.

آئین کی حکمرانی یا حماقت؟

ایاز امیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چار مرتبہ مارے گئے شب خون، طویل عرصہ تک حکمرانی کے مزے لوٹنا اور جنگوں میں دکھائی جانے والی کارکردگی میں اتار چڑھائو، جسے تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا، وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے دفاعی اداروں کو تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ تاہم گزشتہ ایک عشرے سے صورتحال میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی۔ اس عرصے میں فوج ایک ایسی غیر واضح جنگ میں مصروف ہے جس کے بارے میں مکمل سچائی کا سامنے آنا تو دشوار ، لیکن ایک بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس جنگ میں فوج نے اپنے پانچ ہزار کے قریب جوانوں اور افسروں کا جانی نقصان برداشت کیا ہے... اور یہ نقصان ان ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے جو اس نے اب تک لڑی جانے والی روایتی جنگوں میں اٹھایا ۔ یہ جنگ اب بھی جاری ہے۔ اگرچہ مذاکرات کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے لیکن بہت کم لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہ جنگ اس طرح ختم ہو جائے گی۔

پاک فوج میں روایتی طور پر شمالی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں کے نوجوان زیادہ تعداد میں بھرتی ہوتے ہیں۔ ان علاقوں میں شاید ہی کوئی ایسا گائوں ہو جس کے قبرستان میں کسی جام ِ شہادت نوش کرنے والے فوجی کی قبر پر قومی پرچم نہ لہرا رہا ہو۔ تاہم ستم ظریفی یہ کہ وہ دھڑے جو اس جنگ سے متاثر نہیں... جیسا کہ دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں، جو طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہیں، اور دائیں بازو کے صحافی ، جو طالبان کی ہٹ لسٹ پر نہیں ہیں، وہ اس جنگ کے خلاف چیخ و پکار میں مصروف رہتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے فوجی جوانوں کے خون کو بے وقعت بنا دیتے ہیں۔ جہاں تک ان شہدا کے اہل ِ خانہ کا تعلق ہے تو ایک عشرے میں کسی نے بھی ان کے لئے آواز بلند نہیں کی اور نہ ہی کسی نے ان کا غم بٹانے کی کوشش کی۔ اس سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ جوان بے کار ہلاک ہو گئے اور قوم کو ان کی قربانی سے کوئی سروکار نہیں۔ جہاں تک ان شہدا کے والدین کا تعلق ہے تو وہ سینہ تان کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے اور بیٹے بھی ہوتے تو بھی وہ اُنہیں وطن پر نچھاور کر دیتے۔ ان انمٹ قربانیوں سے ہمارا قومی دوغلاپن اُ س وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب فوجی جوان یا غریب پیشہ مزدور، جیسا کہ سبزی منڈی میں کام کرنے والے دہاڑی دار اپنی جان قربان کر دیں، لیکن پرآسائش ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر مگر مچھ کے آنسو بہانے اور امن کی مالا جپنے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس جنگ میں کچھ نہیں کھویا۔جو لوگ بابائے طالبان ہیں، وہی بابائے امن بنے بیٹھے ہیں۔ ان کے سامنے دوسری جنگ ِعظیم سے گریز کرنے والے برطانوی وزیر ِ اعظم نویل چمبرلین مرد ِ میدن دکھائی دیںگے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دفاعی ادارے دی گئی قربانیوں اور ماضی کے گناہوں کا حساب چکائیں گے یا پھر ہمارے سول حکمران کوئی اور ہی کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا فوج مزید پانچ ، دس ہزار ہلاکتیں برداشت کرے تو پھر سول حکمران کہیں گے کہ ہاں، اب ہمارے گناہ دھل گئے ہیں؟اور پھر یہ ہمارے لیڈر کون ہیں ؟کیا ان میں اتنی ہمت ہے کہ جس دوران وہ دشمن سے پرامن مذاکرات کا راگ الاپتے ہوئے قوم کی قسمت کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں تو وہ قبائلی علاقوں میں جا کر وہاں فرائض سرانجام دینے والے فوجی جوانوں کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کیوں نہیں کرتے؟ جنرل مشرف بھی وہاں کبھی نہیں گئے تھے اور یہ بات ان کے دامن پر بدنما دھبہ ہے۔ اس کے بعد صدر زرداری نے بھی مشرف کی پیروی کی اور ایوان سے قدم باہر نہیں نکالا، اور پھر اسلام آباد سے میران شاہ تک کا فاصلہ بھی تو بہت زیادہ ہے۔ نواز شریف بھی خود کو ایسے جوکھم میں ڈالنا اپسند نہیں کرتے ۔ کوئی امریکی صدر یا برطانوی وزیر اعظم ایسی بے حسی اور لاتعلقی کا مظاہرہ کرنے کے بعد اپنے منصب پر موجود نہیں رہ سکتا تھا؟ تاہم ہمارے ہاں زندگی کے اصول مختلف ہیں۔ جنوبی یا شمالی وزیرستان، باجوڑ یا مہمند میں تعینات ایک نوجوان فوجی افسر کیا محسوس کرتا ہو گا؟وہ اس کے جوانوں کی زندگی ہر لمحے خطرے کی زد میں ہوتی ہے کیونکہ اس کا واسطہ روایتی فوج سے نہیں بلکہ ایسے دشمن سے ہے جس کی آئی ای ڈیز، خود کش بمبار اور گھات لگا کر فائرنگ کرنے والے قاتلوں کے ہاتھوں ہزاروں فوجی جوان شہید یا زخمی ہو چکے ہیں ۔ جب پرسکون مقامات پر بیٹھ کر سیاست دان طالبان سے امن کی منتیں کرتے ہیں تو ان جوانوں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ صرف یہی نہیں، گزشتہ دنوں حکومت کے کچھ سینئر وزراء کی طرف سے سابق آرمی چیف کے بارے بہت رکیک زبان استعمال کی گئی، جیسا کہ ...’’مرد کا بچہ بن ‘‘۔ مہذب معاشروں میں عام مجرموں کی عزت ِ نفس کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے، لیکن ہمیں مہذب روایات سے کیا لینا دینا!

افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل ا سٹین میک کرسٹل نے اپنے سیاسی قائدین کے بارے میں کچھ ایسی باتیں کیں جن کی اس معاشرے میں روایت نہیں۔ اس پر صدر اُوباما نے اُسے خاموشی سے گھر بھیج دیا۔ اس پر کسی نے سول حکومت کی بالادستی کے نعرے نہیں لگائے، نہ ہی کسی نے ٹی وی انٹرویو میں اپنے ہی دفاعی ادارے کے بارے میں کچھ کہا ۔ آپ اس صورت ِ حال کو پاکستان کے مخصوص حالات کے مقابلے میں رکھ کر دیکھیں تو یہاں ایک عجیب تماشا دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک نئے آرمی چیف منصب پر فائز ہیں اور وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ قواعد وضوابط کے مطابق چلیں اور جہاں تک ممکن ہے سول حکومت کے ساتھ رابطے میں رہیں، لیکن ہمارے سیاسی سرکس کے کچھ کائو بوائے ٹی وی شوز میں مشرف اور آئین کی حکمرانی کے بارے میں کیا طوفان برپا کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ کس سیاسی اسکول کے تربیت یافتہ ہیں؟یاد داشت پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں، یہ سابق فوجی آمر جنرل ضیا کے فکری مریدین میں شامل تھے۔ ان کی سیاسی تربیت اسی ادارے سے ہوئی تھی۔ صورت ِ حال اتنی بڑھی کہ ایک باوقار اور سول حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادہ آرمی چیف کو بھی کچھ سخت الفاظ کہنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس پر ہمیں کسی مغالطے میں نہیں رہنا چاہئے۔ پریس ریلز کے مطابق آرمی چیف کا کہنا...’’ فوج اپنی عزت و وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گی‘‘ ان کے غصے کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کو عام فہم زبان میں یوں کہا جا سکتا ہے...’’بس بہت ہوگیا‘‘۔

اگر کوئی ان کی وارننگ کو نظر انداز کرنا چاہے تو اس کی مرضی ہے لیکن فوج کی طرف سے ایسے بیانات معمول کا حصہ نہیں۔ ایسی سخت باتیں اسی وقت ہی کی جاتی ہیں جب وہ محسوس کر رہی ہو کہ اُسے دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے... اور جب جی ایچ کیو اور ایوان ِ وزیر ِ اعظم کے درمیان رابطے موثر نہ ہوں۔ کسی کو یہ سمجھنے کے لئے فوج کی خفیہ فائلیں پڑھنے کی ضرورت نہیں کہ یہ تنائو سول حکومت کے طالبان کے ساتھ بے تکے پن سے کیے جانے والے مذاکرات کی وجہ سے ہے۔ دفاعی ادارے یہ بجا طور پر سمجھ رہے ہیں اس گفتگو میں طالبان کو بہت کچھ دیا جار ہے لیکن وہ کچھ بھی دینے کے لئےتیار نہیں۔ امکان ہے کہ یہ بے چینی اور تنائو کی کیفیت مزید کچھ دیر تک جاری رہے گی اور اس سے لاحق خدشے خطرات کا روپ نہیں دھاریں گے تاوقتیکہ سول حکومت نے عقل و فہم سے اظہار لا تعلقی کرتے ہوئے کوئی اور محاذ نہ کھول لیا۔ مشرف غداری کیس کے حوالے سے اسلام آباد میں ہمہ وقت فعال رہنے والی افواہ ساز فیکٹریوں نے فوجی حلقوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اگر ایک مرتبہ مشرف کو عدالت کے روبرو پیش کر دیا جائے توان کے لئے معاملات آسان ہو جائیں گے اور اُنہیں بیرون ملک روانگی کی اجازت بھی مل جائے گی۔ تاہم ایسا نہ ہوا، اور پھر حکومت کے دو اہم وزیر، خواجہ آصف اور سعد رفیق ، جو جارحانہ بیانات دینے کی شہرت رکھتے ہیں، نے پرویز مشرف پر چڑھائی کر دی۔ ان کی طرف سے الفاظ کے چنائو پر ریٹائرڈ اور حاضر سروس عسکری حلقے خوش نہیں ہوئے۔

اس تمام ساری صورت حال میں اہم ترین واقعہ جنرل راحیل شریف کا ایس ایس جی (اسپیشل سروسز گروپ ) کمانڈوز کے ہیڈکوارٹرز، غازی نزد تربیلا، کا دورہ تھا۔ طالبان کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں میں ایس ایس جی کمانڈوز صف اول میں رہے ہیں۔ ایک مرتبہ مشرف دور میں طالبان کی طرف سے غازی بیس پر خوفناک حملہ بھی کیا گیا، جس میں بہت سی ہلاکتیں ہوئیں۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ مشرف کا تعلق بھی ایس ایس جی سے تھا اور ایس ایس جی میں افسران اور جوانوں میں آپس میں جتنا قریبی تعلق ہوتا ہے، دیگر عسکری گروپس میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ مشرف کے بارے میں جو بھی کہا جائے، وہ اپنے ا سٹاف میں بہت مقبول تھے۔ چنانچہ غازی بیس کے دورے کے موقع پر جنرل راحیل شریف سے مشرف مقدمے کی بابت سوالات پوچھے گئے ہوںگے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس سے جنرل صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ چنانچہ اُسی شام وہ پریس ریلیز جاری ہو گیا۔ وہ افراد جو کہتے ہیں، اور درست کہتے ہیں، کہ پریس ریلیز جاری کرنا فوج کا کام نہیں، کو دو باتیں یاد رکھنی چاہئیں(1)... پاکستان میں مارے گئے شب خون کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہو گا کہ اگر صورت ِ حال ایسی بن جائے تو فوج ایک کے بعد دوسرا شب خون مارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ضمن میں عدلیہ یا میڈیا کی آزادی کے دل خوش کن نعروں سے دل تو بہلا لیں لیکن حقائق کو نظر انداز نہ ہی کرنا بہتر ہو گا۔ (2) جس چیز نے آج پاکستان کو جغرافیائی طور پر اکھٹا رکھا ہوا ہے وہ اسلام یا 1973 کا آئین نہیں بلکہ مضبوط فوج ہے۔ اگر آپ فوج کو منظر سے ہٹا دیں یا اسے مزید کمزور کر دیں تو پاکستان میں یوگو سلاویہ جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے... اور یہ بات کہتے ہوئے خوشی نہیں ہو رہی ہے۔ آئین کی بالا دستی اچھی چیز ہے اور ہم سب کو اس کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے لیکن اس کی آڑ میں سول حکومت کو اپنی ذمہ داری سے غفلت برتنے کا جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ آخری مرتبہ جب پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے آئین کی بالا دستی کی کوشش میں ایک بپھرے ہوئے بیل سے ٹکر لے لی۔ بیل کا تو بال بیکا نہ ہوا، اس کی ٹکر سے یہ خود ہوا ہو گئے۔ آج یقینا کوئی بھی وہ بل فائٹنگ نہیں دیکھنا چاہے گا... اور وہ بھی اتنی جلدی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.