.

ہیگ کے دو دن

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہیگ دنیا کا واحد شہر ہے جس کے ساتھ ’’دی‘‘ لگتا ہے‘ یہ ’’دی ہیگ‘‘کہلاتا ہے‘ یہ ہالینڈ کا انتہائی خوبصورت شہر ہے‘ میلوں تک پھیلی بیچ کے کنارے ہوٹل اورگھر ہیں‘ یہ شہر عالمی عدالت برائے انصاف‘ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ’’دی ہیگ‘‘ میں 24 اور 25 مارچ کو جوہری تحفظ کی تیسری عالمی کانفرنس تھی‘ اس کانفرنس کی بنیاد امریکی صدر بارک حسین اوبامہ کی 2009ء کی ایک تقریر بنی‘ صدر اوبامہ نے 2009ء میں ایک تقریر کے دوران ’’جوہری دہشت گردی‘‘ کا خطرہ ظاہر کیا‘ ان کا خیال تھا ’’جوہری ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جس کے بعد پوری دنیا تباہ ہو جائے گی چنانچہ ہمیں جوہری ہتھیاروں کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے‘‘ صدر اوبامہ کی اس تقریر کے بعد امریکا نے 2010ء میں واشنگٹن میں دنیا کی پہلی جوہری تحفظ کانفرنس منعقد کی‘ اس کانفرنس میں 47 ممالک شریک ہوئے‘ دوسری کانفرنس 2012ء میں سیول میں ہوئی جب کہ تیسری کانفرنس 24 اور 25 مارچ 2014ء کو ’’دی ہیگ‘‘ میں ہوئی‘ اس کانفرنس میں 53 ممالک کے سربراہان شریک ہوئے‘ کانفرنس میں 5 ہزار سرکاری مندوب اور 3 ہزار صحافی بھی شریک تھے‘ وزیراعظم میاں نواز شریف‘ مشیر خارجہ طارق فاطمی اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمایندے مسعود خان بھی اس کانفرنس میں شریک تھے‘ پاکستان سے 5 صحافی اس کانفرنس میں مدعو تھے‘ ہم لوگ 23 مارچ کی رات ’’دی ہیگ‘‘ پہنچ گئے۔

24 مارچ کی صبح امریکی وزیر خارجہ جان کیری میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے ان کے ہوٹل آئے‘ یہ ملاقات بروقت تھی‘ 25 مارچ کو پاکستان کی مذاکراتی ٹیم نے طالبان سے ملاقات کے لیے روانہ ہونا تھا‘ مذاکرات سے ایک دن قبل جان کیری اور میاں نواز شریف کی ملاقات انتہائی اہم تھی‘ یہ ملاقات ’’سٹیک اینڈ کیرٹ‘‘ سے بھرپور تھی‘ جان کیری نے پاکستان کے جوہری اثاثوں کی سیکیورٹی کو آئیڈیل قرار دیا‘ ان کا کہنا تھا‘ پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم آئیڈیل ہے اور میں دوسرے ممالک کو مشورہ دوں گا یہ بھی پاکستان کے نظام سے سیکھیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے پاکستان کے میزائل سسٹم پر تحفظات کا اظہار کر دیا‘ جان کیری کا کہنا تھا ’’آپ لوگ اپنی ضرورت سے زائد میزائل بنا رہے ہیں‘‘ ان کا خیال تھا’’ پاکستان کے میزائلوں کی تعداد اور رینج دونوں ضرورت سے زیادہ ہیں‘‘۔ جان کیری کا دوسرا کنسرن افغانستان تھا‘ اس ملاقات کا تین تہائی حصہ افغانستان پر رہا‘ جان کیری کا خیال تھا‘ پاکستان سے لوگ آتے ہیں اور افغانستان میں نیٹو فورسز کو نشانہ بناتے ہیں‘ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے‘ اس کے جواب میں میاں نواز شریف نے اعتراض کیا ’’ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کی جاتی ہے‘‘۔

وزیراعظم نے جان کیری کو 16 فروری کو شہید ہونے والے 23 ایف سی اہلکاروں کی مثال دی‘ میاں صاحب کا کہنا تھا‘ یہ اہلکار افغانستان کی سرزمین پر شہید کیے گئے‘ ان کی نعشیں گھسیٹ کر گاڑی سے اتاری گئیں‘ فلم بنائی گئی اور یہ فلم انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا کو دکھائی گئی‘ افغان حکومت کو یہ بھی روکنا ہوگا‘‘ جان کیری نے طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ ہونے کا یقین بھی دلایا‘ یہ ملاقات سوا گھنٹہ جاری رہی۔ میاں نواز شریف نے ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دی تو مجھے یہ تاثر ملا‘ امریکا اب پاکستان کو میزائل پروگرام پر دبائے گا‘ یہ آہستہ آہستہ میزائل پروگرام کو سرکل کرے گا اور ہماری امداد کو اس سے منسلک کرتا چلا جائے گا‘ یہ ہمارے لیے خطرناک ہو گا چنانچہ ہمیں اب امریکا سے اپنے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ میزائل پروگرام کو بھی بچانا ہو گا‘ میاں نواز شریف طالبان سے مذاکرات کے بارے میں بہت پرامید تھے‘ ان کا خیال تھا ’’ یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے‘‘ وہ بار بار کہہ رہے تھے ’’ یہ مذاکرات کامیاب ہونے چاہئیں کیونکہ ہمارا آج اور کل دونوں ان مذاکرات سے وابستہ ہیں‘‘۔ یہ ڈالر کی قیمت کے بارے میں بھی بڑے جذباتی تھے‘ انھوں نے ہم سب سے پوچھا ’’آپ نے ڈالر کس قیمت پر خریدا‘‘ وزیراعظم نے یہ بھی بتایا ’’جان کیری پاکستان کی معاشی سمت سے بہت مطمئن تھے‘ یہ اس کی تعریف بھی کر رہے تھے‘‘ وزیراعظم نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی تعریف بھی کی‘ انھوں نے بتایا‘ اسحاق ڈار بہت جلد امریکا جا رہے ہیں‘ ان کے اس دورے سے بھی پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہو گی۔

جوہری کانفرنس انسانی جادوگری تھی‘ 53 سربراہان مملکت ہال میں بیٹھے تھے‘ ہال کے چاروں اطراف میڈیا سینٹر پھیلا تھا‘ میڈیا سینٹر میں دنیا بھر سے آئے ہوئے تین ہزار صحافی بیٹھے تھے‘ انتظامات کمال تھے‘ صحافیوں کو کمپیوٹر بھی ملے‘ سیٹلائیٹ لنک بھی‘ ریڈیو سگنل بھی اور چائے کافی بھی۔ کانفرنس کے معاونین نے بہت تعاون کیا‘ آپ جدھر دیکھیں آپ کو مسکراتے ہوئے چہرے نظر آتے تھے‘ پولیس اور سیکیورٹی کے اہلکار بھی آپ کو دیکھ کر مسکراتے تھے‘ آپ کو روکا بھی جاتا تھا تو انتہائی تہذیب کے ساتھ‘ آپ کو حقیر ہونے کا احساس نہیں ہوتا تھا‘ شہر میں آٹھ ہزار وی آئی پی تھے‘ صدر اوبامہ سمیت 53 سربراہان مملکت بھی تھے لیکن ہیگ کی سماجی زندگی رواں دواں تھی‘ کسی جگہ روٹ نہیں تھا‘ کانفرنس ایریا چھوڑ کر کسی جگہ فینس بھی نہیں تھی‘ آپ جہاں جانا چاہئیں آپ چلے جائیں‘ آپ جہاں آنا چاہیں‘ آپ آ جائیں‘ آپ کو کوئی نہیں روکے گا‘ ہمیں تین دنوں میں فوج کا کوئی سپاہی نظر نہیں آیا‘ شہر میں کسی جگہ رائفل‘ توپ یا کلاشنکوف نظر نہیں آئی‘ فوجی گاڑی‘ بکتر بند اور جیپ بھی دکھائی نہیں دی‘ پولیس تھی اور اس کے پاس بڑے سے بڑا ہتھیار ریوالور تھا اور وہ بھی پیٹی میں بند۔

شہر کی زندگی چل رہی تھی‘ شاپنگ سنٹروں میں شاپنگ ہو رہی تھی‘ بسوں میں مسافر سفر کر رہے تھے‘ ساحل پر جاگنگ ہو رہی تھی‘ ریستورانوں میں کھانے کھائے جا رہے تھے‘ کسی شہری کے چہرے پر خوف نہیں تھا‘ پولیس کا کوئی اہلکار کسی کو ’’اوئے کہاں جا رہا ہے‘‘ کہہ کر نہیں روک رہا تھا‘ شہر میں کسی جگہ سیکیورٹی‘ خوف اور پریشانی نہیں تھی‘ یوں محسوس ہوتا تھا‘ ہیگ میں کوئی کانفرنس نہیں ہو رہی‘ شہر میں کوئی مہمان بھی موجود نہیں‘ ہم لوگ ہیگ میں پھرتے تھے اور اپنے ملک کو یاد کرتے تھے‘ ہمارے ملک میں بیرونی سربراہان تو دور جب ہمارے اپنے حکمران ایوانوں سے باہر نکلتے ہیں تو پورے شہر میں کرفیو لگ جاتا ہے‘ سڑکوں پر ٹریفک پولیس‘ پولیس کے کمانڈوز‘ رینجرز اور فوج کا قبضہ ہو جاتا ہے‘ ٹریفک روک دی جاتی ہے اور اس ٹریفک میں ایمبولینس بھی شامل ہوتی ہیں‘ ملک کے سیکڑوں بچے روٹ کے درمیان پیدا ہوئے اور ان کا نام ’’روٹ علی خان‘‘ رکھ دیا گیا‘ روٹس کے دوران نہ جانے کتنے مریض اور زخمی جاں بحق ہو گئے اور لواحقین نے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں میاں نواز شریف‘ راجہ پرویز اشرف‘ یوسف رضا گیلانی اور شوکت عزیز کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی‘ ہم نے ہیگ میں درجنوں سربراہان مملکت کو آتے اور جاتے دیکھا‘ کسی کے لیے روٹ لگا اور نہ ہی سائرن بجے‘ پولیس چند لمحوں کے لیے ٹریفک روکتی‘ پرائیویٹ گاڑیوں کے مالکان کو ’’سوری وی آئی پی موومنٹ کہتی‘ تین چار گاڑیوں کا قافلہ گزرتا اور ٹریفک کھول دی جاتی اور بس۔

کسی پیدل شخص کو روکا گیا اور نہ ہی اس سے شناخت پوچھی گئی جب کہ ہمارے ملک میں آج بھی غلامی کے دور کا پروٹوکول جاری ہے‘ یہ پروٹوکول بھی صرف صدریا وزیراعظم تک محدود رہتا تو شاید قابل قبول ہوتا لیکن اس کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے‘ اس میں گورنرز‘ وزراء اعلیٰ‘ وفاقی وزراء اور صوبائی کابینہ کے ارکان بھی شامل ہو چکے ہیں اور افواج پاکستان کے سربراہان اور چیف جسٹس بھی۔ آپ اگر اسلام آباد میں رہتے ہیں تو آپ اوسطاً ہر دس منٹ بعد کسی نہ کسی سڑک سے کسی نہ کسی وی وی آئی پی کا قافلہ گزرتے دیکھتے ہیں‘ سائرن کے گیدڑ اس شہر میں سارا دن بھونکتے رہتے ہیں اور عوام کو یہ پیغام دیتے رہتے ہیں آپ غلامی کے دور سے ابھی باہر نہیں آئے‘ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو جاتی ہے‘جب غلطی سے کوئی سربراہ مملکت پاکستان آ جاتا ہے‘ کسی سربراہ مملکت کے پاکستان آنے کی دیر ہوتی ہے‘ یہ ملک جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کرنے لگتا ہے‘ شہر میں فوج ہی فوج ہوتی ہے‘ ہم نہ جانے کب وقت سے سیکھیں گے‘ ہمارے حکمرانوں میں نہ جانے کب اتنا ظرف پیدا ہو گا؟ یہ نہ جانے کب اپنی ذات کے خول سے باہر آ کر دنیا کو دیکھیں گے‘ یہ نہ جانے کب لیڈرز کی طرح ’’بی ہیو‘‘ کریں گے؟

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.