.

تیسری عالمگیر جنگ کی تیاری؟

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی برنین یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر گیز نے 89ء میں کراچی میں ایک ملاقات میں کہا تھا کہ روس کی طرح امریکہ بھی ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس کا کوئی دشمن نہیں رہا ہے، مگر فوری بعد امریکہ نے کمزور و نحیف مسلمانوں کو انتہاپسند قرار دے کر اپنا حریف بنا لیا ہے اور انہیں دہشت گرد قرار دے کر اُن کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے۔

امریکہ میں کہا جاتا تھا کہ امریکہ کی دنیا پر بالادستی قائم رکھنے کے لئے جہاں روس، چین، فرانس اور ایران سے مزاحمت کا سامنا ہے وہاں اُن کے اپنے عوام اُن کے عزائم کی تکمیل کی راہ میں حائل ہیں۔ امریکی عوام کو دنیا پر بالادستی کے پروگرام کو روبہ عمل لانے کیلئے 9/11 کا واقعہ رونما کرایا گیا تاکہ امریکی عوام مغلوب غضب ہوں، پھر جنگجو اور خون کی پیاسی امریکی انتظامیہ اسلامی دنیا پر ٹوٹ پڑا۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں جو واقعات رونما ہوئے وہ نئے قدامت پسند فلسفی فٹز جی اے کریمر کے 40 سالہ جنگ کا نظریہ کے تحت ہوئے تھے کہ ان کا نظریہ تھا کہ اگر 40 سال تک Provocative Weakness Theory جس کو نئے قدامت پسند Peace Through Strength کہتے ہیں کو اپنائے تو ملٹری طاقت کے ذریعے ہی بالادستی کا حصول ممکن ہے۔

1981ء میں رونالڈ ریگن نے اس نظریہ کو اپنایا، 33 سال گزر گئے ہیں اور نظریہ کو پیش کئے 44 سال مگر دنیا میں امریکہ کا سکّہ نہیں جم سکا۔ اُس کے دوست گھٹتے رہے اور دشمن بڑھتے گئے بالآخر یہ خونی تھیوری ناکام ہوگئی۔ اسی وجہ سے اکثر برطانوی دانشور امریکہ کو تباہی کی سپر طاقت کہتے تھے مگر امریکہ کی زنبیل میں تباہی کے اور سامان موجود ہیں۔ 1971ء میں جب زلزلہ، سونامی اور سیلاب لانے والا ہتھیار HAARP بن گیا تو گرینڈ چیس بورڈ نامی کتاب کے مصنف اور کارٹر دور حکومت کے مشیر سلامتی امور برزنسکی نے کہا تھا کہ امریکہ سائنسی طور پر اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ اس کو یہ حق حاصل ہے کہ کم سائنسی ترقی یافتہ ممالک کو اخلاقیات اور انسانی حقوق سے بالائے طاق رکھ کر مطیع بنا کر رکھے۔ ان کے یہ الفاظ ہم ایک کتاب Angels Don't Play this HAARP میں پڑھ سکتے ہیں، وہ نوجوان اور ہر وہ شخص جو انٹرنیٹ کا استعمال جانتا ہے وہ انٹرنیٹ پر یہ کتاب اور یہ الفاظ اصل شکل میں پڑھ سکتا ہے، اسی وجہ سے میں نے امریکہ پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ 2011ء میں جاپان میں سونامی لانے کا ذمہ دار ہے کیونکہ جاپان کے شہنشاہ نے 2010ء میں چین کے صدر سے دو مرتبہ ملاقات کرکے تجارت کے لئے ڈالرز کے بجائے دوسری کرنسی کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا تھا، سزا کے طور پر امریکہ سونامی لے آیا۔ پاکستان میں 2005ء کا زلزلہ اور 2010ء کا سیلاب مصنوعی تھا اور امریکہ کی تخریبی کارروائی کا حصہ۔ اب کہا جارہا ہے کہ صدر بارک حسین اوباما کریمر کے نظریہ پر نظرثانی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے ہیں، دوسری طرف مغرب میں کریمیا کے ساتھ روسی الحاق کو روس کے واپس سوویت یونین بنانے کے اقدامات کے طور پر دیکھا جارہا ہے، وہ یوریشیا اکنامک یونین بنانے کے اقدامات 2011ء سے شروع کرچکا ہے۔

فی الحال بیلاروس، قزاقستان اور روس نے اس پر اتفاق کیا ہے مگر 2015ء تک تاجکستان، قازقستان، ازبکستان، کرغیزستان اور ترکمانستان بھی اس یونین میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں اور حد تو یہ ہے امریکہ کی چیرہ دستیوں سے تنگ آئے ہوئے جارجیا اور آرمینیانے بھی اِس معاشی یونین میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کردیا ہے۔ کریمیا کے معاملے میں روس نے امریکہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر اُس کی مداخلت بڑھی تو دُنیا بھر میں ڈالرز کی ایل سی بند کر دے گا جس سے ڈالرز کی قدر میں کمی واقع ہوئی، اگرچہ پاکستان میں اس کو سعودی عرب کے 1.5 بلین ڈالرز کے تحفہ کو اس کا سبب سمجھا گیا، اس پر آج بھی بحث ہورہی ہے۔ جو پاکستانی سیاست کے لحاظ سے تو درست ہوسکتی ہے مگر عالمی تناظر میں نہیں، روس نے یہ دھمکی بھی دی کہ وہ امریکہ کے ڈالرز کا لین دین دوسرے ممالک سے مل کر بند کردے گا اس طرح اب امریکہ کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور امریکہ میں ایک صحافی ڈیوڈ ہیجنر جو لکھاری بھی ہے اور Comman Sense کے نام سے ٹی وی پروگرام کرتا ہے نے لکھا ہے کہ دُنیا تیسری عالمگیر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، پروگرام ترتیب پا گیا ہے اور کھلاڑیوں کو چن لیا گیا ہے اس طرح دُنیا دو بڑے کیمپوں میں بٹ جائے گی ایک مغرب اور دوسرا Brics ممالک جن میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور سائوتھ افریقی ہوں گے۔

