.

سونیا گاندھی اور دہلی کی جامع مسجد

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیاست میں ٹھیک وقت پر نشانے لگانے سے عقل مند لوگ پچھتاوے سے بچے رہتے ہیں۔ حکمت اور دانش کا ایسا ہی مظاہرہ کیا ہے۔ سونیا گاندھی نے انتخابی عمل شروع ہوتے ہی جو مایوسی ان کے ساتھ جڑرہی اور پارٹی میں بغاوت سر اٹھا رہی تھی۔ موقع پرست وفاداریاں تبدیل کر کے پل کے دوسرے کنارے کی طرف جا رہے تھے۔ ایسے وقت میں سونیا کے سامنے سب سے اہم سوال یہ تھا کہ ناکامی کے تاثر کو کیسے روکا جائے؟ انہوں نے ہمت کی اور اپنے قدم برھائے دہلی کی شاہی مسجد کی طرف۔ امام بخاری کے بند دروازے پر دستک دی ، گلے شکوے ہوئے۔

ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے پر اتفاق ہوا۔ اس سے بڑھ کر دونوں نے سیکولرازم کے لئے ایسی طاقت کے بڑھتے ہوئے قدم تخت دہلی کی طرف روکنے کی حکمت عملی کا اعلان کیا۔ جو فرقہ پرستی کے الزام کی زد میں ہے دونوں نے تھوڑے وقت میں بڑے بڑے فیصلے کر لئے۔ سونیا گاندھی کو امام بخاری کی حمایت اور مدد ایسے وقت میں میسر آئی ہے جب کانگریس کو ہی نہیں مسلمانوں کو بھی مودی کے قدم روکنے کی ضرورت تھی۔ سونیا نے شاہی مسجد جا کر اپنی انا کی قربانی دی اور امام بخاری جو کانگریس سے سخت ناراض تھے اور 2009ء کے الیکشن میں سماج وادی پارٹی کو حمایت دے چکے تھے۔ اترپردیش کے فسادات نے امام بخاری کو ملائم سنگھ سے دورکر دیا اور مایا وتی کی طرف لے جا رہے تھے۔ بی جے پی اور مودی کی مقبولیت کی لہر جس کو سیکولر قوتیں مصنوعی مقبولیت قرار دے رہی تھیں۔ بے شک اسے مصنوعی قرار دیا گیا ہو مگر اس نے امریکہ اور یورپ تک کے میڈیا کو اپنے سحر میں لے رکھا ہے۔

اس کا عکس ان انتخابی ایگزٹ پولز میں بھی جھلک جھلک کر نظر آتا ہے جو بین الاقوامی شہرت رکھنے والے اداروں کی نگرانی میں تیار ہوئے ہیں۔ سونیا گاندھی نے امام بخاری سے ملاقات کر کے کانگریس کو متوقع شکست سے سنبھالا دیا ہے ورنہ کانگریس کا یہ حال تھا کہ اس کی کشتی ڈوبتی نظر آنے لگی تھی اور وہ تاریخی شکست سے دورچار ہوتی۔ سونیا گاندھی نے اس یقینی شکست کو کافی حد تک روک لیا ہے اس کا فائدہ تو انتخابی نتائج کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ البتہ ملاقات سے مسلم ووٹرز نرم ہوتے ہیں سونیا اور امام بخاری کی کوششوں سے سیکولر قوتیں زور پکڑتی اور اتحاد دکھاتی ہیں تو بی جے پی اور ان کے اتحادیوں کے لئے سب اچھا نہیں۔ مودی کی اس سے پہلے اڑان کافی اونچی تھی۔ خاص طور پر امام بخاری نے بھارت کے نمائندہ مسلمانوں کو جامع مسجد میں ان کے ساتھ انتخابی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے اکٹھا کیا۔

اس اہم ملاقات کا نہ تو میڈیا نے نوٹس لیا اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس اہم ملاقات کو بہت زیادہ اہمیت دی۔ جب سونیا اور امام بخاری ملاقات ہوئی تو میڈیا ہی نہیں بلکہ بی جے پی اور اس سے وابستہ جماعتوں میں بھی کھلبلی مچ گئی۔ نریندر مودی کی پریشانی بھی چھپائے نہ چھپ رہی تھی اور یہ پریشانی بلا سبب بھی نہیں تھی۔ کیونکہ نریندرمودی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر مسلمانوں کی طاقت کانگریس کی طرف لڑھک گئی تو پھر اس کے اقتدار میں آنے کے خواب ریت کے گھروندے ثابت ہوں گے۔ بی جے پی کی اتحادی اور بال ٹھاکرے کے لگائے ہوئے پودے شیوسیناکی مایوسی اس حد تک بڑھی ہے کہ اس نے کانگریس پر فرقہ وارانہ جماعت سے اتحاد کا طعنہ ہی نہ دیا بلکہ انہوں نے سونیا گاندھی اور امام بخاری کی ملاقات کو گیدڑ اور بھیڑیا کی ملاقات قرار دید یا۔ سونیا گاندھی کی اس کامیابی، انتخابی حکمت عملی اور سیاست کو مخالف جو بھی نام دیں اصل بات یہ ہے وہ ایک کامیاب سیاست دان کی طرح مخالفین پر حملہ آور ہوئی ہیں اور ایسی حکمت عملی اتنی کامیاب کہ مخالفین کے چھکے چھوٹ گئے ہیں۔

لالو پرشاد یادو نے تو امام بخاری کا شکریہ ادا ہی نہیں کیا بلکہ بھارت کے اتحاد کے لئے ان کی کوششوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ لالوپرشاد یادو نے بہار میں چھ مسلمان بھی اپنی پارٹی کی طرف سے امیدوار اتارے ہیں۔ بہار میں لوک سبھا کی 12نشستیں ایسی ہیں جہاں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کے 17 فی صدووٹ ہیں۔ امام بخاری نے سونیا کی حمایت مسلمانوں کے مستقبل اور مفاد میں کی ہے بھارت دنیا کے ایسے ملکوں میں سے ایک ہے جہاں اقلیتوں کے خلاف سب سے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات ہوتے ہیں۔ جن میں مسلم اکثریت کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کی املاک تباہ کی جاتی ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ فسادات میں حکومتیں اور انتظامیہ شریک ہوتی رہی ہیں۔ جس کی مثال چند روز پہلے بابری مسجد کی تازہ رپورٹ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نرسیما راؤ ، یوپی کے وزیراعلی کلیان سنگھ، منوہر جوشی، ایڈوانی، اوما بھارتی سب مسجد کی شہادت کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔

انہیں مسجد شہید کرنے کی ٹریننگ دی گئی اس کے ساتھ یہ بھی حقیت ہے کہ سیکولر ازم کی بالادستی اور مسلمانوں کے حقوق کی جنگ آج تک جامعہ مسجد دہلی اور اس کے امام بخاری لڑتے رہے ہیں۔ دہلی کی جامع مسجد تین سو سال سے رہنمائی کی پہچان ہے۔ مغلیہ عہد میں لال قلعہ جس طرح ہندوستان پر حکومت اور اقتدار اعلیٰ کی علامت تھا۔ وہاں دینی اور سیاسی رہنمائی دہلی کی جامعہ مسجد سے ملتی تھی اور یہ ضرورت ہر عہد کا تقاضا رہی ہے۔ اس مسجد کے اولین امام سید عبدالغفور بخاری کو مغل حکمران شاہ جہان بخارا سے ہندوستان لائے جن کا استقبال خود شاہ جہان نے پیدل چل کر کیا۔ دہلی کی جامع مسجد کی سیاسی طاقت کو متاثر اور کمزور کرنے کی کوشش کو ہر حکمران نے اپنی ضرورت سمجھا مگر وہ کامیاب نہ ہوتے۔

رہنمائی کے اس مرکز کو سید عبداللہ بخاری نے بڑے زوروں سے منوایا۔مسلمانوں کے حقوق کے علمبردار پارلیمنٹ اور وزارتوں میں تو جاتے رہے مگر سیاسی وفاداریوں کی مجبوری تھی کہ ان کی آواز کو بہت بلند اور اونچا کبھی نہ سنا گیا جب حالات اور ظلم حد سے بڑھتا گیا تو امام بخاری مسلمانوں کے مسائل اپنے خطبہ میں سمیٹتے رہے۔ امام بخاری کے اس انداز کو حکمرانوں نے پسند نہیں کیا۔ اتحاد کی سوچ آگے بڑھی مگر حکمران ناراض ہوتے چلے گئے ان کا کردار اس سے بھی آگے بڑھا، سیاسی قائد کے طور پر بھی مانے جانے لگے۔ ان کا طرز فکر عموماً کانگریس کی طرف داری رہا۔ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں ان کی آواز نمایاں تھی۔ اندرا گاندھی کو اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا احساس ہوا تو سیدھا سید عبداللہ بخاری کی پاس پہنچی غلطیوں پر معافی مانگی۔

ان کا کردار ان کی موت پر ہی ختم ہوا۔ یوں تو ان کا انتقال 2009ء کو ہوا مگر ان کی زندگی میں ہی (2000ء) احمد بخاری صرف امامت کے منصب پر ہی نہیں بلکہ سیاسی وراثت کا تاج بھی ان کے سر پر رکھا گیا۔ موجودہ امام بخاری کی کوئی سیاسی جماعت نہیں امام صرف الیکشن سے قبل اپیل کرتا ہے۔ نشان منزل دکھاتا ہے۔ یہ بھی راہنمائی فرماتا ہے کہ کس طرح اور کہاں کہاں اتحاد کر کے مسلمانوں کی بڑی تعداد پارلیمنٹ میں بھیجی جا سکتی ہے۔ امام بخاری حمایت کے رخ اور زاویئے ضرورتوں اور سہولتوں کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ سونیا گاندھی سے جو کچھ امام بخاری نے مانگا ہے وہ بھارت کے آئین میں درج ہے۔ مسلمانوں کے مسائل کا حل فرقہ وارنہ فسادات کا خاتمہ سچر رپورٹ پر عمل اور رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کا نفاذ 2014ء میں اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو تمام وعدوں کو پورا کرنا۔ یہ مانگا ہے امام بخاری نے۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.