی۔ اس کے علاج کے لئے پانچ لاکھ درکار تھے، پیسوں کا انتظام نہ ہو سکا تو اس نے اپنے کانوں کی بالیاں بیچیں تاکہ ایمبولینس کا کرایہ ادا کر کے اپنے جگر کے ٹکڑے کو واپس گھر تو لے جا سکے۔ واپسی کے سفر پر کامران چل بسا۔ اس کی ماں شہناز بی بی سے بات کر لیں اگر جان پر کھیل جانے سے کسی کے کانوں پر جوں رینگتی ہے تو پگلی آمنہ اور نادان کامران کی طرح سب نصیب جلے خود کو جلا ڈالیں۔ ایک بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے، ہمارے ہاں انقلاب کے خواب پورے نہیں ہو سکتے کیونکہ یہاں مظلوم یا تو اپنے من کی آگ میں جلتے رہتے ہیں یا پھر اپنے تن کو جلا ڈالتے ہیں جبکہ انقلاب تب آتا ہے جب خود سوزی یا خودکشی کرنے کے بجائے ظالموں کو انتقام کی آگ میں بھسم کر دینے کا داعیہ ہو۔ شاہد ہم لیمنگ ہیں،بحر منجمد شمالی کے برفانی جزیروں پر پائے جانے والے وہ سفید چوہے جو اپنی علت کے ہاتھوں مجبور ہو کر سمندر میں گرتے چلے جاتے ہیں اور اپنے آپ کو ختم کرنے سے باز نہیں آتے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.