.

سنگین وفاداری

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حیرت ناک خبر ہے!
حکمران مسلم لیگ مشرف کو بیرون ملک اجازت دینے کا فیصلہ نہ کر سکی اور وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے پارٹی اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔ خبر ہے کہ شاید آج ’’پنچھی‘‘ کو با عزّت بھاگنے کی اجازت مل جائے۔ اجلاس میں کچھ لوگ اجازت دینے کی حمایت کرتے رہے جبکہ باقی مخالف تھے۔ یہ باقی اکثریت میں تھے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس اجلاس کو بلانے کی ضرورت ہی کیوں پڑی۔ مشرف پر فرد جرم عائد ہو چکی۔ اب وہ باقاعدہ ملزم ہے۔ اسے باہر بھیجنے کی اجازت کا سوال ہی غلط ہے۔ لگتا ہے، کہیں نہ کہیں سے دباؤ آ رہا ہے اور ڈکٹیشن قبول نہ کرنے والوں نے دباؤ قبول کر لیا۔ ڈکٹیشن اور دباؤ میں فرق تو ہوتا ہی ہے۔ باہر جانے کی اجازت کا جواز یہ بتایا گیا ہے کہ مشرف کی والدہ بیمار ہیں۔ ایسا ہے تو جو ریاست مشرف کی سکیورٹی کیلئے ہر ماہ20کروڑ روپے خرچ کر سکتی ہے، وہ اس کی والدہ کو پاکستان لانے کیلئے ذرا سی رقم کیوں نہیں خرچ کر سکتی؟

لیکن ایسی صورت میں سوال اٹھے گا کہ مشرف کی والدہ کا علاج کہاں ہو گا۔ مشرف بیمار پڑا تو پتہ چلا کہ پاکستان میں ایسا کوئی ہسپتال ہے ہی نہیں جہاں ڈھنگ کا علاج ہو سکے۔ سوائے اسلام آباد کے فوجی ہسپتال کے جس کی بہت شہرت سنی تھی کہ اس جیسا کامیاب علاج کہیں اور نہیں ہوتا لیکن مشرف کیس نے یہ شہرت بھی غلط ثابت کر دی۔ تین مہینے ہو گئے، مشرف ابھی تک ’’لا علاج‘‘ ہے۔ دل جلے تو یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ اس سے اچھا تھا کہ لاہور کے میو ہسپتال میں داخل کرا دیتے۔ ہفتے بھر میں علاج ہو جاتا ۔ یہ کیسا ’’ایلیٹ ہسپتال ‘‘ ہے ۔جو تین مہینے میں بھی مریض کا مزاج ، معاف کیجئے گا، مرض درست نہ کر سکا!درست کیا کر سکتا، وہ تو مرض کی تشخیص بھی نہیں کر سکا۔

_______________________________
یہ تو تحریر کی کہانی تھی، تصویر کی کہانی کچھ اور ہے۔ فرد جرم لگوانے کیلئے مشرف عدالت آیا تو ہٹاّ کٹاّ تھا(براہ کرم دونوں لفظوں کو اکٹھا پڑھئے اور صرف ایک کو ، خاص طور سے بعد میں آنے والے کو زور دے کر پڑھنے کی ضرورت نہیں)۔ تصویر کی کہانی یہ ہے کہ عدالت آنے سے پہلے مشرف نے ’’بسترِعلالت‘‘ پر ایک تصویر کھنچوائی جو سارے اخبارات نے چھاپی۔ اس تصویر کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ مرض اس کے پاس سے بھی پھٹکا ہوگا۔ ہٹائیت اور کٹائیت اس تصویر سے پھوٹ رہی ہے۔ مجسم ہٹائیت اور کٹائیت بنا بیٹھا مشرف اپنے لب کھولے ہوئے ہے۔ لگتا ہے بات کرنے والا ہے یا کر چکا ہے۔
کیا بات کی ہو گی؟ یہی کہ ’’ڈرتا ورتا کسی سے نہیں‘‘

