بلاول کے گرینڈ پاپا کی جمہوری خدمات

حافظ شفیق الرحمان
حافظ شفیق الرحمان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ہمارے سیاستدان بھی عجیب و غریب ہیں۔ ان کی اپنی جماعت بھی اقتدار میں ہو تو بھی یہ بعض ریاستی اداروں کی مقدس بچھڑوں کی طرح پوجا کرتے ہیں۔ ویسے اس ملک میں اب کوئی ادارہ بھی مقدس بچھڑا نہیں رہا۔ 50ء کے بعد فوج نے اس ملک کی سیاست میں دخل در معقولات کی روایت کی داغ بیل ڈال دی تھی لیکن اس روایت کو مستحکم اور مضبوط تر بنانے میں ہماری عزت مآب اور فلک مرتبت عدلیہ کے ایک جج جسٹس منیر نے انتہائی منفی کردار ادا کیا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ اس ملک میں جمہوریت کا پہلا قاتل جسٹس منیر تھا۔ نظریۂ ضرورت کے اس خالق نے آمریت کے کئی بتوں کو تخلیق کیا اور اقتدار کے بت خانے کا بھگوان بنا کر بٹھا دیا۔ یار لوگ بلا جواز کبھی 5 جولائی کو یومِ سیاہ اور کبھی 12 اکتوبر کو مناتے ہیں۔ ان جذباتی سیا ست کاروں کو تاریخ کے اوراق کھنگالنا چاہئیں اور یاد رکھنا چاہیے کہ جس دن ایوب خان کے پہلے مارشل لاء کو عدلیہ کے فلک مرتبت جج صاحبان نے نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا تھا، در حقیقت وہ دن پاکستانی تاریخ کا پہلا یومِ سیاہ تھا۔ میرا خیال ہے کہ جن مملکتوں اور معاشروں میں عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہوتی ہے وہاں کوئی بڑے سے بڑا فوجی جنرل اپنے میں یہ جرأت نہیں پاتا کہ وہ منتخب جمہوری حکومت کی کسی پالیسی کے خلاف کوئی معمولی سا بیان بھی داغ سکے۔

یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ آزادی کے بعد بھارت کے دوسرے چیف آف آرمی سٹاف جنرل تھمیا نے بھارت کی پہلی سیاسی حکومت کی کسی پالیسی کے حوالے سے کوئی تنقیدی بیان جاری کیا۔یاد رہے کہ جنرل تھمیا (THIMAYYA) کو برطانوی نو آبادیاتی استعماری دور میں ایک انتہائی پیشہ ور جنرل ہونے کا شرف حاصل تھا۔ وہ 8 مئی 1957ء سے 1961ء تک بھارتی فوج کے دوسرے سربراہ تھے۔ برطانوی فوجی حلقے انہیں’’موسٹ ڈیکوریٹڈ سولجر آف انڈین آرمی‘‘ اور DISTINGUISHED SOLDIER OF INDIAN ARMY کے تحسینی الفاظ سے یاد کیا کرتے تھے۔ بھارتی چیف آف آرمی سٹاف کا بیان میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا اور موضوعِ بحث بنا۔ بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے چیف آف آرمی سٹاف کے سیاسی بیان کا سنجیدیدگی سے جائزہ لیا اور انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔

بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے جنرل تھمیا کو اگلے روزپرائم منسٹر ہاؤس حاضر ہونے کا حکم دیا۔ بھارتی چیف آف آرمی سٹاف بروقت وزیر اعظم ہاؤس پہنچے۔ انہیں وزیر اعظم ہاؤس کی انتظار گاہ میں دو گھنٹے تک پنڈت جی سے ملاقات کے لئے انتظار کرنا پڑا۔ چیف آف آرمی سٹاف کو انتظار کی سولی پر 2 گھنٹے قصداً لٹکائے رکھا گیا۔ 2 گھنٹے کے بعد وزیر اعظم کے افسر برائے تشریفات انتظار گاہ میں داخل ہوئے۔ چیف آف آرمی سٹاف کو سلیوٹ کیا اور انہیں بتایا کہ وہ جوابدہی کے لئے وزیر اعظم کے خصوصی کمرے میں تشریف لے جائیں۔ جنرل تھمیاجب بھارت کے پہلے وزیر اعظم کے وسیع و عریض اور کشادہ کمرے میں داخل ہوئے تو فوجی انداز میں اپنا دایاں ہاتھ پی کیپ تک لیجا کر وزیر اعظم کو سلیوٹ کیا۔ اس کے بعد وہ چپ چاپ کھڑے ہو گئے۔ وزیر اعظم نے انہیں کرسی پر بیٹھنے تک کے لئے بھی نہ کہا۔ انہوں نے بھارت کے دوسرے چیف آف آرمی سٹاف کو بلا تمہید مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’مسٹر تھمیا! بھارت کے ایک شہری کی حیثیت سے آپ کو اس بات کا پورا حق ہے کہ آپ حکومت کی کسی بھی پالیسی پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ جب تک ایک فوجی یونیفارم میں ہوتا ہے وہ کسی قسم کی سیاسی بیان بازی کا مجاز نہیں ہوتا۔ آپ نے سیاسی بیان داغ کر اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ میں آپ کو انتباہ کرتا ہوں کہ آئندہ احتیاط۔ ہاں !

اگر آپ کو بیان بازی اور سیاست بازی کا بہت شوق ہے تو جائیے! اپنے منصب سے استعفیٰ دیجئے، فوجی یونیفارم اتار دیجئے، حسب قواعد و ضوابط دو سال تک انتظار کیجئے، اس کے بعد آپ بھارتی شہری کی حیثیت سے اس امر کے مجاز ہونگے کہ حکومت کی کسی بھی پالیسی پر تنقیدکریں، کسی سیاسی جماعت کی رکنیت اختیار کریں یا آپ کے وسائل اجازت دیں تو اپنی الگ سیاسی جماعت بنائیں لیکن جنرل صاحب ! یاد رکھیے جب تک آپ یونیفارم میں ہیں آپ کو سیاسی معاملات میں مداخلت کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ بھارت کے چیف آف آرمی سٹاف نے پنڈت جواہر لعل نہرو کے یہ مشاورتی احکامات و ہدایات توجہ سے سنے اور اثبات میں سر ہلا کر انہیں یقین دلایا کہ ’’بھارت کاچیف آف آرمی سٹاف، بھارتی منتخب وزیر اعظم کے احکامات و ہدایت کی بلا چون و چراتعمیل کرے گا‘‘۔

یہ واقعہ پڑھیے اور سوچئے کہ کیا اس ملک کی منتخب جمہوری، سیاسی حکومتوں کی تاریخ میں حسین شہید سہروردی کے علاوہ کوئی ایک بھی ایسا منتخب جمہوری وزیر اعظم تھا جو اتنی اخلاقی جرأت رکھتا ہو کہ خاکی پوشوں کو اس قسم کی ہدایات و احکامات جاری کر سکے، جس قسم کے احکامات و ہدایات بھارت کے پہلے منتخب جمہوری وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے ، بھارت کے دوسرے چیف آف آرمی سٹاف اور موسٹ ڈیکوریٹڈ سولجر آف انڈین آرمی کو کھڑے کھڑے سننے پر مجبور کیا تھا۔ ہمارے منتخب جمہوری وزرائے عظام کے احوال و وقائع پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالنے کے بعد تاریخ کا ایک غیر جانبدار طالب علم اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ہمارے ترکش میں ایک بھی ایسا تیر ، ہمارے بادلوں میں ایک بھی ایسی بجلی اور ہمارے الاؤ میں ایک بھی ایسی چنگاری نہ تھی۔ لیاقت علی خان کے اسم گرامی کو احتراماً مستثنیات کے زمرے میں شامل کر دیجئے۔ ان کے بعد الف تا ے، سر تا پا اور اے ٹو زیڈ ڈھونڈے سے ایک بھی ایسا وزیر اعظم نہیں ملے گا جس نے عصا بدست سپہ سالاروں کے روبرو اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں جمہوریت پر شب خون مارنے سے روکا ہو۔

پاکستان کی تاریخ کا پہلا منتخب جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان کی آغوشِ ناز کا پروُردہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تو 27 اکتوبر 1958ء کے دن کو کبھی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار نہیں دیا۔ اگر اسے جمہوریت سے اتنی ہی محبت تھی تو اسے 29 اکتوبر 1958ء کی صبح یہ بیان دینا چاہیے تھا کہ سکندر مرزا اور ایوب خان نے حسین شہید سہروردی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کا اقدام کر کے جمہوریت کے قلعے پر شب خون مارا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کے جذباتی اور اندھے جنونی جیالوں کے ’’فرموداتِ عالیہ‘‘ اور ’’ملفوظاتِ مقدسہ‘‘ کو سند مان لیا جائے تو یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ پاکستانی معاشرے کو پاکستان کے پہلے فوجی آمر کا قیدی بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو نے بازوئے شمشیر زن کا کردار ادا کیا تھا۔

بھٹو اس فوجی آمرکو برسر مجلس ارادتاً اور عقیدتاً اپنا ’’ڈیڈی‘‘ کہتا اورفوجی آمر اسے پیار سے زلفی کہہ کر پچکارتا۔ ذوالفقار علی بھٹو اس فوجی آمر کی کابینہ میں آٹھ سال تک وفاقی وزیر رہے۔ مادرِ ملت کے انتخابات میں جناب سید احمد سعید کرمانی، جناب ایس ایم ظفر، جناب ملک محمد قاسم کی طرح ذوالفقار علی بھٹو بھی فیلڈ مارشل ایوب خان کے وکلائے صفائی اور ترجمانانِ اعظم میں سے ایک تھے۔ پاکستانی تاریخ کے حساس اور اہم ترین ایام میں جب خیبر سے چٹا گانگ تک پوری قوم مادرِ ملت کی قیادت میں جمہوریت کی بحالی کی جنگ لڑ رہی تھی تو ذوالفقار علی بھٹو آمریت کی سپاہ کے ہر اول دستے میں اگلے مورچوں پر آمریت کے تحفظ کیلئے سینہ سپرتھا۔

وہ تو ایوب خان کو عوامی جلسوں میں ایشیا کا ڈیگال اور عالم اسلام کا صلاح الدین ایوبی قرار دے کر دادِ سخن وصول کیا کرتا تھا۔ یہ کیسا ستم ظریفانہ تضاد ہے کہ آمریت کی لیبارٹری کا ایک ٹیسٹ ٹیوب بے بی بعد میں جمہوریت کا چیمپئن ہونے کا دعویٰ کرتا رہا۔ اب جیالوں کو کون بتائے کہ فوجی آمروں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی سیاسی روایت کے بانیوں میں سے ایک ان کی پارٹی کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو بھی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی نو زائیدہ موجودہ قیادت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس ملک میں آئین اور جمہوریت کو صرف ملاؤں نے ہی نہیں بلکہ بھٹو ایسے جاگیر دار اور مارشل لاء کی باقیات سیاستدانوں نے بھی پامال کیا۔ سچ تویہ ہے کہ 27 اکتوبر 1958ء کے بعدعوامی نمائندوں کو کبھی حقیقی اقتدار منتقل نہیں ہوا۔ عوامی نمائندوں کو انتقال اقتدار کے راستے میں سنگ گراں بننے والوں میں بلاول کے گرینڈ میٹرنل پاپا بھی شامل تھے۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں