پاکستان، سعودی عرب اور چین تعلقات

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستانی صدر اس سے کہیں زیادہ متحرک ہیں جتنا کہ اُن کے اختیارات ہیں مگر کیونکہ وہ وزیراعظم کے قریبی ساتھی رہے ہیں اور اُن پر میاں محمد نواز شریف کا اعتماد ہے، اس لئے وہ ملک و قوم کیلئے بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں، جیسے دورہ سعودی عرب اور دورہ چین میں انہوں نے انتہائی اہم کام سرانجام دیئے۔

سعودی عرب کے معاملے میں تو انہوں نے دونوں کے تعلقات کو ازسرنو تعمیر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 9 اکتوبر 2013ء کو صدر ممنون حسین فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئے، وہاں انہوں نے کئی دن قیام کیا، گمان ہے کہ اِس دوران کافی اہم معاملات زیربحث آئے ہونگے۔ اسکے بعد 8جنوری سعود الفیصل پاکستان کے دورے پر آئے اور سیدھے صدر ممنون حسین سے ملنے گئے، اسکے بعد انہوں نے وزیراعظم اور دوسری اہم شخصیات سے بھی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ لگتا ہے کہ اِن ملاقاتوں میں کچھ اصولی فیصلے کر لئے گئے، جو دفاع اور اسٹرٹیجک تعلقات کے حوالے سے تھے اور خصوصاً امریکہ نے ایران سے تعلق جوڑا اور سعودی عرب کو نظر انداز کیا۔

P5+1 کا معاہدہ تیزی سے ہوا، ایرانیوں اور امریکہ کے درمیان جو خفیہ مذاکرات چل رہے تھے اُن کی کانوں کان خبر سعودیوں کو نہ ہونے دی، اس سے سعودی اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے،اِس کے بعد سعودی عرب نے نئے دوستوں کی تلاش شروع کی۔ابھی سعودی عرب کے وزیر خارجہ پاکستان نہیں آئے تھے کہ مغرب میں یہ شور اٹھایا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کو ایٹمی اسلحہ فراہم کردے گا یا ایٹمی صلاحیت سے مزین کردے گا، اس پر امریکہ کے ایک کالم نگار جوناتھن پاور نے لکھا کہ اگر پاکستان نے ایسا کیا تو اُسے سزا کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ البتہ وہ اگر سعودی عرب کو ایٹمی چھتری فراہم کرے تو کوئی مضائقہ نہیں، پاکستان نے اِس کی سختی سے تردید کی۔ میں جوناتھن پاور کا 1990ء سے تعاقب کررہا ہوں اور اُن کی تحریروں کو پڑھتا ہوں، انہوں نے ایک دفعہ امریکہ کی رعونیت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ یہ امریکہ کو لے ڈوبے گی اور چھٹی عرب اسرائیل جنگ میں جب حزب اللہ نے اسرائیلیوں کو جیتنے نہیں دیا تو انہوں نے لکھا تھا کہ یہودیوں کو واپس یورپی ممالک چلے جانا چاہئے جس کو میں نے اپنی کتاب ’’چھٹی عرب اسرائیل جنگ‘‘ میں نقل کیا ہے۔ پاکستان نے جیسے ہی کھیل کی تبدیلی اور معاشی راہداری کی بات کی ہے اس سے دُنیا بھر میں بھونچال آگیا ہے، اس لئے امریکہ کو اس خطے میں ایک اتحادی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اِن اطلاعات کے آتے ہی جس پر میں نے لکھا تھا کہ اللہ خیر کرے کہ یہ بڑی کشمکش کا پیش خیمہ ہیں۔

امریکیوں نے ایرانیوں سے تعلقات مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب بھی سعودی عرب کی ہیجانی کیفیت کو ختم کرنے کیلئے امریکیوں نے خلیجی ممالک سے نئی شراکت داری کے عنوان سے نئی تجویز دی ہے کہ وہ خلیج کو چھوڑ کر نہیں جارہے ہیں اور خلیجی ممالک اُن کی ترجیحات میں شامل ہیں مگر سعودیوں کو اندازہ ہو گیا ہے کہ وہ امریکی پالیسی میں غیر اہم ہو چکے ہیں۔اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے امریکہ نے24 مارچ کو اسٹرٹیجک مذاکرات شروع کئے ہیں۔

اچھا ہے کہ سعودی عرب ہیجان سے نکل کر معاملات کو دیکھے اور یہ جائزہ لیکر امریکہ نے اُنکے ایران کے درمیان غیرضروری طور پر کشیدگی کو ہوا دی اور سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے 120 بلین ڈالر کے دفاعی سامان بیچنے کے سودے کر لئے اور امریکی اخبارات میں یہ چرچا بھی کیا جارہا ہے کہ ایک خاندان کے نام سے ایک ملک اور خود خلیجی ملک سے نئی شراکت داری میں اصطلاح کے ساتھ امریکیوں نے عرب بہار کو ترجیح دی ہے جس سے سعودی عرب کے حکمرانوں کو واضح پیغام جارہا ہے کہ امریکی اُن کے بارے میں نیک ارادے نہیں رکھتے۔ چنانچہ نئے دوستوں کی تلاش میں انہوں نے پاکستان سے رجوع کیا اور سعود الفیصل کے فوری بعد 27جنوری کو سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع دورے پر آئے۔ 4 فروری کوجنرل راحیل شریف سعودی عرب کے دورے پر گئے۔

7فروری کو سعودی نائب وزیر دفاع پاکستان کے دورے پر آئے اور 15 فروری کو سعودی ولی عہد پاکستان آئے۔ یوں دیکھا جائے تو اِن دوروں کی ایک بہت بڑی مشق ہوگی کہ دونوں اطراف سے ایسا لگتا تھا کہ قربت کی راہیں بڑی تیزی سے کھل رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اِن ملاقاتوں اور دوروں میں کیا طے ہوا، جو بات سامنے کھل کر آئی ہے وہ تو یہ ہے کہ پاکستان ایٹم بم سعودی عرب کو دے جس پر پاکستان نے معذوری کا اظہار کر دیا ۔اس کا اندازہ لگا کر سعودی عرب نے فرانس سے بات جاری رکھی ہوئی ہے مگر گمان یہ ہے کہ پاکستان ایٹمی چھتری فراہم کرنے کی حد تک شاید کسی وقت میں آجائے،اگر امریکیوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالات بہت خراب کر دیئے مگر پاکستان کیلئے لازم ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان جو آگ لگائی جارہی ہے اُس کے بجھانے کیلئے وہ پانی ڈالتا رہے۔ اُن کی دوری کو اُس حد تک نہ جانے دے جو امریکی منصوبہ کا حصہ ہے، جس کے بارے میں خود پاکستانیوں کے بارے میں اُنکی رائے ہے کہ پاکستان پکے ہوئے پھل کی طرح نئی سرد جنگ میں اُنکی گود میں آگرے گا۔ دوسرے سعودی عرب نے مشترکہ اسلحہ سازی کی بات کی ہے جسکو بھی پاکستان نے قبول نہیں کیا البتہ سامان حرب بیچنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور اسی سرٹیفکیٹ کے ساتھ کہ اس کا استعمال کس کیخلاف ہوگا ایران اور شام میں یہ اسلحہ استعمال نہیں ہونا چاہئے۔

پاکستان سعودی عرب کو F-17 تھنڈر طیارے، کروز میزائل، تربیتی طیارے مشاق اور بحریہ کیلئے جدید چینی ساختہ بحری جہاز بیچنے کو تیار ہے۔ اسکے علاوہ سعودی عرب اپنے اجناس کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کئی ہزار ایکڑ بنجر زمین 99 سالہ لیز پر لینے کا خواہشمند ہے۔ ایک اخباری اطلاع جسکی تصدیق نہیں ہوسکی ہے مگر یہ ضرور ہے کہ پاکستان کو ایک آزاد، خودمختار ملک کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف سعودی عرب بلکہ ایران کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ جیش العدل اور تحریک الانصار ایران میں تخریب کاری کررہی ہے، میرے مضمون کے بعد یہ خبر نکلی کہ یہ تحریکیں افغانستان سے کنٹرول کی جارہی ہیں تاہم تخریب کار پاکستان کے راستے پیدل ہی داخل ہوتے ہیں، انہیں روکنا چاہئے، اسکے علاوہ امریکہ ایران کا ہمدرد ملک بن جائے گا، یہ سوچنا بھی غلط ہوگا کیونکہ اس کو ایران میں بارودی سرنگیں بچھانے کیلئے سہولت درکار ہے۔ اگر پاکستان ایک دوست ملک ہے اور امریکہ سے زخم خوردہ ہے تو اسے یہ بات ایران کو بھی سمجھانا چاہئے تاہم پاکستان چین سے جو تعلق داری کو بڑھا رہا ہے وہ جاری رہنا چاہئے۔ سعودی عرب کے ولی عہد بھارت کے دورے پر بھی گئے، وہاں بھی انہوں نے اسلحہ اور تیل کی فروخت کی بات کی اور اُس کے بعد وہ چین کے دورے پر گئے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی عرب چین سے بھی اپنے تعلقات استوار کر رہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں