ایٹمی دہشت گردی، لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ہالینڈ کے شہر ہیگ میں ایٹمی کانفرنس کی کوریج کے لئے پانچ ہزار کے قریب صحافی شامل ہوئے، ان میں کوئی ایک درجن کے قریب پاکستانی صحافی بھی اپنے خرچ پر گئے تھے، مگر دنیا کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسٹیج پر امریکی صدر اوبامہ اور ہمارے وزیر اعظم نواز شریف گونگے اور اجنبی بن کر بیٹھے رہے یا انہوں نے موقع غنیمت جان کر کچھ گفتگو بھی کی، اور اگر کی تو اس کی تفصیل کیا ہے ، کانا پھوسی بھی ہو سکتی تھی مگر کچھ بھی تو سامنے نہیں آیا۔ ایک اہم موقع دونوں لیڈروں نے کیوں ضائع کر دیا۔

کانفرنس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے برملا کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ترین ہے، اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انتہائی قابل اعتماد ہے مگر کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ سامنے آیا ، اس کے لب و لہجے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا مخاطب صرف اور صرف پاکستان ہے جسے وارننگ دی گئی ہے کہ ایٹمی اسلحہ چوری ہونے بچایا جائے تاکہ یہ دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ سکے۔اس اعلامیے کا مطلب یہ ہے کہ جان کیری نے صرف پاکستان کا دل رکھنے کے لئے باتیں کیں۔

ایٹمی دہشت گردی کا ارتکاب آج تک صرف ایک ملک نے کیا ہے اور اس کا نام ہے امریکہ۔ اس نے دوسری جنگ عظیم کے آخر میں جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم برسائے۔ یہ پہلا اور آخری ایٹمی حملہ ہے جس میں لاکھوں بے گناہوں کو ہلاک کیا گیا، اس وسیع پیمانے پر ہلاکتیں تاریخ انسانی یا حیوانی میں کبھی نہیں ہوئیں۔

مگر امریکہ کا ہمیشہ یہ واویلا رہا ہے کہ ایٹمی اسلحہ انتہا پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ حالیہ افغان جنگ میں نوجوان صحافی حامد میر نے مہم جوئی کی اور دنیا کے کسی نامعلوم مقام پر( شاید وہ ایبٹ آباد ہی ہو) اسامہ بن لادن سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ایک انٹرویو پر مبنی خبر شائع کی کہ اسامہ کے پاس ایٹمی اور کیمیاوی اسلحہ موجود ہے جس سے وہ امریکی افواج کو تباہ کر دے گا۔ مگر دنیا نے دیکھا کہ بارہ برس تک اسامہ نے یہ اسلحہ ( اگر اس کے پاس تھا بھی ) کہیں چھپائے رکھا اور ایبٹ آباد کے حویلی نما ٹھکانے میں امریکی حملہ آوروں پر ایک گولی تک نہ چلائی۔ ظاہر یہ ہوتا ہے کہ اس سے ایک بے بنیاد دعوی منسوب کیا گیا جس کی آڑ میں امریکہ اور نیٹو نے افغانستان اور پاکستان دونوں کا تورا بورا بنا دیا۔

یہی کچھ امریکہ نے عراق کے ساتھ کیا۔ اور اس کی بنیاد برطانوی سراغرساں ادارے کی ایک رپورٹ تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ صدام حسین کی تحویل میں ایٹمی اور کیمیاوی اسلحہ موجود ہے۔ امریکہ نے اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر عراق پر چڑھائی کر دی اور بے گناہ عراقی عوام کی لاشوں کا ڈھیر لگا دیا۔ جنگ کے ایک مرحلے پر امریکی افواج نے صدام حسین کو کسی زیر زمین ٹھکانے سے برا ٓمد کیا،اس وقت صدام کے ہاتھ میں ایک پستول ضرور موجود تھا ، اسے یہ توفیق نہ ہو سکی کہ وہ حملہ آوروں پر ایک گولی ہی چلا دے ، کجا یہ کہ وہ ان پر اپنا ایٹمی ، کیمیاوی اور جراثیمی اسلحہ داغ دیتا۔ تاریخ کی اس ہولناک تباہی و بربادی کے بعد امریکہ نے اعلان کیا کہ برطانوی سراغرساں ادارے کی رپورٹ غلط ثابت ہوئی اور پورے عراق کا چپہ چپہ چھان لینے کے باوجود امریکیوں کو کہیں سے صدام کا ایٹمی ڈھیر دستیاب نہ ہو سکا۔ کچھ ہوتا تو ملتا لیکن وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کے لئے کوئی بہانہ تو چاہئے تھا۔ آفرین ہے صدام اور اسامہ کی کہ انہوں نے اپنی زبان سے ان الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دینے کی زحمت نہیں کی، کیوں۔ اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے، القاعدہ کے پاس ہونا چاہئے، صدام اور اسامہ کے قریبی ساتھیوں کے پاس ہونا چاہئے۔

جن دنوں کارگل کی جنگ چھڑی ہوئی تھی اور ہمارے مجاہدین گاجر مولی کی طرح کٹ رہے تھے تو پاکستان میں لوگوں کی زبان پر ایک سوال تھا کہ ہمارا ایٹم بم کہاں ہے، ہمارے میزائل کہاں ہیں۔ شاید لوگ بھول گئے ہوں کہ انہی دنوں ہم نے تازہ تازہ ایٹمی دھماکوں کی پہلی سالگرہ منائی تھی، ہمارے دوست مجیب الرحمن شامی ( جو ایٹمی دھماکوں کے خلاف تھے)ان تقریبات کے لئے بنائی گئی سرکاری کمیٹی کے سربراہ تھے اور اسلام آباد کے ہر چوک میں ایٹمی میزائلوں کے مجسمے ( میں یہی لفظ استعمال کر سکتا ہوں ) نصب تھے۔ ظاہر ہے یہ فائر نہیں ہو سکتے تھے اور اگر کوئی حقیقت میں میزائل تھے تو وہ بھی فائر نہ ہوئے۔ اس وقت لوگوں کو شک پڑ گیا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس ایٹمی اسلحہ موجود نہیں تھا کیونکہ یا تو ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ امریکہ نے کیا یا پھر اسے ڈیٹرنس یعنی جنگ روکنے کے کام آنا چاہئے تھا جیسا کہ روس اور امریکہ کے مابین سرد جنگ کبھی گرم جنگ میں تبدیل نہ ہوئی۔

البتہ تین مواقع ایسے ہیں جب ایٹمی ڈیٹرنس کا نظریہ برصغیر میں کارا ٓمد ثابت ہوا۔ ایک تو براس ٹیکس کے نام سے بھارت نے جنگی مشقیں کیں اور اپنی فوج جارحانہ انداز میں سرحد پر لا پھینکی، تب جنرل ضیا الحق ایک کرکٹ میچ دیکھنے بھارت گئے ، وہاں راجیو گاندھی کے کان میں کہا کہ مہاراج! اپنی ا فواج سرحد سے ہٹا لو ورنہ میں واپس جا کر ایٹمی اسلحہ فائر کرنے کا حکم جاری کر دوں گا۔اس کے بعد بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو پھر بھارت نے پاکستان کی سرحدوں پر اپنی فوج مورچہ زن کر دی۔ پاکستان نے بھارت کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لئے اپنے ایٹمی میزائل عین سرحدوں پر نصب کر دیئے۔ ہندو لالے کا پیشاب خطا ہو گیا ور اسے اپنی فوج چھاﺅنیوں میں واپس لے جانا پڑی۔ تیسری مرتبہ بھارت نے جارحیت کی دھمکی تب دی جب ممبئی میں دہشت گردی ہوئی، بھارت نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ ، اس کا الزام پاکستان پر عاید کیا اور اپنے جہازوں کو سرجیکل اسٹرئیک کےلئے فضا میں بلند کر دیا۔۔۔اور پاکستان کے سرحدی مقامات پر بسنے والے کروڑوں شہریوں نے دیکھا کہ جھٹ ہمارے شاہین بھی فضاﺅں میں گرجنے لگے۔ کسی کو شک نہیں تھا کہ پاکستان ایئر فورس کے جانباز ایٹمی اسلحے سے لیس تھے، بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق۔ دو دن کے اندر بھارتی ہو اباز فضاﺅں سے غائب ہو گئے۔

میں اس روز سے اس تجسس میں ہوں کہ ہمارے لڑاکا طیاروں کے کاک پٹ میں وہ شہہ سوار کون تھے، سندھیوں نے تو محمد بن قاسم کے بت نصب کئے، میں ان ہوا بازوں کے بت تاریخ کے صفحات میں نصب کرنا چاہتا ہوں، وہ کسی ماں کے لخت جگر تھے، ان ماﺅں کو سلام ۔ اور ہمت و مردانگی،جرات و دلیری کے ان رستموں اور سورماﺅں کو سلام۔

ہیگ سمٹ نے( پاکستان کو) وارننگ دی ہے۔ یہ وارننگ امریکہ کو ملنی چاہئے تھی جس نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں دہشت گردی کا ارتکاب کیا۔

کاش! ہمارے وزیر اعظم نے یہ بات اوبامہ کے کان میں کہہ دی ہوتی۔

بشکریہ روزنامہ"نئی بات"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں