.

تشدد پر اکسانے والے برائی کے مبلغ

خالد المعینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت داخلہ میں تعینات ڈائریکٹر اقدامات اور پروگرام ڈاکٹر عبدالعزیز الحلیل نے حال ہی میں کہا ہے کہ مملکت میں بعض نوجوانوں میں انتہا پسندانہ نظریات کو اختیار کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ان کے بہ قول ان نوجوانوں میں یہ انداز فکر اور رجحان دراصل (بعض مبلغین کے) لیکچرز اور اجلاسوں میں شرکت کا نتیجہ ہے۔

اس طرح کے اجتماعات کی نگرانی کے ذریعے منفی اور مخالفانہ رجحانات کا بالکل ابتدائی مرحلے میں پتا چلایا جاسکتا ہے۔ اس عمل کو ملک بھر میں فروغ دیا جانا چاہیے اور اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ ہم بہت زیادہ وقت ضائع کرچکے ہیں اور اپنے بہت سے نوجوانوں کو ان ہاتھوں میں کھو چکے ہیں، جو ان کے معصوم ذہنوں کو آلودہ کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر یہ نوجوان تباہی اور بربادی کی جانب چل نکلے۔

ان موت کے ایجنٹوں نے نوجوانوں کو تشدد پر اکسایا اور نوجوانوں کو ہر کسی سے نفرت کے لیے ورغلایا ہے۔ ایسے لوگ دراصل برائی کے مبلغ ہیں جو عدم رواداری کی تبلیغ کررہے ہیں اور ایسے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہیں اور یہ تعلیمات روداری ،امن اور محبت ہیں۔

ان خودساختہ مبلغین میں کوئی رحم دلی نہیں ہے اور وہ جہنم کی آگ کے بارے ہی میں گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اپنے پیروکاروں کی قتل اور خونریزی کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔وہ اپنی تکفیری ذہنیت سے ہر اس شخص کو ملحد قرار دے سکتے ہیں جو ان کی سوچ سے ہم آہنگ نہیں۔ ان کے دشمن نہ صرف یہود اور غیرمسلم ہیں بلکہ مسلمان بھی ہیں جو ان کے انتہا پسند نظریے اور جنگجویانہ رویے سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔

مسلم انتہا پسند جہاد کی ایک گمراہ کن شکل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان کا فلسفہ تعمیر نہیں تخریب ہے۔ وہ خوشیاں نہیں بانٹتے بلکہ دکھ اور درد کے بیج بوتے ہیں۔ بدقسمتی سے وہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو ذہنی غسل دینے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور وہ ان سے متاثر ہو کر کسی حاصل وصول کے بغیر ہی اپنی جانیں گنوانے کے مشن پر چل نکلے۔ ان کے آلودہ ذہنوں کے مطابق جو کوئی بھی ان کی سوچ وفکر سے مطابقت نہیں رکھتا، وہ ان کا جائز ہدف ہے۔

اس صورت حال میں ہم کیا کرسکتے ہیں؟ خاندان پہلی دفاعی لکیر ہے۔ ہمیں اپنے بچوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ جب پل بڑھ رہے ہوتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ان میں کیا تبدیلیاں رو نما ہورہی ہیں اور وہ کہیں مسائل کا موجب تو نہیں بنیں گی۔ والدین کو تشدد پر اکسانے والے مواد کو سننے یا دیکھنے کے مضمرات سے متعلق خاکہ تیار کرنا چاہیے۔

اسکولوں میں اساتذہ کو بھی الرٹ رہنا چاہیے اور طلبہ کی توانائی کو تعلیم کے علاوہ کھیلوں،ادبی کلبوں ، موسیقی اور تھیٹر کی سرگرمیوں میں بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ ایک طویل عرصے سے ہمارے اسکولوں نے غیر نصابی اور ہم نصابی سرگرمیاں مہیا نہیں کی ہیں۔ ان کے ذریعے ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی توانائی کا بہتر اور مفید استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں نوجوانوں کو سننا چاہیے اور ان کے ساتھ ابلاغ کرنا چاہیے۔ عمومی طور پر ہم ایک پدرانہ معاشرہ ہیں جس میں اوپر سے نیچے کی جانب ابلاغ ہوتا ہے لیکن ہم اپنے نوجوانوں کے خیالات اور تحفظات پر کوئی کان نہیں دھرتے ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اٹھ کھڑے ہوں اور انتہا پسند نظریے کے اثرات کو روکنے کے لیے حد فاصل کھڑی کردیں۔ نوجوان نسل کے ساتھ گھلنے ملنے سے ہی تشدد اور تخریب کے مبلغین کے اثرونفوذ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ہمیں انحرافی نظریے کے دروازے کو بند کرنا ہوگا اور ان انتہا پسندوں کی منافرت کا خاتمہ کرنا ہوگا جنھوں نے حقیقی مسلم عقیدے کو ہائی جیک کررکھا ہے۔ آئیے اس دروازے کو آج ہی بند کردیں۔
---------------------

خالد المعینا کے سعودی گزٹ میں شائع ہونے والے انگریزی کالم کو امیتاز وریاہ نے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.