_______________________________
مشرف پرجو کیس چل رہا ہے، وہ سنگین غدّاری کا کیس ہے اور فرد جرم جو اس پر لگی ہے اس میں بھی نمایاں نکتہ یہی سنگین غدّاری ہے۔ سنگین غدّاری انگریزی اصطلاح ہائی ٹریژنHigh treason کا اردو ترجمہ ہے جس پر شجاعت مشاہد، متحدہ اور دیگر ’’پیر بھائیوں‘‘ کو سخت اعتراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ترجمہ غلط ہے۔ کسی نے انہیں ٹھیک مشورہ دیا ہے کہ ترجمہ غلط ہے تو ٹھیک کرلیں۔ جو بھی ترجمہ کر لیں، رہے گا تو ہائی ٹریژن ہی۔ پھول کو جو بھی نام دو، پھول ہی رہے گا اور کانٹے کا نام بدل کر جو چاہے رکھ دو، اس کی نوک نکیلی اور کٹیلی ہی رہے گی۔
ٹھیک ترجمہ کیا ہو سکتا ہے ؟۔ آسان حل یہ ہے کہ سنگین غدّاری کے لفظ کو سنگین وفاداری کے نام سے بدل دیا جائے۔ پھر تو مشرف اور اس کے بیعت یافتگان جملہ پیر بھائیوں کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ چنانچہ خبریں اس سرخی کے ساتھ چھپیں گی: مشرف پر سنگین وفاداری کے مقدمے کی سماعت۔ پیشی کے روز سرکاری وکیل اکرم شیخ نے جب مشرف سے یوں مکالمہ کیا کہ مجھے آپ کی وفاداری پر کوئی شبہ نہیں تو دراصل وہ یہی ’’ترجمہ‘‘ استعمال کر رہے تھے اور ان کا مطلب تھا’’مجھے آپ کی سنگین وفاداری پر کوئی شبہ نہیں‘‘۔
لیکن ابھی تو دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ ڈکٹیشن قبول نہ کرنے والی مسلم لیگ نے ’’دباؤ‘‘ قبول کر لیا اور مشرف کمانڈ و ایکشن کرتے ہوئے ملک سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تو مقدمہ از خود ہی لاپتہ ہو جائے گا۔ پھر اس بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی کہ ہائی ٹریژن کا ٹھیک اردو ترجمہ کیا ہے!

_______________________________
پاکستان ویسٹ انڈیز سے ہار گیا تو بہت سے لوگ دکھی ہو گئے۔ حالانکہ دکھی ہونے کی کوئی بات نہیں۔ کسی ایک ملک کی ٹیم سے ہار ہوتی تو دکھی ہونا ٹھیک تھا۔ ویسٹ انڈیز15ملکوں کی ٹیم ہے۔ 15ملکوں سے ایک اکیلا ملک ہار جائے تو اس میں کیسی شرمندگی!
ویسٹ انڈیز کو کچھ لوگ (یا شاید زیادہ تر لوگ) ایک ملک سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس نام کا کوئی ملک نہیں۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم بحیرہ کیریبین میں موجود15ملکوں کی مشرکہ ٹیم ہے۔ ان ملکوں کو، جب امریکہ دریافت ہوا تھا تو یورپی دریافت کنندگان نے ویسٹ انڈیز کا نام دیا تھا کہ شروع میں انہیں غلط فہمی تھی کہ وہ انڈیا آ پہنچے ہیں۔ پھر ان ملکوں کا نام ہی ویسٹ انڈیز پڑ گیا۔ جو سیاّح گھوم کر مشرق جا پہنچے، انہوں نے انڈونیشیا کے جزیروں کو دیکھا تو انڈیا سمجھ لیا اور انہیں ایسٹ انڈیز کا نام ملا۔ اب ایسٹ انڈیز کا نام تو جغرافیے سے غائب ہو گیا لیکن ویسٹ انڈیز کا نام بدستور ہے۔ ویسٹ انڈیز کا سب سے بڑا ملک کیوبا ہے۔ لیکن وہ اس ٹیم میں شامل نہیں جسے ویسٹ انڈیز کی ٹیم یا ’’ونڈیز‘‘ کہا جاتا ہے۔ ونڈیز جن ملکوں کی ٹیم ہے ان میں اینٹیگوا اینڈ برموڈا، بارباڈوس، ڈومینکا، گرینیڈا،گیانا، جمیکا،سینٹ لوسیا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، سینٹ ونسٹ وغیرہ شامل ہیں جبکہ تین برطانوی مقبوضہ علاقے انگوئی لاء، ورجن آئی لینڈ، مونٹ سرٹ، بھی شامل ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ ورجن آئی لینڈ کا جو حصہ امریکہ کے قبضے میں ہے، وہ بھی ونڈیز میں شامل ہے یعنی ایک چھوٹے سے جزیرے کی نمائندگی دو مرتبہ ہے۔

