.

افغانستان کے انتخابات اور خطے کی سلامتی

حسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

5 اپریل 2014ء کو افغانستان میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ اس الیکشن اور اس سے قبل ہونے والے الیکشن میں کچھ چیزیں مختلف ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ صدر حامد کرزئی اپنی مدت پورے کرنے کے بعد انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے کیونکہ آئین کے مطابق وہ اس سے قبل دوبارہ صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے سابقہ انتخابات پر کافی تنقید ہوتی رہی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان انتخابات کے بعد امریکی فوجیں رخصت ہونے جا رہی ہیں۔ یعنی سال رواں 2014ء کے اختتام کے ساتھ فوجوں کی روانگی مکمل ہونے کی توقع ہے۔

اس کے علاوہ حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے سکیورٹی معاہدے پر بھی دستخط نہیں کیے۔ جس سے امریکی فوجوں کے مزید دس سال یعنی 2024ء تک افغانستان میں قیام پر بھی سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ پوری دنیا الیکشن کے بعد کی نئی حکومت کی آمد اور امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد کی افغانستان کی سکیورٹی کی صورت حال سے سخت پریشان ہے۔ اس وقت الیکشن کی مہم زوروں پر ہے۔ اس سے قبل تقریباً 3 سروے ہو چکے ہیں جو کہ بین الاقوامی اداروں نے کیے ہیں۔ گلیون ایسوسی ایٹس کے سروے کے مطابق جو کہ 2148 ووٹروں اور 34 صوبوں پر مشتمل ہے۔ 90 فیصد کی رائے ہے کہ وہ کسی ایسے امیدوار کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے جو کہ بدعنوانی میں ملوث ہے۔ 61فیصد کی رائے ہے کہ وہ ایسے امیدوار کو ووٹ دیں گے جو کہ طالبان سے گفت و شنید کے حق میں ہو گا۔ 51 فیصد کی یہ رائے ہے کہ وہ ایسے امیدوار کو ووٹ دیں گے جو پاکستان سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہو گا۔ 71 فیصد کی یہ رائے ہے کہ وہ ایسا امیدوار منتخب کرنا چاہتے ہیں جو امریکہ سے تعلقات کو بہتر کرے۔ امیدواروں کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ہوئے 29 فیصد نے اشرف غنی کے حق میں رائے دی۔ جو کہ عالمی بینک کے سابق ملازم ہیں۔ 25 فیصد نے اپنی رائے عبداللہ عبداللہ کے حق میں دی ہے۔

عبداللہ عبداللہ پچھلے الیکشن میں حامد کرزئی سے دوسرے مرحلہ میں شکست سے دو چار ہوئے تھے۔ عبدالرب رسول سیاف نے 10 فیصد سے بھی کم ووٹ لیے اور باقی امیدواران اس لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔ دوسرا سروے ڈیمو کریسی انٹرنیشنل نے کیا ہے۔ انہوں نے 2500 ووٹروں کی رائے لی ہے۔ ان کے نتائج کے مطابق اشرف غنی نے 25 فیصد ووٹ حاصل کیے اور دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ عبداللہ عبداللہ 31 فیصد ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں۔ تیسرا سروے ٹولونیوز اور اے ٹی آر نے کیا ہے۔ ان کے نتائج بھی تقریباً ڈیموکریسی انٹرنیشنل کی طرح سے ہیں۔

