.

بادشاہ گر خواتین میں سے کوئی ... ہندوستان کی ملکہ بھی بن سکتی ہے

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے پڑوسی ملک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، اتنی ہی بڑی غربت اور فلمی صنعت، کرکٹ، سیاست اور سٹاک مارکیٹ کے ذریعے اتنے ہی بڑے ’’جواخانہ‘‘ ہندوستان میں سات اپریل 2014 سے لوک سبھا کی 543 نشستوں کے انتخابات شروع ہو گئے ہیں جو بارہ مئی تک جاری رہیں گے جن کے بعد اس ملک کی نئی سیاسی قیادت67 سال پرانے عوامی مسائل حل کرنے کے وعدے پورے کرنے کا وعدہ کے ساتھ اقتدار میں آئےگی اور حسب سابق پہلے سے زیادہ مسائل چھوڑ جائے گا۔

ماہرین سیاست کے بیان کردہ ایک تجزیئے میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کی تین خواتین جو اماں، دیدی اور بہن جی بھی کہلاتی ہیں کو مستقبل کی ’’بادشاہ گر‘‘ قرار دیا ہے۔ نام نہاد سیکولر جمہوریت کی یہ بادشاہ گر یا حکمران ساز خواتین ہیں ریاست تامل ناڈو کی وزیراعلیٰ جے للیتا نام کی سابق اداکارہ بھی شامل ہیں جو اپنے عقیدت مندوں (ضرورت مندوں) کی ماں جی بھی کہلاتی ہیں چھیاسٹھ سالہ اس ماں جی نے اپنے بیٹے کی شادی کے اخراجات کا شائد ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔

جے للیتا کے علاوہ جایا رام، ممتابینرجی اور مایاوتی بھی بادشاہ گروں کی تکون میں شامل بتائی جاتی ہیں۔ وہ اپنی سیاست کی وجہ سے اور اپنی کارکردگی کی بنا پر بھی نہیں اپنی شہرت کے بل بوتے پر ہندوستان کے81کروڑ 45 لاکھ بالغ ووٹروں کی رائے عامہ سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں اور عام انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ بادشاہوں کی شخصی حکومتوں سے جمہوریت تک کے طویل سفر کے باوصف ہندوستانی سماج ابھی تک شخصی فیصلوں کی حکمرانی اور حکمرانوں کے شخصی فیصلوں کی زد سے باہر نہیں نکلا یعنی ہندوستان ہر پانچ سال کے بعد کے عام انتخابات کے بعد بھی وہاں تک ہی پہنچا ہے جہاں تک پاکستان نے فوجی ٹینکوں کے ذریعے سفر کیا ہے۔

اگرچہ بی جے پی کے وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی زبردست تیاریوں اور بے پناہ اخراجات کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں مگر ان کی کامیابی کچھ زیادہ یقینی نہیں ہے۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے کہ ہندوستان کی کسی سیاسی جماعت نے عام انتخابات میں پچاسی فیصد ووٹ حاصل نہیں کئے۔ اس تمام عرصے میں کولیشن پارٹیوں نے حکومتیں بنائیں آج سے شروع کئے گئے عام انتخابات میں بھی کسی ایک پارٹی کے حق میں ’’لینڈ سلائڈ‘‘ ہونے کی توقع نہیں ہے۔ دراصل مضبوط حکومت سیاست بازوں کی سودہ بازیوں کے حق میں نہیں ہوتی حکومت جتنی کمزور ہوگی سیاسی بلیک میلنگ اسی قدر آسان ہو گی۔ ہندوستان کا جو بھی سیاست دان مستقبل کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہو گا اسے امریکہ بہادر کی مرضی اور ماں جی جے للیتا، دیدی مایاوتی اور بھین جی ممتا بینر جی کے سیاسی تعاون کی بھی ضرورت ہوگی۔ اخبارات میں اس نوعیت کی خبریں آئی ہیں کہ جے للیتا نے اپنی پارٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ نریندر مودی کے خلاف بیان بازی سے گزیز کرے مگر اس سے مودی صاحب کو یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ان کو ماں جی کا سیاسی تعاون حاصل ہو گیا ہے۔

ماں جی نے یہ بھی کہا ہے کہ کانگریس کی لوٹ مار ختم ہونی چاہئے لیکن اس سے ان کی یہ مراد بھی نہیں ہوگی کہ بی جے پی کی لوٹ مار شروع ہو جائے۔ تامل ناڈو کی اماں کے بارے میں یہ خبر بھی چھپی تھی کہ پانڈی چرمی کے ایک چھاپے میں ان کی وارڈ روب سے دس ہزار قیمتی ساڑھیاں اور 750 جوتوں کے جوڑے برآمد ہوئے تھے۔ اس نوعیت کی خبروں سے ہندوستان کے سیاسی لیڈروں کی شہرت میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہوتا ہے۔ماں جی اگر اپنی بے پناہ دولت کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں تو اپنے ووٹروں کی بھرپور مالی معاونت اور مدد بھی کرتی ہیں۔ ہمارے پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرح جے للیتا نے بھی اپنے علاقے میں بہت سارے لیپ ٹاپ تقسیم کئے ہیں ممتا بیز جی کی شہرت ان کی سادہ زندگی اور سادگی پسندی سے تعلق رکھتی ہے۔ مایا وتی چھوٹی جاتیوں کے لوگوں میں سب سے زیادہ مشہور ہیں اور ہندوستان کے مستقبل کی حکومتوں کی سربراہی میں ان کا عمل دخل واضع حد تک ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان تین بادشاہ اگر خواتین میں سے کوئی ایک خود بھی ہندوستان کی ملکہ بننے کی خواہش کرے مگر بادشاہ گر ہونا بادشاہ ہونے سے زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.