.

اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کو ایم ایف این (تجارت کے لئے انتہائی پسندیدہ قوم) کا درجہ دینے کا مرحلہ ہنوز طے پانا باقی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت اس پر سنجیدگی دکھانے میں ناکام رہی۔ اس وقت، 2005-06ء میں، بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے مسئلہ ٔ کشمیر کا آئوٹ آف باکس حل اور دیگر تنازعات پر مربوط مذاکرات شروع کئے جانے کی کوشش ہو رہی تھی لیکن 2007-08ء کے دوران سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے حکومت اس پر توجہ نہ دے سکی۔ اس کے بعد زرداری حکومت کو ممبئی حملوں نے بھارت کی طرف ہاتھ بڑھانے کی اجازت نہ دی لیکن اپنے دور حکومت کے آخری سال کے دوران کچھ اقدامات کے لئے تجارتی تعلقات میں کچھ پیشرفت دیکھنے میں آئی اور بھارت نے پاکستان کو تجارت کے لئے ’’منفی فہرست ‘‘ سے ہٹا دیا تاہم مربوط مذاکرات شروع نہ ہوسکے۔

گزشتہ سال نواز شریف حکومت نے ان دیرینہ حل طلب مسائل پر سرعت سے توجہ دینے کی ٹھانی تاکہ اپنے بڑے ہمسائے کے ساتھ تجارتی تعلقات ٹھوس بنیادوں پر قائم کئے جا سکیں۔ اس نے دیکھا کہ بھارت کو ایم ایف این دینے سے نہ صرف اعتماد سازی کی فضا قائم ہو گی بلکہ پاکستانی معیشت بھی فائدے میں رہے گی چنانچہ کامرس کے وزیر خرم دستگیر نے ایم ایف این، جسے بھارت کو دیتے ہوئے ہماری جان نکل رہی تھی کہ ایک دشمن ملک پسندیدہ ملک کیسے ہوسکتا ہے، کے بجائے این ڈی ایم اے (Non-Discriminatory Market Access) کی اصطلاح استعمال کی اور پاکستان کے لئے اچھا خاصا فائدہ حاصل کرتے ہوئے بھارت کو قائل کرلیا کہ وہ حساس اشیاء کی فہرست کو 614 سے کم کرتے ہوئے سو تک لے آئے ۔ اس سے پاکستان کو بھارت کی مارکیٹ میں زیادہ اشیاء فروخت کرنا ممکن ہو گیا۔ جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ مسٹر شہباز شریف نے بھی بھارت کے دورے کے موقع پر وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے ساتھ گفت و شنید کی تو ان کے ذہن میں بھی یہی مقصد تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہونا چاہئے۔ چنانچہ اس کا ٹائم فریم وضع کرنے کے لئے گزشتہ ہفتے کابینہ کا اجلاس ہوا۔

ان خطوط پر مثبت پیشرفت جاری تھی لیکن اب یکایک نواز شریف نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ اُنھوں نے فیصلے کو اس وقت تک کے لئے موخر کر دیا ہے جب تک دہلی میں نئی حکومت قائم نہیں ہو جاتی۔ اس پر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اب جبکہ یہ حکومت چند دن کی مہمان ہے تو اس موقع پر اسے، جبکہ اس کے ایک مرتبہ پھر حکومت میں آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، رعایت دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نواز حکومت اس وقت کا انتظار کرے گی کہ بی جے پی یا کوئی اور جماعت بھارت میں حکومت سازی کرلے تو پھر قدم آگے بڑھایا جائے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اس وقت کسی بھارتی حکومت کو پاکستان کی طرف سے پسندیدگی کا درجہ دینا شاید اس کے لئے سیاسی طور پر سازگار نہ ہو۔

یہ ایک منطقی دلیل ہے تاہم یہ جتنی موثر آج ہے، اتنی تین ماہ پہلے بھی تھی جبکہ سیاسی مبصرین نے چھ ماہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ کانگریس کا آنے والے انتخابات میں کام تمام ہونے والا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نواز شریف نے مربوط مذاکرات کی شرط بھی نرم کر دی تھی تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب کیا ہوا ہے؟ اب نواز حکومت کے یک لخت ارادے بدلنے کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟ نواز شریف کی موجودہ سیاسی حکمت ِ عملی کی بنیاد اپنے ہمسایوں، جیسا کہ بھارت اور افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا تھا۔ اس مقصد کے لئے اُنھوں نے ڈاکٹر سنگھ کو مذاکرات کی دعوت دی جبکہ حامد کرزئی کو یقین دلایا کہ وہ افغان معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے تاہم دیکھنے میں آیا کہ ان دونوں ممالک کا پاکستان کی پیشکش کے جواب میں بہت مثبت ردعمل نہیں تھا۔

ڈاکٹر سنگھ نے نسبتاً کم متنازع معاملات، جیسا کہ سرکریک اور سیاچن، پر بھی مذاکرات کرنے کی حامی نہ بھری جبکہ افغان صدر ابھی تک آئی ایس آئی پر الزامات کی بوچھاڑ کئے ہوئے ہیں۔ اب جبکہ بھارت میں نریندرمودی کے وزیر ِ اعظم بننے کے امکانات روشن ہورہے ہیں، نواز شریف کو فارن آفس اور جی ایچ کیو کی طرف سے قائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بھارت کو یکطرفہ طور پر رعایت دینے کے بجائے وقت کا انتظار کیا جائے تاکہ یہ منظر واضح ہوجائے کہ بھارت میں کس کی حکومت قائم ہوتی ہے اور اس کی ترجیحات کیا ہیں۔

مسٹر شریف نے کشمیر کے معاملے پر بھی اپنے موقف میں سخت لہجہ اپنالیا ہے۔ اس سے پہلے وہ 1999ء کے لاہور ملاقات کی روشنی میں طے کئے جانے کی بات ہورہی تھی۔ بعد میں مشرف نے بھی اس فارمولے کی نقل کرتے ہوئے کشمیر کا آئوٹ آف باکس حل تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت معروضی حالات بدل چکے تھے تاہم اب پاکستانی وزیر ِ اعظم ایک مرتبہ پھر گزشتہ ہفتے ہیگ کانفرنس میں کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام ِ متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں نکالنے کی بات کی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو قائل کرلیا ہے کہ فی الحال بھارت کے ساتھ سخت ہاتھ رکھا جائے۔

دراصل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ایسی پالیسی اپنائے ہوئے ہے جس سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا کیونکہ یہ پالیسی خود مسئلے کا باعث ہے۔ اس کا اصل مقصد بھارت کو رعایت دینا نہیں کیونکہ بھارت دفاعی اداروں کو کشمیر اور سیاچن پر رعایت دینے کے لئے تیار نہیں۔ ان دونوں معاملات میں مسٹر شریف نے عہد کیا تھا کہ وہ دلیرانہ فیصلے کریں گے اور اس مرتبہ ان کا طرز عمل جاندار ہوگا۔ اُنہوں نے سیاچن کو ’’ویرانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے پیشکش کی تھی کہ پاکستان یکطرفہ طور پر اپنے دستے ہٹانے کے لئے تیار ہے۔

جبکہ کشمیر کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں یو این کی قراردادوں سے ہٹ کر کسی اور طریقے سے حل کر لیا جائے گا۔ اس دوران انہوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لئے بھی بھرپور کوششیں کیں لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ان کو خواب سے جگانا شروع کردیا ہے۔ کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ پاکستان پر اصل حکومت کس کی ہے؟

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.