.

روس اور عالمی بدلتی صورتِ حال

کاشف بشیر خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امن قائم کرنا دنیا کی ہر حکومت کی خواہش ہوتی ہے۔ دنیا میں بسنے والے باشندوں کی اکثریت بھی امن کی خواہاں و متلاشی دکھائی دیتی ہے۔ جنگ و جدل کے حامی اس دنیا میں بہت کم پائے جاتے ہیں۔ لیکن قوموں کی تاریخ میں کچھ ایسے لمحے بھی آتے ہیں جب ملکی دفاع کے تناظر میں جنگ ضروری ہو جاتی ہے۔ پاکستان بھی آج کل کچھ ایسی ہی حالت کا شکار ہے۔ گو کہ پاکستان اس ممکنہ\” جنگ\” کو ٹالتا چلا آ رہا ہے لیکن ماضی کے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور استعمار کے ہاتھوں کھیلنے کے تناظر میں آج پاکستان جس حالت میں پہنچ چکا ہے ایسے میں پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کو ناکام بنانے کے تناظر میں ایک بڑا فوجی آپریشن نہایت ناگزیر ہو چکا ہے۔ اب آپ اسے جنگ کہیں یا کچھ اور میں تو اسے بڑا فوجی آپریشن ہی کہوں گا۔

ماضی میں دنیا میں دو طاقتوں کا راج تھا۔ روس اور امریکہ۔۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاری ہونے والی سرد جنگ کے یہ ہی دو بڑے فریق تھے۔ دنیا BI Polar تھی یعنی دو بڑے واضح بلاک میں بٹی ہوئی تھی۔ دنیا کے بہت سے ممالک روس کے ساتھ تھے جبکہ اتنی ہی اکثریت امریکہ کے ساتھ تھی۔۔ یہ دور بہت لمبا چلا اور اس کا خاتمہ 1991میں اس وقت ہوا جب روس کی اقتصادی حالت بہت ہی خرا ب ہو گئی اور وہ USSR سے ٹوٹ کر صرف روس رہ گیا۔ اب امریکہ ہی واحد سپرپاور رہ گیا اس ہولناکیوں پر اگر نظر دوڑائیں تو اس دور میں مسلم امہ کی مکمل تباہی و بربادی ہی نظر آتی ہے۔

ماضی سے نکلتے ہیں اور 2013 میں آتے ہیں۔ \”عرب سپرنگ\” کے نام سے جو ڈرامہ تیونس میں امریکہ نے شروع کیا تھا اس کا آخری اسٹیشن شام تھا۔ امریکہ اور استعمار نے جب شام پر اپنا پرانا غلیظ طریقہ استعمال کر کے بچوں کی کیمیکل ہتھیاروں کے ذریعے وسیع پیمانہ پر اموات کروائیں اور پھر اس کو جواز بنا کر شام پر چڑھائی کی تیاریاں کرتے ہوئے اپنا بحری جنگی بیڑا شام کی جانب کھڑا کیا اور شام پر حملہ کرنا ہی چاہ رہا تھا کہ روس نے تقریبا 2 دہائی کے بعد وہ کام کر دکھایا کہ دنیا یک دم ایک بلاک سے دو بلاکوں میں تقسیم ہو گئی۔ روس نے دنیا میں اپنے آپ کو بطور سپر پاور دوبارہ سے منواتے ہوئے امریکی جنگی بیڑے کے مقابلے میں اپنا بحری جنگی بیڑا پہنچا کر ببانگ دہل اعلان کیا کہ اگر شام پر حملہ کیا گیا تو روس اس حملہ کو اپنے اوپر حملہ تصور کرے گا اور یہ شام اور امریکہ کی بجائے روس اور امریکہ و نیٹو کی جنگ ہو گی۔۔ ہوا کیا امریکہ اور اس کے ہمنوا نیٹو کا شام پر حملہ رک گیا اور اسطرح سے دنیا فوری طور پر Uni سے Bi Polarمیں تبدیل ہو گئی۔۔ کچھ دانشور اس صورتحال کو World Non Polar کہتے ہیں لیکن میری دانست میں یہ تبدیلی پھر سے دنیا کو Bi Polar دنیا میں تبدیل کرتی نظر آ رہی ہے۔ ماضی کی سرد جنگ کے برعکس اب کے بدلتے ہوئے دنیاوی حالات میں روس اور امریکہ کا ٹکراو براہ راست ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جو کچھ کریمیا میں ہوا ہے اور ریفرینڈم کے ذریعے کریمیا کا روس کے ساتھ الحاق کا نتیجہ مستقبل کے روسی عزائم کی نشاندہی کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں بھارت کی امریکہ سے دوستی بھی خطرے میں پڑتی نظر آ رہی ہے۔ مستقبل قریب میں بھارت کو امریکہ یا روس میں سے کسی ایک طاقت کا اتحادی و دوست بننا ہو گا۔ جو کچھ کریمیا میں ہوا ہے اور ریفرنڈم میں روسی حمایت کے بعد کریمیا کی پارلیمنٹ نے روس سے الحاق کا فیصلہ کر لیا ہے اور روس کی کرنسی روبل کو کریمیا کی کرنسی قرار دے دیا ہے تو یورپی یونین اور امریکہ کو یہ برداشت نہیں ہو پا رہا اور وہ روس پر اقتصادی پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ چین شام پر امریکہ کے حملے کی روسی مخالفت میں ایسے ہی ساتھ تھا جیسے آج وہ کریمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے تناظر میں روس کے ساتھ کھڑا ہے۔

اب سوچنے کی بات ہے کہ ماضی میں مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کروانے والے امریکہ نے آج تک پاکستان کو دیا کیا ہے؟1950 سے لیکر آج تک امریکہ نے پاکستان کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا اور ہمارے حکمران اپنے مالی و اقتدار کے مفاد کے تناظر میں امریکہ کی ہر ڈکٹیشن قبول کرتے رہئے اور 1972 سے 1977 کے دور کے علاوہ ہر دور میں ہم نے امریکہ کی جی حضوری کر کے ملک وقوم کو آج اس حالت میں پہنچا دیا ہے کہ ہمیں اب اس سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا ۔۔۔ پاکستان نے اب بھی اپنی خارجہ پالیسی کو ازسر نو تشکیل نہ دیا اور روس کے ساتھ دوستی کا ہاتھ نہ بڑھایا تو پھر وہ کبھی بھی امریکن تسلط جو حقیقت میں غلامی ہے سے نہیں نکل پائے گا۔۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.