.

ہمسایہ ممالک کا منظرنامہ اور پاکستان

عارف نظامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے صدارتی انتخابات میں طالبان کی تمام تر کوششوں، دہشت گردی کے ذریعے ڈرانے اور دھمکانے کی پالیسی کے باوجود ووٹنگ مکمل ہو گئی۔ افغان عوام نے تحریص وترغیب کے تمام تر ہتھکنڈوں کی پروا کیے بغیر کئی دہائیوں سے اس شورش زدہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بھرپور انداز سے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس پر وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے سبکدوش ہونے والے افغان صدر حامد کرزئی اور افغان عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا کہ بیلٹ باکس کے ذریعے جمہوریت مستحکم ہو گی اور خطے میں امن آئے گا۔

دوسری طرف ایران سے سرد مہرانہ تعلقات میں بھی کچھ بہتری آئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ نے پاکستان کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی توثیق کر دی ہے اس کے ساتھ ہی پاکستان اور ایران کی مشترکہ نیول مشقیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ اُدھر بھارت میں عام انتخابات کا عمل شروع ہو گیا ہے جس میں بھارت کے 81 کروڑ سے زیادہ ووٹر حصہ لے رہے ہیں۔ یہ انتخابی عمل مئی کے وسط تک مکمل ہو گا۔ عام توقعات یہی ہیں کہ ان انتخابات میں نہرو اور گاندھی کی خاندانی میراث کانگریس کو شکست کا سامنا ہو گا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نریندرا مودی کی قیادت میں جیت جائے گی۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بی جے پی حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی اور بی جے پی کی قیادت میں مخلوط حکومت بنے گی۔ نریندر امودی کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ مسلم کش پالیسیوں کے حامی رہے ہیں اور پاکستان کے بارے میں خاصے ہارڈلائینرہیں۔

ہمسایہ ملکوں میں تغیر پذیر حالات یقینا پاکستان پر بھی گہرا اثر چھوڑیں گے اور امید ہے کہ ہمارے پالیسی ساز تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال سے نبردآزما ہونے کی تیاری کر رہے ہونگے تاہم ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکو مت کی میلان طبع کی روشنی میں یہ توقع امید موہوم بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ افغان صدارتی انتخابات پر وہاں تو جمہوریت کی فتح پر ڈونگر ے برسائے جا رہے ہیں لیکن ہم خود پاکستانی طالبان کے سامنے سرنگوں ہیں اور انہوں نے ـ”کمال مہربانی “کرتے ہوئے سیز فائر کی مدت میں چند روز کی توسیع کر دی ہے۔ گویا تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر ہماری منشا کے مطابق قیدی رہا نہ کیے گئے اور ان کی تازہ لانچ شدہ ویب سائٹ جو اچانک ہٹا بھی دی گئی کے مطابق شریعت نافذ نہ کی گئی تو پاکستانی قوم اپنی خیر منا لے۔ افغانستان میں ہم جمہوریت کا احیا چاہتے ہیں لیکن پاکستان میں ہم انہی جمہوریت کشوں بلکہ پاکستان کشوں سے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ پاکستان نے تو چند روزہ امن خریدنے کے لیے 19جنگجو قیدی رہا کر دئیے ہیں لیکن طالبان ہمارے یرغمال بنائے ہوئے افراد کو رہا کرنے سے مسلسل انکاری ہیں۔ وہ سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر، یوسف رضاگیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کی رہائی کی بہت بھاری قیمت مانگ رہے ہیں۔ یہ بلیک میلنگ پر مبنی مذاکرات پاکستان کو کہاں لے کر جائیں گے شاید حکمرانوں کو اس کا ادراک نہیں۔ طالبان کی ویب سائٹ پر ہمارے عسکری اداروں اور حکومت کے خلاف نفرت انگیز مواد بھی موجود تھااس کے باوجود یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی حکومت، فوج اور تحریک طالبان پاکستان مذاکرات کے موجودہ عمل کے بارے میں ایک ہی صفحے پر ہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے تازہ بیان نے فوج اور حکومت کے ایک ہی صفحے پر ہونے کے دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔ فوج مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے اور انہیں اپنی والدہ کی عیادت کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینے کے حکومتی فیصلے اور اس ضمن میں خواجگان، خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق، کے بیانات سے بھی نالاں ہے۔ اس طرح تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے بارے میں حکومتی رویہ بھی وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔ میاں نوازشریف اور فوجی سربراہوں کے درمیان تعلقات کار کی تلخ تاریخ کی روشنی میں میاں صاحب اور ان کے حواریوں اور میڈیامیں ان کے ڈھنڈورچیوں کو جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا چاہیے۔

ہماری خارجہ حکمت عملی کے کار پر دازوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ بھارت میں آئندہ حکومت کانگریس کی نہیں بلکہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی ہو گی حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ مودی ہی وزیراعظم ہوں۔ مخلوط حکومت میں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر کوئی دوسرا بھی وزیراعظم ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں غالباً یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ پاکستان کے بارے میں سخت ترین رویہ رکھنے والی جماعت اور اس کی لیڈرشپ سے معاملات طے کر لینا آسان ہو گا۔ اسی بنا پر تجارت کے معاملے میں بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا معاملہ نئی حکومت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر محترم سرتاج عزیز نے فرمایا ہے کہ نئی بھارتی حکومت سے مسئلہ کشمیر پر نتیجہ خیز مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ شاید اس خوش فہمی کی بنیاد فروری 1999 ء میں اس وقت کی بی جے پی حکومت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورہ لاہور اور بس یاترا ہی ہے۔ خدا کرے کہ 2002 ء میں بھارتی گجرات میں مسلمانوں کا قاتل اور پاکستان کے بارے میں سخت ترین مؤقف اختیار کرنے والا نریندر امودی انتخابات کے بعد امن کا پیامبر بن جائے۔ لیکن واجپائی اور مودی میں بہت فرق ہے جیسے یہ 2014 ء ہے۔ 1999 ء نہیں۔ 1999 ء میں مابعد کارگل صورت حال، 2008ء میں ممبئی حملوں اور دہشت گردی کے مزید واقعات میں پاکستان کو ہی مطعون کیا جاتا ہے۔ اس سے اندازہ یہی ہے کہ اگلی بھارتی حکومت اسلام آباد کے بارے میں سخت ترین مؤقف اختیار کر سکتی ہے۔ امید ہے کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت اس ممکنہ صورت حال سے نبٹنے کے لیے اپنے گھوڑے تیار رکھے گی۔

ایران کے ساتھ برف پگھلنے اور بالآخر وزیر اعظم میاں نواز شریف کے تہران تشریف لے جانے کی اطلاعات ، اچھی خبریں ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون کے بارے میں جس سکیورٹی معاہدے کی توثیق کی ہے اس کی روح کے مطابق تو یہ دونوں ملک خطے میں سرگرم دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لیے کارروائیوں میں بھی تعاون کریں گے ۔اس مثبت پیش رفت کے حوالے سے ہماری سویلین اور عسکری قیادت تاحال خاموش ہے۔ انہیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے تاکہ یہ تاثر زائل ہو سکے کہ پاکستان خدانخواستہ سعودی عرب کے ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحفے کے عوض ایرانی مفادات کے خلاف استعمال ہو گا۔

وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے اب یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر ایران پر لگی اقتصادی پابندیاں رکاوٹ ہیں۔ حکومت اس بارے میں کو ئی دوٹوک مؤقف اختیار کیوں نہیں کرتی۔ پائپ لائن کے بارے میں اصل مسئلہ تو سیاسی عزم کے فقدان کا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ منصوبہ اقتصادی طورپر غیر سودمند ہے اور یہ محض آصف زرداری کا سیاسی شوشہ تھا جوانہوں نے حکومت کی ٹرم کے مکمل ہونے سے محض چند ماہ قبل چھوڑاتا کہ آنے والی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کی جا سکیں۔ ہمیں اس منصوبے کے بارے میں حیلہ سازی کرنے کی بجائے فیصلہ کن مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور وزیر اعظم نوازشریف کے دورۂ ایران کے موقع پر ایرانی قیادت سے کھل کر بات کر لینی چاہیے۔ جہاں تک اقتصادی پابندیوں کا تعلق ہے تو امریکہ اور یورپ خود ان پابندیوں کو نرم کررہے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان کیوں نہیں مغرب سے یہ معاملہ طے کرنے کی سعی کرتا۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.