افغان انتخابات ۔ نتیجے سے پہلے کے نتائج

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

افغانستان کے صدارتی انتخابات کے نتائج آنے میں تو ابھی کچھ دن لگیں گے لیکن اس سے قبل صرف انتخابی عمل سے بھی بعض خوشگوار نتائج سامنے آگئے۔ انتخابات کے دوران پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے مقابلے میں کم تشدد دیکھنے کو ملا جبکہ پہلے مرحلے کی حد تک دھاندلی کی شکایات بھی پاکستانی انتخابات کی بنسبت بہت کم رہیں۔ جس سے پیغام ملتا ہے کہ اگر غیرملکی اور بیرونی مداخلتوں کا خاتمہ ہو تو افغان عوام اپنی رائے کا استعمال اور دوسرے کی رائے کا احترام کرنا دونوں جانتے ہیں۔

عام تاثر یہ تھا کہ امریکیوں کے انخلاء کے ساتھ ہی افغانستان کا آئینی اور سیاسی ڈھانچہ دھڑام سے گر جائے گا لیکن حالیہ انتخابات میں ٹرن آوٹ میں غیر معمولی اضافے نے ثابت کردیا کہ جوں جون غیر ملکیوں کے انخلاء کا وقت قریب آرہا ہے توں توں اس نظام پر افغان عوام کا اعتماد بڑھتا جارہا ہے۔ وہ موجودہ حکمرانوں سے بے حد مایوس ہوگئے تھے اور لگتا تھا کہ وہ نظام سے بھی مایوس ہوگئے ہیں لیکن انتخابات میں ان کی جوق درجوق شرکت نے ثابت کردیا کہ وہ جتنے حکمرانوں سے مایوس ہیں ‘ اتنے نظام کے بارے میں پرامید ہیں۔ وہ اگر تنگ آئے ہیں تو جنگوں سے آئے ہیں اور چاہتے ہیں تو عوام کی مرضی سے بہترین حکومت اور امن چاہتے ہیں۔ اب کے بار انتخابات میں عوام کی گرمجوشی کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ لوگوں کو اس کی صورت میں تبدیلی آتی ہوئی نظرآرہی تھی۔

گزشتہ دو صدارتی انتخابات کے موقع پر ہر کسی کو یقین تھا کہ حامد کرزئی صاحب ہی کامیاب ہوں گے لیکن اب کے بار آئین کی رو سے وہ امیدوار ہی نہیں بن سکتے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اب کے بار غیرملکی مداخلت نسبتاً کم تھی۔ پہلے انتخابات میں امریکہ اور پاکستان جیسی قوتیں ڈٹ کر حامد کرزئی کا ساتھ دے رہی تھیں۔

دوسرے انتخابات میں امریکہ مخالف بن گیا تھا لیکن پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اب کے بار امریکہ نے بھی اپنے کارڈ چھپا کے رکھے ہیں اور پاکستان نے بھی اپنے آپ کو دور رکھا۔ایران اور ہندوستان جیسے ممالک من پسند امیدواروں پر پیسہ خرچ کررہے تھے لیکن سابقہ انتخابات کے برعکس اب کی بار امریکہ اور پاکستان جیسی موثر طاقتوں کی مداخلت بہت کم تھی انتخابی عمل پر اعتماد کے بڑھ جانے کا ایک مظاہرہ گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کی صورت میں سامنے آیا۔ گزشتہ انتخابات میں اس کے مکمل بائیکاٹ کے برعکس اب کے بار حزب اسلامی تین مختلف شکلوں میں انتخابات کے دوران سرگرم عمل رہی۔ عبداللہ عبداللہ کے ساتھ نائب صدر اول کے طور پر امیدوار انجینئر احمد خان کا تعلق حزب اسلامی کے ایک دھڑے سے ہے اور یہ دھڑا کھل کر ان کو سپورٹ کررہا تھا۔

دوسرا دھڑا فاروق وردگ اور وحیداللہ سباون جیسے لوگوں پر مشتمل تھا۔ وحیداللہ سباون ماضی میں حکمت یار کے دست راست تھے اور اب یہ دونوں اور ان کے گروپ کے دیگر افراد زلمے رسول کو سپورٹ کررہے تھے۔ اسی طرح خود گلبدین حکمت یار کی حمایت سے ان کی جماعت کے اہم رہنما قطب الدین ہلال خود صدارتی امیدوار تھے۔ افغانستان کی جمہوریت یوں تو پاکستانی جمہوریت کی بنسبت ابھی بہت کمزور ہے کیونکہ وہاں پاکستان کی طرح سیاسی پارٹیاں مطلوبہ تعداد میں بن سکی ہیں اور نہ مضبوط ہوئی ہیں اس لئے سیاست نظریات کے بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہے لیکن حالیہ انتخابات نے لسانی بنیادوں پر افغانستان کی سیاسی تقسیم کو ختم کر کے رکھ دیا اور یوں ان لوگوں کے منحوس خواب چکنا چور ہوگئے جو لسانی بنیادوں پر افغانستان کی تقسیم کے خواہشمند تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا تعلق پنجشیر سے ہے ۔ اگرچہ ان کے والد پشتون تھے لیکن سیاسی طور پر وہ تاجکوں کے نمائندے سمجھے جاتے تھے۔

اب کی بار ان کے ساتھ نائب صدر اول انجینئر احمد خان پشتون جبکہ نائب صدر دوم استاد محقق (ہزارہ) تھے۔ دوسرے صدارتی امیدوار ڈاکٹر اشرف غنی احمد زئی پختون ہیں لیکن ان کے سینئر نائب صدر ازبک وارلارڈ رشید دوستم تھے جبکہ دوسرے نائب صدر کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے تھا۔ زلمے رسول پختون ہیں لیکن ان کے نائب صدر اول کے لئے پنجشیر سے تعلق رکھنے والے تاجک احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیاء مسعود تھے جبکہ ہزارہ کمیونٹی کی نمائندہ اور بامیان کی سابق گورنر حبیبہ سرابی ان کے ساتھ نائب صدر دوم کے طور پر میدان میں ہیں۔ اسی طرح وسطی افغانستان (پغمان) سے تعلق رکھنے والے پختون استاد سیاف صدارت کے لئے جبکہ ان کے پینل سے جنوبی صوبہ ہرات سے تعلق رکھنے والے کمانڈر اسماعیل خان نائب صدارت کے امیدوار ہیں۔ نہ صرف انتخابی مہم کے دوران جلسے کے ہر اسٹیج پر پختون ‘ ازبک ‘ تاجک ‘ ہزارہ اور ترکمان ایک ساتھ نظر آئے بلکہ ڈاکٹر اشرف غنی جو پختون تھے کو شمال سے خاطر خواہ ووٹ ملا جبکہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی مہم اب کے بار مشرق اور جنوب کے پختون صوبوں میں بھی زوروں پر رہی ۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ زلمے رسول پختون ہیں اور پختونوں کی نمائندگی کررہے تھے لیکن چونکہ وہ صحیح پشتو نہیں بول سکتے اس لئے دری زبانوں میں تقاریر کیا کرتے تھے جبکہ دوسری طرف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ چونکہ روانی کے ساتھ پشتو بول سکتے تھے اس لئے وہ اکثر جلسوں میں پشتو بولتے ہوئے نظر آئے بلکہ وہ جلسوں میں زلمے رسول کے بارے میں طنز کیا کرتے تھے کہ وہ (عبداللہ عبداللہ) ٹیوشن پڑھا کر زلمے رسول کو پشتو سکھانا چاہتے ہیں۔

ان انتخابات کے دوران افغان صدارتی امیدواروں نے بھی پاکستانی سیاسی لیڈروں کی بنسبت زیادہ پختگی اور جمہوریت پسند ہونے کا ثبوت یوں دیا کہ گزشتہ انتخابات کے دوران پاکستانی سیاسی لیڈر ٹی وی چینلز پر آکر امریکہ کے طرز پر براہ راست مکالمے کے لئے تیار نہیں ہوئے لیکن افغانستان میں صدارتی امیدواروں کے درمیان مختلف ٹی وی چینلز پر نصف درجن سے زائد ٹاکرے ہوئے۔ ان میں عوام کی طرف سے لائیو کال بھی لی گئیں لیکن کسی جگہ تلخی ہوئی‘ گولی چلی اور نہ جوتوں کا استعمال دیکھنے کو ملا۔ اب کے بار طالبان کی طرف سے دھمکیاں بہت ملی تھیں اور بار بار عوام سے کہا جاتا رہا کہ وہ انتخابی عمل سے دور رہیں لیکن انتخابی عمل کے دوران ان کی طرف سے ووٹروں یا امیدواروں کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش نظر نہیں آئی جو کہ طالبان کی پوزیشن میں تبدیلی کی بھی علامت ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں لینا چاہئے کہ طالبان غیر موثر ہو گئے ہیں۔

طالبان آج بھی افغانستان کی بڑی قوت ہیں اور ان کے ساتھ مصالحت کے بغیر افغانستان میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جو بھی نئی حکومت سامنے آئے ‘ اس کے لئے سب سے بڑا چیلنج طالبان ہی ہوں گے ‘ اس لئے انتخابی عمل کی کامیابی کے زعم میں مبتلا ہوکر طالبان کو نظرانداز کرنے یا کچلنے کی کوشش نقصان دہ ہوگی۔ ان انتخابات نے پاکستان کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ اگر وہ عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا رہے تو یہ افغانستان سے بڑھ کر پاکستان کے لئے بہتر ہوگا۔ کابل میں پاکستان کے سابق سفیر نے بڑی محنت کے ساتھ پاکستانی پالیسی سازوں کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہمیں اپنے آپ کو افغانستان میں کسی ایک گروہ یا خطے کی سپورٹ تک محدود نہیں رکھنا چاہئے اور ہر افغانی کو اس کی حیثیت کے مطابق ڈیل کرنا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سمیت شمال کی تمام قوتوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے۔

حالیہ انتخابات کے لئے انہوں نے عدم مداخلت کی پالیسی وضع کی تھی جسے ان کے جانشین ابرار حسین نے خوش اسلوبی کے ساتھ برقرار رکھا۔اگرچہ خود افغان صدارتی امیدوار مطالبہ کررہے تھے کہ پاکستان ان کے سپورٹ کی صورت میں ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے لیکن پاکستان نے کسی کا بھی ساتھ نہیں دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر امیدوار آخری دن تک اس انتظار میں رہا کہ شاید پاکستان اپنا وزن اس کے پلڑے میں ڈال دے گا اور شاید یہی وجہ ہے کہ کسی بھی امیدوار نے بھی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کے خلاف کچھ بولنے کی جسارت نہیں کی۔ حالیہ انتخابات میں پاکستان پر تنقید سب سے کم ہوئی اور دوسری طرف پاکستان کو پیسے اور توانائی کی بھی بچت ہوئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اگر افغانستان کے دیگر اندرونی معاملات میں بھی اسی طرح عدم مداخلت اور غیرجانبداری سے کام لے کر افغان عوام کی مرضی اور رائے کا احترام کرے تو یہ پاکستان کے لئے بہتر ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں