سر کا تاج اور پائوں کی زنجیر

غازی صلاح الدین
غازی صلاح الدین
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

یہ بات کسی نے انگریزی میں کہی تھی اور میں اس کا اردو ترجمہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔’’ زندگی ایک غیر ملکی زبان ہے ہم ٹھیک سے اس کی ادائیگی نہیں کرسکتے‘‘۔ اچھا تو یہ جو انگریزی زبان ہے وہ ہمارے لئے ایک غیر ملکی زبان ہے یا اسے ہم اپنی زبانوں میں سے ایک کہہ سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ یہ سوال آسان نہیں ہے سچی بات یہ ہے کہ انگریزی سے ہمارا رشتہ عجیب سا ہے۔ اجتماعی طور پر شاید یہ وہ حسینہ ہے جس کی طلب میں ہم بے حال ہوئے جاتے ہیں کہ جیسے یہ مل جائے تو ’’تقدیر نگوں ہوجائے‘‘ انفرادی سطح پر دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ دولت کی مانند اس زبان کی عنایتیں کسی کسی پر بے شمار ہیں اور زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو اس دولت اور اس دولت، دونوں سے محروم ہیں۔ یعنی انگریزی زبان بھی طبقاتی تقسیم کا ایک پیمانہ ہے ممکن ہے کہ آپ اسے استعماری طاقتوں کا ایک تحفہ کہیں کہ اس کے ذریعے محروم عوام کے ذہنوں پر حکمرانی کی جائے لیکن تصویر کا دوسرا، روشن رخ بھی تو ہے۔ انگریزی دنیا کی سب سے اہم اور پھیلتی ہوئی زبان ہے۔ اس میں مہارت ہوجائے تو علم اور ادب کی ایک طلسماتی دنیا تک آپ کی رسائی ہوجاتی ہے۔ پوری دنیا سے رشتہ قائم ہوجاتا ہے، اچھی نوکری اور اپنے کام میں ترقی کے علاوہ معاشرے میں آپ کی عزت بھی بڑھ جاتی ہے اور اگر یہ سب کچھ ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ انگریزی بھی ہماری اپنی زبانوں میں سے ایک ہے اور یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ اس سے زیادہ ہماری نہ ہو جتنی وہ زبانیں جن میں ہم پیدا ہوئے ہیں۔

انگریزی کے بارے میں اس پریشان خیالی کا میرے لئے جواز یہ ہے کہ اس ہفتے برٹش کونسل نے ایک اعلیٰ پیمانے پر کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں پورے پورے دن کے ’’پالیسی ڈائیلاگ‘‘ کا بندوبست کیا۔ ملک کے ماہرین تعلیم اور اساتذہ کے علاوہ ادیبوں اور دانشوروں کو بھی مکالمہ میں شامل کیا گیا۔ برٹش کونسل کے اپنے افسران کے ساتھ برطانیہ سے دو ماہرین کو اپنے خیالات کے اظہار کے لئے مدعو کیا گیا۔ انگریزی زبان کے صحافی اور کالم نگار کی حیثیت سے میں نے ان تینوں شہروں میں ہونے والی کارروائی میں شرکت کی۔ اس طرح مجھے اپنے کسی حد تک باغیانہ خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ کئی دلچسپ معرکے ہوئے ویسے برٹش کونسل کے پالیسی ڈائیلاگ کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ پاکستان میں انگریزی زبان کی حیثیت، اس کے مقام اور مستقبل کے بارے میں پوری توجہ سے گفتگو کی گئی۔ تعلیمی نظام میں زندگی کے کاروبار میں اور کلچر کے احاطے میں انگریزی کا کیا کردار ہے اس پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ انگریزی کی ترویج اور تعلیم کے لئے برٹش کونسل کی سرگرمیاں قابل ذکر ہیں۔ یوں بھی پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے برطانیہ نے کافی امداد دی ہے۔

یہ وہ اقدامات ہیں جو قابل تحسین ہیں جہاں تک انگریزی کو سرکاری اور اقتدار کی زبان بنائے رکھنے کا تعلق ہے تو یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے اور اس بات سے تو عمران خان بھی اتفاق کریں گے کہ زبانوں کی جنگ ہم پر امریکہ یا برطانیہ نے مسلط نہیں کی اور کرکٹ بھی ہم اپنی مرضی سے کھیلتے ہیں۔ انگریزی بولنے اور کرکٹ کھیلنے میں ہماری صلاحیت کو دنیا مانتی ہے لیکن یہ جو میں نے انگریزی زبان کو کرکٹ سے ملادیا یہ مناسب نہیں گو یہ دونوں تحفے ہمیں اپنے سابق حکمرانوں سے ملے ہیں۔ انگریزی کے راج میں اب امریکہ کا بڑا ہاتھ ہے کیا اسے ہم اپنے پوشیدہ حکمرانوں کی صف میں جگہ دے سکتے ہیں؟ بہرحال یہ فرق بھی دیکھئے کہ گلیوں میں کھیلنے والا کوئی کم تعلیم یافتہ لڑکا کرکٹ میں اپنا نام پیدا کرسکتا ہے لیکن کسی غریب خاندان کا ذہین بچہ ساری ز ندگی کی جدوجہد کے بعد بھی ایسی انگریزی نہیں بول سکتا جیسی انگریزی عمران خان بولتےہیں۔ یہ ہمارے نظام تعلیم کا جبر ہے کہ سب شہری اس کے لئے برابر نہیں ہیں۔ امیروں اور مقتدر طبقوں کی دنیا بھی الگ ہے اور ان کے بچوں کے تعلیمی ادارے بھی۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ عہد حاضر میں تعلیم کو ذہنی صلاحیت کی بنیاد پر برابری پیدا کرنے کا ہتھیار سمجھا جاتا ہے اور ہمارے ملک میں تعلیم کا نظام نچلے طبقے کے مزید استحصال کا ذریعہ ہے۔

