.

آگ بجھانے کے لئے پٹرول کا چھڑکائو

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم نوازشریف نے گزشتہ روز پاکستان کے تمام ہمسایہ ملکوں سے اچھے تعلقات قائم کرنے اور قائم رکھنے کے فیصلے اور خواہش کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان کے ہمسایہ ملکوں میں اگر چین جیسا سراپا دوست ملک ہے تو ہندوستان جیسا دوست دشمن یا دشمن دوست ملک بھی ہے۔ ہمارے ایک شاعر سیف الدین سیف نے کہا تھا کہ

؎
دشمن گئے تو کشمکش دوستی گئی
دشمن گئے کہ دوست ہمارے چلے گئے

کچھ ایسام ہی معاملہ ہندوستان جیسے ملک کے پاکستان کے ساتھ تعلق کا بھی ہے۔ ہندوستان اگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے تو دنیا کی سب سے بڑی غربت اور دنیا کی سب سے بڑی کرپشن بھی ہے۔ سرمایہ داری نظام کے طبقاتی معاشرے کی جمہوریت کے انتخابات بھی سرمائے کے بل بوتے پر ہونے والا مقابلہ ہی ہوتا ہے جس میں زیادہ امیر کی جیت اور کم امیر کی شکست ہوتی ہے۔ ہندوستانی انتخابات میں 81 کروڑ 50 لاکھ بالغ ووٹروں کے پاس ووٹ ڈالنے کا اختیار تو ہوتا ہے مگر صحیح امیدوار کے فیصلے کا اختیار نہیں ہوتا۔ ہندوستان کی دس بڑی اجارہ داریوں میں سے سات پر بھاری کرپشن کے الزامات ہیں اور دیگر تین اجارہ داریاں شائد زیادہ مہارت رکھنے کی وجہ سے اپنی کرپشن کو چھپا سکتی ہیں۔

ایک تازہ ترین سروے کے مطابق ہندوستان کے 96 فیصد باشندے ہندوستان کو بدعنوانی اور کرپشن کا گڑھ قرار دیتے ہیں۔ کرپشن کے خلاف مہم کی وجہ سے ’’انا ہزارے‘‘ مقبولیت حاصل کرتے اور ’’عام آدمی پارٹی‘‘ والے سیاست چمکاتے ہیں مگر کرپشن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ سالانہ ترقی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پچھلے دنوں کرناٹک کی ریاست نے بدعنوانی کے بارے میں 25 ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ چھاپی جس میں بتایا گیا کہ ہندوستان کے ’’انسداد بدعنوانی‘‘ کے ادارے دراصل ’’امداد بدعنوانی‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اکانومسٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بمبئی کے بینکار سیاست دانوں کی مدد سے کرنسی کے کاروبار کے ذریعے راتوں رات کروڑ پتی بنا سکتے ہیں اور بن رہے ہیں۔ جس طرح دنیا کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ’’پنسلین‘‘ کی دریافت کے بعد ہوا ویسے ہی ہندوستان میں کرپشن نے ریاستی ملکیت کی معیشت کو نجکاری کے حوالے کرنے کے بعد نئی بلندیوں کو چھوا۔ یہ بھی ’’اکانومسٹ‘‘ کی سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان کے پانچ سو اعلیٰ سرکاری افسروں میں سے صرف دس فیصدی کسی حد تک دیانت دار ہونے کی شہرت رکھتے ہیں اور ہندوستان کی سالانہ رشوت اور کرپشن کا حجم 12 ارب ڈالروں سے تجاوز کر چکا ہے۔ ہندوستان میں آخری مرتبہ کسی ایک سیاسی جماعت (کانگریس) کی حکومت صرف 1984ء میں قائم ہوئی، اس کے بعد ہندوستان کی تمام حکومتیں مخلوط بنیادوں پر قائم کی گئی ہیں اور مخلوط حکومتوں میں کرپشن اور بدعنوانی کے ذریعے مخلوط حکومتوں کی جماعتوں کو راضی کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں انتخابی مہم پر اخراجات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سونیا گاندھی کے ایک انتخابی جلسے پر پانچ کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔

نریندرا مودی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسے اور اس سے بڑے 185 انتخابی جلسوں سے خطاب کرنا ہے۔ دو ہزار دس سے دو ہزار پندرہ تک کے پانچ سالوں کے دوران ہونے والے وفاقی اور صوبائی انتخابات پر پانچ ارب ڈالر خرچ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ سیاست دانوں نے یہ خرچہ اپنے دور اقتدار میں ہی پورا کرنا ہے۔ ہندوستان کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا بیس فیصد ہے اور ہندوستان کی غربت دنیا کی مجموعی غربت کا چالیس فیصد ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کے ایک ولی عہد راہول گاندھی نے ابھی پچھلے دنوں ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان کی غربت معاشی ترقی کے بغیر ختم نہیں کی جاسکتی اور معاشی ترقی کے لئے آزاد منڈی کی معیشت کو اپنانا ضروری ہے دوسرے لفظوں میں موصوف پٹرول چھڑکنے کے ذریعے آگ بجھانے کی بات کررہےہیں۔ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ حافظ سعید اگر یہ سمجھتے ہیں کہ نریندرا مودی کے وزیراعظم ہندوستان بن جانے کے بعد کشمیر بھارت کے قبضے میں نہیں رہ سکے گا تو اس سے ان کی کیا مراد ہے اور ہندوستان کے موجودہ وزیر خزانہ چدامبرم کے خیال میں مودی کو اتنی ہی معیشت کی سمجھ ہے جتنی کہ ڈاک کی ٹکٹ کی پشت پر لکھی جا سکتی ہے۔ ہندوستان کی معیشت کی سالانہ شرح نمو گزشتہ پانچ سالوں میں دس فیصدی سے گر کر پانچ فیصدی رہ گئی ہے۔ مزید گراوٹ کے اندیشے نمایاں ہیں۔

ہندوستان کے ایک ارب سے زیادہ لوگ غربت کی آخری لکیر سے نیچے غرق ہوچکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی سیاست سرمائے کی لونڈی اور ریاست سرمائے کی محافظ ہے ذرائع ابلاغ اور پورا ہندوستانی میڈیا سرمائے اور بلیک سرمائے کے قبضےمیں ہے بائیں بازو کے دانشوروں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات انقلاب کو آگے بڑھنے کے لئے رد انقلاب کے دبائو کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دبائو نریندرا مودی فراہم کر سکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.