آپ کہیں گے کہ یہ اتنے ننھّے منّے اور چھوٹے چھوٹے ملک ہیں کہ انہیں خوردبینی یا مائیکرو ملک کہنا چاہیے، یہ تو سارے مل کر بھی ایک ضلعے کے برابر نہیں بنتے تو اس اعتراض کا جواب رئیسانی صاحب کی زبان میں یوں ہے کہ ملک ملک ہوتا ہے، چاہے بڑا ہو چاہے چھوٹا اور چاہے اتنا چھوٹا کہ نقشے پر نظر ہی نہ آئے۔

یہ ملکچے جزیروں کی شکل میں کیوبا کے نیچے سے شروع ہو کر جنوبی امریکہ کے شمالی ساحل تک پھیلے ہوئے ہیں البتہ گیانا ان میں جزیرہ نہیں ہے۔ وہ جنوبی امریکہ کی مین لینڈپر ایک چھوٹا سا ملک ہے یہ سارے’’ملکچے‘‘ اپنی قدرتی خوبصورتی اور لینڈ سکیپ اور پُر فضا ساحلوں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔

_______________________________
ایران اپنے باغیوں کے مسئلے پر ان دنوں پاکستان کے گریبان گیر ہے اور آئے روز نئی دھمکی دیتا ہے۔ حالیہ واقعہ یوں ہوا کہ ایران کی حدود میں باغیوں نے کارروائی کی ،وہیں ایک گارڈ کو مار دیا اور اس کی لاش ایرانی علاقے میں ہی پھینک دی لیکن ایران نے غصّہ پاکستان پر نکالا۔ کیوں؟۔

اور باغیوں کا یہ مسئلہ تو ڈیڑھ دہائی سے ہے۔ پہلے ایران نے ایسا کچھ کبھی نہیں کہا تھا، اب اس کا رویہّ اتنا زیادہ جارحانہ ہو گیاہے۔ کیوں؟۔

کیوں کا جواب ’’امریکہ ‘‘ کی تبدیلی نام و مقام میں ہے۔ پہلے ’’شیطانِ بزرگ‘‘ تھا ، اب ’’مہربان بزرگ‘‘ ہو گیاہے اور اس بزرگی میں بزرگوار بھارت کی بزرگی بھی شامل ہے۔
یہ ہے کیوں کا جواب!
_______________________________
ترکی میں امریکی صوفی فتح اللہ گلین کا ’’ خزانۂ قارون‘‘ کام آیا نہ اُسے حاصل سی آئی اے کی جملہ سہولیات کی فراونی اور طیّب اردگان کی پارٹی نے 46 فیصد دونوں کے ساتھ بلدیاتی الیکشن میں کامیابی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

وہ جو کہتے تھے کہ استنبول میں اپوزیشن کے مظاہرے خاموش اکثریت کی ترجمانی کرتے ہیں تو انہیں پتہ چل گیا کہ یہ خاموش اکثریت ویسی ہی تھی جیسی وہ خاموش اکثریت جو ہمارے ہاں مشرف کے بقول اس کی حامی تھی۔ کرپشن کے سکینڈل اور یو ٹیوب پر مہم بھی اکارت گئی۔

لیکن سب ٹھیک پھر بھی نہیں ہے۔ صوفی فتح اللہ گلین کا مرشد باصفا یعنی استنبول کا امریکی سفیر اشرین
مچانکی زخم چاٹنے سے فراغت پاتے ہی اپنے مریدِ با وفاکو نیا ہدایت نامہ ضرور دے گا۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.