بات بنیادی طور پر انگریزی زبان کے بارے میں ہورہی ہے اس موضوع پر میں اپنے خیالات کا گاہے گاہے اظہار کرتا رہا ہوں۔ اب برٹش کونسل کے ان مذاکروں میں چند باتوں کو دوہرانے کا موقع ملا چند نئے حوالے بھی تھے جو انگریز ہمارے ساتھ تھے وہ میری اس رائے پر چونک پڑے کہ انگریزی پاکستان کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ میں نے اپنا ایک جملہ اردو میں کہا اور پھر اس کے انگریزی ترجمے کی ضرورت پڑی ۔ میں نے کہا اور یہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ انگریزی ہمارے سر کا تاج بھی ہے اور ہمارے پائوں کی زنجیر بھی۔ یہی بات میں اس طرح بھی کہتا ہوں کہ انگریزی دیوار بھی ہے اور دروازہ بھی۔ دیوار تقریباً سب کے لئے اور دروازہ آبادی کے ایک چھوٹے حصے کے لئے۔

ایسے موقعوں پر خود اپنی کہانی سنانے کی ضرورت بھی پڑجاتی ہے۔ میں نے یہ کہانی سنائی جو موضوع سے جڑی ہوئی تھی کہ کیسے میں نے خود انگریزی سیکھی اور کیسے کراچی میں برٹش کونسل کی لائبریری میری درسگاہ بن گئی۔ میں نے جس سکول میں تعلیم حاصل کی وہ انگلش میڈیم نہیں تھا بلکہ ہماری کلاس کو انگریزی پڑھانے کے لئے کبھی اچھا استاد نہ ملا، پھر اس کے بعد اپنی آوارگی کی وجہ سے میں نے کسی قسم کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی جب میں نے صحافی بننے کا فیصلہ کیا تو میں نے دیکھا کہ اچھی تنخواہ کام کرنے کے ماحول اور معاشرے میں مقام کے حصول کے لئے اردو صحافت کے مقابلے میں انگریزی صحافت کا پلہ بھاری تھا، تب میں نے انگریزی صحافت میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی، یہ دشوار کام تھا ۔وقت کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان سے میرا رشتہ مستحکم ہوتا گیا۔ یہ سوال میں نے اٹھایا کہ کیا جو میں ایک زمانے پہلے کرسکا وہ آج کے نوجوان کے لئے بھی اسی طرح ممکن ہے۔

میرا خیال ہے کہ نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ کی ابتدائی تعلیم اچھی ہو کہ جو اپنی مادری اور ماحول کی زبان میں ہی ہو سکتی ہے تو پھر دوسری زبان سیکھنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں رہتا۔ انگریزی کو ہم دوسری زبان کہتے ہیں۔ دوسری زبان کہاں سے آئے گی جب پہلی زبان نہ آتی ہو۔ یہ دلیل ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جن کے گھروں میں انگریزی بولی جاتی ہے اور ان کے لئے اردو یا کوئی دوسری اپنی زبان نوکروں سے گفتگو کے کام آتی ہے لیکن وہ بچے جو کم آمدنی رکھنے والے خاندانوں میں پلتے ہیں اور وہ غریب بچے جن کے والدین بھی پڑھے لکھے نہیں ہیں ایک غیر ملکی زبان کو اپنی ابتدائی تعلیم کا حصہ کیسے بناسکتے ہیں۔ اب تو مشکل یہ ہے کہ بچے نہ اپنی زبان ٹھیک سے سیکھ پارہے ہیں اور نہ انگریزی ۔اس طرح ہم ایک بے زبان قوم بنتے جارہے ہیں اتنی دہائیوں سے انگلش میڈیم تعلیم کا چرچا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ اکثر لوگ اپنی ڈگریوں کے باوجود نہ اچھی انگریزی لکھ سکتے ہیں اور نہ بول سکتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ فکری اور تہذیبی معنوں میں جس انحطاط کا شکار ہے اس کی کئی دوسری وجوہات بھی ہیں، پھر بھی تعلیم کے جس نظام سے ہم کھیل رہے ہیں وہ ہماری نجات کا ذریعہ کبھی نہیں بن سکتا۔ اس نظام کی ایک خرابی ضرور یہ ہے کہ انگریزی اقتدار کی زبان بن کر ہمارے راستے میں کھڑی دیوار بھی ہے اور ہمارے پائوں میں پڑی زنجیر بھی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں