.

وقار ’’ماں‘‘ سے ہے ۔۔۔!

طیبہ ضیاء چیمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریڈیو پر ایک امریکی تجزیہ نگار کہہ رہا تھا کہ امریکہ کو ایک ڈکٹیٹر ہٹانے کے لئے کئی سیاسی گروپس کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے ۔ قذافی کو ہٹانے میں چالیس سال لگ گئے جبکہ جمہوریت کو ہٹانے کے لئے صرف ایک ڈکٹیٹر کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔ اسی طرح کی ایک بات پاکستان میں ایک سیاسی تقریب کے دوران مشرف کے ایک معروف ساتھی نے کہی تھی کہ’’ جمہوریت ہٹانے کے لئے صرف ایک جرنیل اور دو بندوقیں کافی ہیں۔

حاضرین میں ایک صاحب بولے ’’اور چند آپ جیسے بے غیرت بھی ۔۔۔! خدا خدا کر کے پاکستان کو آمریت کی لعنت سے چھٹکارا ملا، اب جمہوریت بھی سنبھل کر چلنا سیکھے۔ ایک دوسرے کو للکارنے سے گریز کیا جائے۔ حکومت نے مشرف کا معاملہ عدالت کے سپرد کر دیا، اب عوام کے معاملات و مسائل کی جانب توجہ دے۔ پاکستان کے اداروں کو اپنے وقار کا احساس دلانے کی ضرورت کیوں کر پیش آگئی؟ یہی وہی ہے ’’وقار‘‘ ہے جس کی ماں اپنے سپوتوں کے ہاتھوں ایک بار نہیں کئی بار رسوا ہو چکی ہے۔ ’’وقار‘‘ نے اپنی دھرتی ماں کے ساتھ افسوسناک سلوک روا رکھا، اسے تاریخ کے اوراق سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ اقتدارکی جنگ میں نہ صرف ماں کا وقار داغدار کیا بلکہ اس کا وجود بھی تار تار کر دیا۔

جسم کا ایک حصہ اس سے جدا کر دیا، اس کے باوجود ماں نے اپنے سپوتوں کے ’’وقار‘‘ کو داغدار ہونے سے بچانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دی۔ ’’وقار‘‘ کے دیئے زخموں کو آخر کب تک سیتی رہے گی ؟ پاک فوج کو سلام لیکن دھرتی ماں کے وقار سے سب کا وقار ہے۔ ماں کے ’‘وقار‘‘ کی دھجیاں بکھیری جاتی رہیں اور آج سب عزت دار بن گئے ؟ پاکستان کے وزیر دفاع وزیر اعظم ہیں البتہ عدالتوں کی پیشیاں بھگتنے اور الٹے سیدھے بیانات دینے کے لئے خواجہ آصف کو وزیر دفاع بنانا پڑا۔ خواجہ آصف اور سعد رفیق کا لب و لہجہ اور باڈی لینگویج ’’آ بیل مجھے مار‘‘ کی دعوت ہے۔ سعد رفیق کے اندر انتقامی جذبات انہیں اکثر مشتعل کر دیتے ہیں۔

سابق جرنیل پرویز مشرف کو وزیر اعظم معاف کر چکے ہیں البتہ ’’نو رتن‘‘ پرویز مشرف کوہیرو بنا کر دم لیں گے۔ مشرف کا مقدمہ عدالت میں جا چکا، فرد جرم عائد ہو چکی، سزا دینا اب عدالت کا کام ہے۔ سعد رفیق ٹرین چلائیں اور خواجہ آصف اردو کے پروگراموں میں پنجابی جُگت بازی سے گریز کریں۔ سیاستدان فوج کو ’’چونڈی‘‘ کاٹنے کی بجائے ملک کو منجھدار سے نکالنے کی جانب توجہ دیں۔ ایک دوسرے کے وقار کو چیلنج کرنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں، ماں کے ’’وقار‘‘ کو دائو پر لگانے میں کسی نے کسر نہیں چھوڑی۔ خواجہ آصف اور ان جیسے سیاستدان اور اینکرحضرات سنجیدہ گفتگو کے دوران بھی ’’جگت بازی‘‘ شروع کر دیتے ہیں۔ عوام کو ہنسانے کے لئے سٹیج فنکاروں کی خدمات کیا کم ہیں کہ سنجیدہ موضوعات بھی بھانڈ پن کی نذر ہو گئے۔

پاکستان کے ٹی وی ٹاک شوز دہشت گردی، ماتم، آہ و بکا، ظلم و زیادتی سے شروع ہوتے ہیں اور ہنسی مذاق پر ختم ہوجاتے ہیں۔جنرل پرویز مشرف کے بلنڈرز کے بعد فوج اپنا وقار بحال کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ سابق جنرل پرویز کیانی نے اپنے ادارے کا مزید وقار مجروح ہونے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اور جنرل راحیل شریف بھی ذمہ دار سپہ سالار معلوم ہوتے ہیں البتہ ایک سیاسی پارٹی دو میڈیا ادارے اور چند صحافیوں کی نجی مخالفت نے ملک میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ نواز حکومت کو باہر سے خطرہ نہیں، خطرہ اندر سے ہے۔ نواز حکومت اگر اس بار مدت پوری نہ کر سکی تو ملک انتہائی خوفناک صورتحال کا شکار ہو جائے گا۔شریف برادران نے بیوروکریسی اور نمائندوںکی کرپشن پربروقت قابو نہ پایا تو حکومت کا تختہ اندر کی بغاوت سے الٹایا جائے گا۔

اپوزیشن حکومت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کرنا چاہتی اور سیاستدانوں کے ’’نا پسندیدہ‘‘ چیف جسٹس بھی ریٹائر ہو چکے ہیں، جنرل صاحب بھی ’’شریف‘‘ ہیں البتہ نواز شریف کے اپنے بندے سنجیدگی کا ثبوت دیں ۔وزیر اعظم پرویز مشرف سے جان چھڑانا چاہتے ہیں مگر اس کے لئے آئینی و قانونی اور جمہوری راستہ نکالنا چاہتے ہیں۔ مشرف کی ملک میں موجودگی بھی سازش کا حصہ ہے۔ سعد رفیق اور خواجہ آصف فوج کا ’’وقار‘‘ بحال رکھنے کی ڈیوٹی پر فائز ہیں البتہ بعض میڈیا والے اپنی ذاتی جنگ کو خانہ جنگی بنانا چاہتے ہیں۔ کوئی فرد ذاتی بیان نہیں دے رہا، تمام ادارے اپنے سربراان کی ڈکٹیشن پر عمل پیرا ہیں۔ حکومت اپنے وزیروں کو بلا جواز میڈیا شوز میں جلوہ افروز ہونے سے منع کرے اور اگر بادل نخواستہ جانا پڑ جائے تو ’’جعلی‘‘ شعلہ بیانی سے باز رہیں۔ ’’وقار‘‘ اپنی دھرتی ماں کے تقدس کا خیال رکھے کہ وقار کسی فرد یا ادارے کا نام نہیں، یہ پاکستان کا نام ہے۔ وقار پاکستان کی بقاء سے ہے۔ ادارے اپنی حدود کا خیال رکھیں تو وقار خود بخود بحال ہو جا ئے گا۔

بشکریہ روزنامہ ' نوائے وقت '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.