.

پرانی شراب نئی بوتل

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کھسیانی بلی اب کھمبا نوچ رہی ہے۔ الحاد فروشی اور دین فروشی کی سیاست و صحافت کرنے والوں نے کل بھی اپنے جھوٹ کو عملی موقف قرار دیا اور آج بھی اپنے جھوٹ کا پول کھلنے کے بعد ان کے پاس مزید جھوٹے الزامات کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ دھوکہ دہی کی کوشش میں ناکامی کے بعد اب وہ جھکی جھکی نظروں اور ڈگمگاتے لفظوں کے ساتھ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی عظمت کا اعتراف کر رہے ہیں لیکن اُن کے دلوں سے اٹھنے والا کدورت و منافقت کا دھواں چھپائے نہیں چھپتا۔ غلطی تسلیم کرنا اُن کی سرشت میں نہیں لہٰذا اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے خلاف یاوہ گوئی کا جواب دینے والوں کو مولوی اور طالبان کا ساتھی قرار دے کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بہت سال پہلے پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ سیکولر اور سوشلسٹ نہرو نے اپنی کتاب (Discovery of India) ’’تلاش ہند‘‘ میں جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار کی تو بہت تعریف کی لیکن آل انڈیا مسلم لیگ کو ہندو مہاسبھا سے ملا دیا اور قائداعظمؒ کو ایک فرقہ پرست اور انتہا پسند رہنما قرار دے دیا۔ اپنی کتاب میں نہرو نے لکھا کہ علامہ اقبالؒ ایک بڑے شاعر اور فلسفی تھے لیکن پرانے جاگیرداری نظام سے وابستہ تھے۔ نہرو نے یہ جھوٹ بھی لکھ دیا کہ اقبالؒ پاکستان کے اولین حامیوں میں سے تھے لیکن بعد ازاں انہوں نے اپنی رائے بدل دی اور آخری عمر میں اقبالؒ کا رجحان اشتراکیت کی طرف بڑھ گیا تھا۔ نہرو نے جان بوجھ کر اپنی کتاب میں قائداعظمؒ پر تنقید کی اور اقبالؒ کی کچھ تعریف کر ڈالی۔ انہوں نے ہمیشہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی اور دونوں کو ایک دوسرے سے مختلف قرار دیتے رہے۔

نہرو نے اقبالؒ کو کانگریس میں شامل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ ایک دن نہرو لاہور آئے تو میاں افتخار الدین کے ہمراہ علامہ اقبالؒ کے گھر جا پہنچے۔ ملاقات کے دوران میاں افتخار الدین نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ مسلمانوں کے لیڈر کیوں نہیں بن جاتے؟ مسلمان مسٹر جناح سے زیادہ آپ کی عزت کرتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ علالت کی وجہ سے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ یہ سنتے ہی غصے میں اٹھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے نہرو کو کہا کہ آپ مجھے بہلا پھسلا کر مسٹر جناح کے مقابلے پر لانا چاہتے ہیں لیکن میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ مسٹر جناح ہی مسلمانوں کے اصلی لیڈر ہیں اور میں اُن کا معمولی سپاہی ہوں۔ موقع کے گواہ عاشق حسین بٹالوی نے اپنی کتاب ’’اقبال کے آخری دو سال‘‘ میں لکھا کہ شاعر مشرق اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہو گئے اور نہرو چند ہی لمحوں میں واپس چلے گئے۔

علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے بارے میں مزید تحقیق اور علمی بحث ضرور ہونی چاہئے لیکن علمی بحث کے نام پر جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا بددیانتی ہے۔ یہ کہنا کہ علامہ اقبالؒ نے 1919ء میں جلیانوالہ باغ کے سانحے پر خاموشی اختیار کی اور پھر اُن کو سر کا خطاب مل گیا بدنیتی نہیں تو کیا ہے؟ اقبالؒ نے اس سانحے پر جو اشعار کہے اُنہیں کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے؟ پھر یہ کہنا کہ قائداعظمؒ مولوی نہیں تھے کیونکہ اُنہوں نے ایک پارسی خاتون رتن بائی سے شادی کر لی تھی، آدھا سچ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ رتن بائی نے شادی سے تین دن پہلے اسلام قبول کیا اور اُن کا اسلامی نام مریم رکھا گیا۔ کل کو آپ رتی جناحؒ کے بارے میں کانجی دوار کا داس کی کتابوں کے حوالے دے کر نجانے کیا کچھ ثابت کرنے کی کوشش کریں لیکن آپ کو اصل سچائی خواجہ رضی حیدر کی کتاب ’’رتی جناحؒ‘‘ میں ملے گی جس میں ٹھوس تاریخی حوالوں کی مدد سے بتایا گیا ہے کہ قائداعظمؒ کی اہلیہ بہت ذہین اور بہادر خاتون تھیں۔

مہاتما گاندھی نے رتی جناحؒ کو اُن کے خاوند کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش ناکام ہوئی۔ تاریخی حقائق یہ ہیں کہ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے دشمن مشترکہ تھے۔ ایک مختصر مدت کے لئے دونوں میں کچھ معاملات پر اختلاف رائے ہوا لیکن پھر دونوں ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو گئے قائداعظمؒ اپنے زمانہ وکالت میں بڑے مہنگے وکیل تھے لیکن جب علامہ اقبالؒ کی خواہش پر وہ غازی علم دینؒ کے دفاع کے لئے لاہور ہائیکورٹ آئے تو انہوں نے ایک پائی وصول نہ کی۔ دوسری طرف پیر پگاڑو پر ایک مقدمہ قائم ہوا تو وہ قائداعظمؒ کو وکیل بنانا چاہتے تھے اور اُن کے مریدوں نے اپنے پیر صاحب کے دفاع کے لئے ایک فنڈ بھی قائم کر دیا تھا لیکن قائداعظمؒ نے مصروفیات کی بناء پر معذرت کر لی۔ قائداعظمؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری سید شمس الحسن نے اپنی کتاب ’’صرف مسٹر جناح‘‘ میں پیر پگاڑو کا خط اور قائداعظمؒ کا جواب شامل کر دیا ہے۔

اس کتاب کے مطالعے سے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ 1930ء میں مسلم لیگ کونسل کے اجلاس کی صدارت کے لئے علامہ اقبالؒ کا نام قائداعظمؒ نے تجویز کیا تھا۔ یہ اجلاس پہلے لکھنو میں ہونا تھا لیکن علامہ اقبالؒ کی استدعا پر اسے قائداعظمؒ نے ملتوی کیا اور آخر کار یہ اجلاس 29اور 30دسمبر کو الٰہ آباد میں ہوا۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے ایک علیحدہ مسلم ریاست یا ریاستوں کا تصور پیش کیا۔ یقیناً قائداعظمؒ جانتے تھے کہ اقبالؒ کیا کہنے والے ہیں لہٰذا انہوں نے خود کوئی موقف اختیار کرنے سے قبل علامہ اقبالؒ کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا۔ 1931ء میں قائداعظمؒ لندن چلے گئے۔ جن لوگوں نے قائداعظمؒ کو لندن سے واپس لانے کی کوشش کی اُن میں علامہ اقبالؒ سرفہرست تھے۔ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ کانگریس کے حامی مولانا حسین احمد مدنی نے علامہ اقبالؒ کے خلاف پمفلٹ بھی لکھا جس میں کہا گیا کہ مسلمانوں کے ایک لیڈر نے پارسی خاتون سے شادی کیوں کی؟ دوسری طرف یہی اقبالؒ اور قائداعظمؒ تھے جو صرف ہندوستان کے مسلمانوں کی نہیں بلکہ فلسطین کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے بھی سرگرم تھے۔

قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے مفتی امین الحسینی، حسن البناء اور دیگر عرب رہنمائوں کے ساتھ رابطوں کی کہانیاں کئی کتابوں میں موجود ہیں لیکن افسوس کہ ایک طبقہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کو صرف اپنی مرضی کے فریم میں فٹ کرنا چاہتا ہے۔ یہ طبقہ قائداعظمؒ اور اخوان المسلمین کے بانی حسن البناء کے درمیان 1945 اور 1947کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کو کبھی اہمیت نہیں دے گا لیکن گاندھی اور نہرو کے سوانح نگار سٹنیلے والپرٹ کی قائداعظمؒ کے خلاف تعصب پر مبنی کتاب کو حرف آخر سمجھتا ہے۔ اس طبقے کے عزائم کو فیض احمد فیض کے بارے میں ایوب مرزا کی کتاب ’’ہم کے ٹھہرے اجنبی‘‘ اور پروفیسر فتح محمد ملک کی کتاب ’’اقبالؒ کا فکری نظام اور تصور پاکستان‘‘ میں بے نقاب کیا گیا ہے۔ قصہ یہ تھا کہ 1949ء میں فیض اور دیگرترقی پسند ادیبوں کو حکم ہوا کہ علامہ اقبالؒ کو تباہ کر دو۔ فیض صاحب کو بہت رنج اور صدمہ ہوا۔ کہتے ہیں....’’ہم نے اعتراض کیا کہ یہ کیا تماشہ ہے۔ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ یہ تو سکہ بند قسم کی بے معنی انتہا پسندی ہے۔ ہماری نہ مانی گئی۔ ہم بہت دل برداشتہ ہوئے اس کے بعد ہم انجمن ترقی پسند مصنفین کی محفلوں میں شریک نہیں ہوئے۔‘‘

فیض نے تو اقبالؒ کے خلاف سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا لیکن جوش ملیح آبادی اور اُن کے ساتھی اقبالؒ کو رجعت پسند قرار دیتے رہے۔ جوش صاحب کو 1954ء میں بھارت میں پدما بھوشن ملا۔ 1958ء میں وہ پاکستان آ گئے اور اقبالؒ کے خلاف غصہ نکالتے رہے۔ انہیں حکومت پاکستان نے بھی ہلال امتیاز سے نوازا۔ محمود نظامی کی کتاب ’’علامہ اقبالؒ، قریب سے‘‘ میں خواجہ عبدالوحید کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایک دفعہ اقبالؒ نے کہا کہ ہندوستان کے تعلیم یافتہ مسلمان بالکل بیکار ہیں۔ اُن کا خیال تھا کہ آزادی کے لئے اگر کبھی کام آ سکتے ہیں تو غریب یا مزدور پیشہ مسلمان یا دکاندار مسلمان ہی کچھ کریں گے۔ اسی کتاب میں ’’ہمایوں‘‘ کے ایڈیٹر میاں بشیر احمد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایک دفعہ میاں صاحب نے اقبالؒ سے کہا کہ افسوس قوم نے آپ کی پوری قدر نہ کی۔ اقبالؒ نے جواب میں کہا کہ قوم غریب ہے جب کوئی غریب آدمی شہر آ کر میری مٹھی چاپی کرتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ساری دنیا میری قدر کر رہی ہے۔ آج بھی اگر اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی قدر جاننی ہے تو عام پاکستانیوں سے جانئے۔ پڑھے لکھے الحاد فروشوں کے انگریزی فہم اور دین فروشوں کے جعلی عربی لہجوں میں آپ کو اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے لئے صرف منافقت ملے گی، یہ پرانی شراب ہے بس بوتل نئی ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.