.

پاکستان ایٹمی سپلائی گروپ کی ممبر شپ کا اہل ہے

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیسری ایٹمی تحفظاتی سربراہی کانفرنس 24 اور 25 مارچ 2014 ء کو ہیگ ہالینڈ میں ہوئی، پاکستان کو اس کانفرنس میں سابقہ کانفرنس کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت دی گئی کہ پاکستان کے وزیراعظم کو 53 ممالک کی کانفرنس میں اس طرح اسٹیج پر بٹھایا گیا کہ اوباما ان کے دائیں اور جرمنی کی چانسلر مرکل اُن کے بائیں جانب اور ساتھ جاپان کے سربراہ بیٹھے ہوئے تھے اس کانفرنس میں امریکہ نے جاپان کے ساتھ جوہری معاہدہ کا اعلان بھی کیا مگر پاکستان کو بطور ایٹمی طاقت باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا، اگرچہ پاکستان کے حکمراں اس صورتحال کو نہ صرف دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں بلکہ محظوظ بھی ہو رہے ہیں کہ عجب طرفہ تماشا ہے کہ ہم جوہری طاقت ہیں اور پھر تسلیم کرنے میں اتنا پس و پیش کہ جیسے ہماری ایٹمی صلاحیت کوئی ریت کا ڈھیر ہو۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان جدید ایٹمی اسلحہ اور موثر نشانہ لگانے کے نظام سے آراستہ ہے، اس کانفرنس میں امریکہ اور روس نے یوکرین اور کریمیا پر اپنے تعلقات کی خرابی سے صرف نظر کیا۔ سربراہی کانفرنس کا سلسلہ2010 ء میں شروع ہوا تھا، پہلی کانفرنس واشنگٹن میں 2010 ء جبکہ دوسری کانفرنس 2012 ء میں سیول جنوبی کوریا میں منعقد ہوئی تھی، ان کانفرنسوں کا مقصد ہے کہ ایٹمی مواد یا جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کو دہشت گردوں کی دسترس میں جانے سے روکا جائے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہ ٹیکنالوجی حاصل کر کے سیب جتنا بڑا ایٹم بم نہ بنالیں جو بہت تباہی پھیلائے گا یا وہ ڈرٹی بم بنا سکتے ہیں جس سے اگرچہ کم درجے کی تباہی ہو گی مگر بہرحال یہ دنیا کیلئے خطرناک ہو گا کہ یہ ہتھیار غیر ذمہ دار افراد کے ہتھے چڑھ جائیں۔ اب چوتھی کانفرنس 2016 ء شکاگو میں ہو گی۔

اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ 2010ء سے اب تک کہ چار سالوں میں اس سلسلے میں کافی پیشرفت ہوئی ہے مگر ابھی بھی دنیا کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم دہشت گردوں تک اس ٹیکنالوجی کی رسائی یا ایٹمی مواد تک نہ پہنچنے دینے کیلئے دنیا کے ممالک میں اتفاقِ رائے بڑھا ہے۔ انہوں نے یہ اپیل کی کہ ریاستوں کو چاہئے کہ وہ اپنا ایٹمی اسٹاک گھٹائیں اور یورینیم کی کم درجے کی افزودگی کو یقینی بنائیں۔ یاد رہے کہ پچھلے کئی برسوں سے امریکہ پاکستان پر زور دیتا رہا کہ پاکستان دنیا سے ایٹمی مواد نہ بنانے کا معاہدہ کرے، پاکستان کا یہ کہنا ہے کہ اُس کے پاس ایٹمی افزودہ مواد دنیا میں سوائے کوریا کے سب سے کم ہے اس لئے وہ ممالک جو ٹنوں کے حساب سے ایٹمی مواد رکھتے ہیں اسے گھٹائیں۔ پاکستان اس مقام پر اگر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کے پاس اتنی مقدار ہو جائے جو بڑے ایٹمی ممالک کے پاس ہے تو وہ ایسا معاہدہ کرنے کیلئے دستیاب ہے ورنہ نہیں۔ چنانچہ پچھلے کوئی 15 سالوں سے مذاکرات جنیوا میں ہو رہے ہیں اگرچہ وہ دس سال تک معطل رہے اور ہر دفعہ پاکستان کے علاوہ فرانس اور بھارت کی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ ایٹمی افزودہ میزائل کی پیداوار روکے جانے کے اصول کو اس وقت تک نہ مانیں جب تک وہ ممالک جو ایٹمی افزودہ میزائل ایک بڑی مقدار میں رکھتے ہیں، مقدار گھٹا کر اس سطح پر لے آئیں کہ جس پر کم مقدار رکھنے والے ممالک متفق یا مطمئن ہو جائیں۔ اگرچہ یہ ممالک اس کا اظہار نہیں کرتے سوائے پاکستان کے کہ ضرب پاکستان ہی کو لگانا ان ممالک کے مطمح نظر دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں ایٹمی مواد کی چوری کا کوئی واقعہ نہیں ہوا مگر برازیل، بھارت اور خود امریکہ میں کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ برازیل میں تو پچھلے دسمبر کے مہینے میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک ریڈیو ایکٹو میزائل سے لدے ٹرک کو چرا لیا گیا۔

اس واقعے پر پاکستان کے وزیراعظم نے انتہائی اہم تقریر کی ہے کہ پاکستان ہر زاویہ سے اس کا اہل ہے کہ ایٹمی سپلائی گروپ کی ممبر شپ اُس کو دے دی جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ ایٹمی مواد کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت مستعد اور متحرک رہنا چاہئے انہوں نے کہا کہ ایٹمی مواد کے تحفظ سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی ہے یہ ہر جوہری ملک کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے تحفظ کے انتظامات کو قوی سے قوی تر کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے برسوں میں ہرایک ملک اس سلسلے میں سیاسی عزم کا اظہار کرے اور جوہری تحفظ کے مقصد کو آگے بڑھائے گا، انہوں نے ایک اچھی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں فیصلہ کے نفاذکے ساتھ ساتھ ہمیں خفیہ اور اعلان شدہ معاملات میں توازن قائم کرنا چاہئے۔ حالت خوف میں الارم بجانا ، لاپروائی سے اجتناب کرنا چاہئے۔ ایٹمی تحفظ سربراہوں کے ریڈار سے گم نہیں ہونا چاہئے۔ میاں نوازشریف نے 2016 ء میں شکاگو میں ہونے والی کانفرنس کو خوش آئند قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ جن مقاصد کیلئے یہ کانفرنس بلائی گئی تھی وہ بالآخر کامیابی سے وہاں ہی سے ہمکنار ہوں جہاں سے یہ مہم چلی تھی۔

امریکہ جہاں ایسی کانفرنس کر کے کئی ایک ممالک کو ہدف بناتا ہے یا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ امن کا داعی ہے مگر اس نے کئی ممالک میں آگ و خون کی کھیتی بوئی ہوئی ہے۔ جہاں انسانیت زخمی ہے ، لوگ مر رہے ہیں، ثقافتیں تباہ ہورہی ہیں انسان مشکلات اور خطرات میں زیادہ گھر گیا ہے جتنا کہ وہ 9/11 کے واقعے سے پہلے تھا۔ پچھلے چودہ برسوں سے اس نے پاکستان کو دبائو میں رکھا کہ وہ ایٹمی مواد کی پیداوار بند کردے۔ ایٹمی عدم پھیلائو پالیسی کو خود اس نے بھارت کے ساتھ معاہدہ کرکے توڑا۔ اُسے ایٹمی سپلائی گروپ کا ممبر بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ اس امتیازی سلوک پر پاکستان سراپا احتجاج رہا ہے اور یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ بھی ایٹمی ملک ہے اور اُس کے ساتھ دُنیا اس طرح کا سلوک کرے جو ایٹمی ممالک کے ساتھ ہوتا ہے، اس طرح کا تعاون کرے جس طرح ایٹمی ممالک ایک دوسرے سے کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اس سے دور رکھنا نہ ہی مناسب ہے اور نہ عالمی مفاد میں کہ ایسا کرنے سے ایسا دہرا نظام وضع ہو سکتا ہے جو خود کے قائم کردہ نظام کو چیلنج کرنے لگے۔ میں نے خود امریکہ اور مغربی ممالک کے رویہ کو دیکھتے ہوئے 1998ء میں ایشیائی ایٹمی کلب کا نظریہ پیش کیا تھا کہ ایشیاء کے ممالک اپنا ایٹمی کلب بناڈالیں، وہ پاکستان انڈیا اور چین پر مشتمل ہو، اس بات کو سمجھتے ہوئے امریکہ نے ایشیاء کے ایک ملک بھارت سے سول جوہری معاہدہ کرکے پاکستان کو تنہا کر دیا، پاکستان سے یہ غلطی ہوئی کہ اس نے بھارت کے ایٹمی سپلائی گروپ میں داخلہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی تاہم اس کانفرنس میں وزیر اعظم پاکستان نے مزید ملکوں کو شامل کرنے کی تجویز دی تاکہ اس منصوبہ کی ملکیت کی ذمہ داری زیادہ ملک اپنے کندھوں پر اٹھائیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نے IAEA کی ممبر شپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں لگنا چاہئے کہ دو متوازن نظام روبہ عمل ہیں اور اس تصور کو تقویت نہیں ملنا چاہئے کہ جوہری تحفظ سربراہی کانفرنس کوئی نظام وضع کرنے کی کوشش کر رہی ہے یا کوئی نیا معاہدہ کرنے کی جستجو میں ہے، اس طرح وزیراعظم نے پاکستان پرFMCTُکا معاہدہ کرنے کے سلسلے کو بند کرنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے تمام جوہری اداروں کو جن میں IAEA اور اقوام متحدہ کا جوہری دہشت گردی کے سدباب کا ادارہ ہے کو یکجا ہوکر کام کرنے کا مشورہ دیا، اس طرح انہوں نے بات دوسرے تناظر میں کہی مگر مقصد یہ تھا کہ پاکستان پر کسی کا دبائو نہ ڈالا جائے، اس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان کی تقریر ایک ذمہ دار جوہری ملک کے پر اعتماد سربراہ کی تقریر تھی اور ایسے ملک کے وزیراعظم کی تقریر تھی جس کا جوہری مواد کے تحفظ کے سلسلے میں شاندار ریکارڈ ہے اور وہ جوہری تحفظ کے معاملے میں دوسرے ملکوں سے کہیں زیادہ تجربہ رکھتا ہے اسی لئے پاکستان نے جوہری تحفظ کے سلسلے میں دوسرے ممالک کو تعاون کرنے کی پیشکش کی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.