عام طور پر جن ممالک میں انتخابات کا عمل شروع ہوتا ہے تو بین الاقوامی مبصرین کی لمبی لائن اس ملک کی طرف رواں دواں ہو جاتی ہے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق الیکشن سے قبل ہی غیر ملکیوں نے کابل سے روانگی اختیار کر رکھی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بہت سے لوگ باہر جا رہے ہیں اور آنے والے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ مبصرین کے مطابق افغانستان میں الیکشن صرف 100 ملین ڈالر کے خرچے کا کھیل ہے لیکن اس کے ساتھ اتنے خطرناک حالات وابستہ ہیں اور غیر یقینی کی صورت حال ہے کہ خطرات مول نہیں لیے جا سکتے۔ خاص طور پر الیکشن کمیشن پر حملے کے بعد کی صورت حال نے پورے ملک میں خوف و ہراس کی کیفیت طاری کر دی ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ سرینا ہوٹل پر حملے کے بعد جہاں زیادہ تر غیر ملکی قیام پذیر ہوتے ہیں حالات کو مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں کام کرنے والے مختلف بین الاقوامی اداروں نے اپنا کام یا تو بالکل بند کر دیا ہے۔ یا پھر اس کو محدود کر دیا ہے۔ خاص طور پر وہ ادارے جو کہ انسانی حقوق یا الیکشن کے انعقاد کے تناظر میں کام کر رہے تھے ان کا کام بند ہونے یا محدود ہونے سے الیکشن کی شفافیت کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تمام امور بنیادی طور پر سکیورٹی کی صورت حال سے منسلک ہیں اور سکیورٹی کی صورت حال خاص طور پر افغان فورسز کے ہاتھ آنے کے بعد گومگو کی کیفیت سے دوچار ہے۔ اگر افغانستان میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف الیکشن کسی بھی وجہ سے نہیں ہو سکتے تو افغانستان کو ملنے والی امداد بھی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے کیونکہ افغانستان کو امداد دینے والے ممالک نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ آئندہ کی امداد الیکشن کے شفاف انعقاد سے منسلک ہو گی اور جب تک اس کی تصدیق بین الاقوامی مبصرین نہیں کریں گے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مبصرین کی یہ بھی رائے ہے کہ دونوں بڑے امیدوار چونکہ ہم پلہ ہیں اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ کہیں 50 فیصد سے زائد ووٹ نہیں مل سکیں گے۔ اس طرح وہ پہلی ہی بار انتخابات نہیں جیت پائیں گے۔

اگر کسی بھی امیدوار کو 50 فیصد سے زائد ووٹ نہ مل سکے تو دوبارہ ’’رن آف‘‘ الیکشن ہو گا۔ بالکل اسی طرح جیسے پچھلے الیکشن میں حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان ہوا تھا۔ بالآخر عبداللہ عبداللہ نے اس کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس بار یہ شک ہے کہ اگر کسی امیدوار نے 50 فیصد سے زائد ووٹ نہ لیے تو معاملہ عدالت میں چلا جائے گا اورلٹکنے سے سکیورٹی کی صورت حال مزید خدشات کا شکار ہو سکتی ہے۔

افغانستان کے انتخابات اس سارے تناظر میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ نہ صرف افغانستان کی اندرونی صورت حال کے لیے اہم ہیں بلکہ خطے کی مجموعی صورت حال کے اعتبار سے بھی اہم ہیں۔ اگر افغانستان میں انتخابات کے حوالے سے کوئی خرابی ہوئی تو اس سے افغانستان کے ساتھ ساتھ پورا خطہ ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں الیکشن کے حوالے سے تربیت یافتہ اور تجربہ کار سٹاف کی پہلے ہی کمی ہے۔ غیر ملکی سٹاف کے بھرپور طریقے سے کام نہ کرنے سے انتخابات کے مراحل کو احسن طریقے سے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکے گا۔

افغانستان کا انتخاب اب سر پر آ ن پہنچا ہے۔ بین الاقوامی قوتوں، اقوام متحدہ اور خاص طور پر امریکہ کو چاہیے کہ اس مرحلے میں افغانستان کو مکمل مدد فراہم کرے تا کہ یہ مراحل کامیابی سے گزریں اور جمہوریت افغانستان میں رواں رہ سکے۔ طالبان کی حکومت 2001ء میں گرنے کے بعد افغانستان سخت مشکل ادوار سے گزرتا رہا ہے ۔ اب حالات میں کچھ بہتری آئی ہے۔ اس کو مزید بہتر کرنے میں موجودہ انتخابات کا بہت بڑا کردار ہو گا۔ جس سے پورے خطے کی صورت حال بہتر ہو گی۔ بصورت دیگر حالات دوسرا رخ اختیار کر گئے تو خطے کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.