روس یہاں بشکل سوویت یونین ہوگا۔ وہ پاکستان کو مغرب کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں کہ پاکستان سدھایا ہوا اُن کا اپنا ملک ہے، اُس کے اور امریکی پینٹاگون کے درمیان گہرے تعلقات ہیں اور وہ پکے پھل کی طرح امریکہ کی گود میں آن پڑے گا۔ ایک اور امریکی دانشور پیٹر چمبرلین سے ہمارے ایک دوست نثار الحق نے پوچھا کہ دُنیا میں اب تیسری عالمگیر جنگ پر بات چیت ہورہی ہے اور پاکستان میں مارشل لاء کا غلغلہ بلند ہو رہا ہے اس پر اُن کی کیا رائے ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مارشل لاء آ سکتا ہے اور پھر تیسری عالمگیر جنگ ہو سکتی ہے، اس لئے افراتفری سے بہتر ہے کہ طے شدہ جنگ لڑی جائے۔ افراتفری کی تشریح انہوں نے نہیں کی، اب بھلا امریکہ کے ڈھ جانے سے یا اُس کی سپر طاقت کے ختم ہو جانے سے افراتفری کیسے ہو گی۔ البتہ دُنیا یک قطبی سے ہمہ قطبی ہو جائے گی۔ روسیوں نے کبھی اسے یک قطبی نہیں سمجھا اور اسے ہمہ قطبی دُنیا کہتے رہے اور اب اس کا اظہار برملا کیا جارہا ہے۔ ان کا مطلب اگر علاقائی جنگوں سے ہے تو اس سے اتنی اموات نہیں ہوں گی جتنی عالمی جنگ سے۔

اس سے قطع نظر پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اس کا دائرہ اثر بھی بڑھ رہا ہے، عرب ممالک اس کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں، اُسے ایک طاقتور ملک سمجھتے ہیں اور وہ واقعی ایک ایٹمی طاقتور ملک ہے، اس کا دائرہ اثر معرض وجود میں آرہا ہے۔ اگر امریکہ ماضی کی طرح اپنے مہرے حرکت میں لا کر پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے بلوچستان، سندھ یا خیبرپختونخوا کے کسی حصہ کو علیحدہ کرنے کی کوشش کرے تو اس کی مزاحمت کرنا چاہئے۔ ہمیشہ سے یہ ہوا ہے کہ اپنے عزائم کے لئے وہ فوج کو استعمال کرتا ہے۔ ہمیں توقع رکھنی چاہئے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف پاکستان کے سپوت ہیں، وہ امریکہ یا پینٹاگون کے کسی بہلاوے میں نہیں آئیں گے۔ یاد رہے کہ 65ء کی جنگ میں ہماری طاقت کا جو تصور ابھرا تھا اسے 71ء کی جنگ میں توڑ دیا گیا یعنی صرف چھ سالوں میں۔ دُنیا بہت تیزرفتارہوگئی ہے گمان ہے کہ وہ یہ کام چھ ماہ سے تین سال میں کرسکتا ہے تاہم پاکستان کو اشرافیہ، ملٹری اور سیاسی پارٹیوں کو امریکی چکمے سے بچنا چاہئے۔

یہ بات بھی ضروری نہیں کہ تیسری عالمگیر جنگ ہو، اس لئے کہ امریکیوں نے ایران کے معاملے میں کئی مرتبہ طبل جنگ بجایا اور جنگ نہ ہوئی الٹا وہ ایران سے مذاکرات پر مجبور ہوئے اور خود ایرانی کافی طاقتور ہو گئے۔ امریکہ کو 1944ء کے معاہدہ کے تحت نوٹ چھاپنے کی اجازت ہے مگر حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس صورتِ حال کو بدلا جائے اور ہر ملک دوسرے کی کرنسی کا احترام کرتے ہوئے اس کی قدر وضع کرے اور باہمی تجارت بارٹر کی طرح باہمی کرنسی میں شروع کر دیں جیسے چین اور پاکستان، چینی اور روس اور چین، چینی اور روسی کرنسی اور پاکستان اور ایران، ایرانی و پاکستانی کرنسی میں اس طرح وہ ڈالر کی قدر کو بہت نیچے لا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی امریکہ کے پاس بہت سے ایسے ہتھیار موجود ہیں کہ وہ ان قوموں کو سزا کے مرحلے سے گزار سکے جو بارٹر انداز کی تجارت کرنے کا سوچیں وہ اندرونی خلفشار کراسکتا ہے۔ ہارپ کو استعمال کر سکتا ہے اور دو ملکوں کو لڑا سکتا ہے۔ بہرحال وقت آگیا ہے کہ امریکہ کی اہمیت کو کم کیا جائے۔ پاکستان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خطہ میں اپنا اثرورسوخ بڑھائے اور اپنی اہمیت کو اجاگر کرے ۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.