.

مشرف نہیں گوادر بچاؤ!

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں یہ بحث چھڑی ہے کہ کارگل کی جنگ میں بھارت کو فتح کس نے دلائی۔ یوپی حکومت کے مسلمان وزیر‘اعظم خاں نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ کارگل جنگ میں بھارت کو فتح ہندو نہیں‘ مسلمان سپاہیوں نے دلوائی تھی۔ اس پر بی جے پی کی طرف سے الیکشن کمیشن میں وزیر خاں کے خلاف رٹ دائر کر دی گئی ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ جنگ ہندو سپاہیوں نے جیتی تھی۔

بھارتی فوج میں مسلمان ہیں ہی کتنے کہ وہ فتح دلوانے کے لئے کوئی کردار ادا کر سکیں۔ ہاں‘ کبھی بھارت کو کسی جنگ میں مارپڑی تو اس وقت یہ گنتی کے مسلمان فوجی ضرور اہم ہو جائیں گے اور پورے بھارت میں یہ قومی اتفاق رائے بن جائے گا کہ بھارت کو شکست مسلمان غدّاروں کی وجہ سے ہوئی۔ فی الحال تو مسلمانوں کی فوج میں گنتی بس علامتی ہی ہے۔

ویسے بھی بحث غیر ضروری ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ بھارت کو فتح ہندو سپاہیوں نے دلوائی یا مسلمان فوجیوں نے دلوائی۔ نیٹ نتیجہ تو ایک ہی رہا کہ پاکستان ہار گیا اور پاکستان کے ساتھ ہی کشمیری بھی ہار گئے اور اس کے ساتھ ہی کشمیر کاز بری طرح زخمی ہو کر ’’قومے‘‘ میں چلا گیا۔ علاوہ ازیں دیکھا جائے تو یہ بحث ہی غلط ہے۔ بھارت کو فتح اس کے ہندو سپاہیوں نے دلائی نہ مسلمان سپاہیوں نے۔ بھارت کو فتح دلانے والے پاکستان کے تین ذات ہائے شریف تھے۔ وہی مشرف و عزیز و محمود۔ یہ مان میرا احسان والا مقام ہے۔
_______________________
ایمرجنسی کے اقدام کے خلاف سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے نے یہ بحث تو ختم کر دی کہ 3 نومبر کے اقدام پر مشرف کے علاوہ بھی کسی کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے یا نہیں۔ فیصلے سے یہ بات صاف ہوگئی کہ مشرف نے بطور سپہ سالار کسی سلطان کی طرح ایمرجنسی نافذ کی۔ سلطان کوئی فیصلہ کرے اور پھر پکڑا جائے تو سزا اسی کو ملتی ہے‘ درباریوں کو نہیں۔ ویسے بھی یہ مضحکہ خیز منظر ہوگا کہ ایمرجنسی کیس میں سلطانی ملزم مشرف کے ساتھ کٹہرے میں شجاعت‘مشاہد‘ پرویز الٰہی‘ ارباب رحیم‘ صوفی بشیر ‘ ریٹائرڈ قریشی وغیرہ کھڑے ہوں۔ لگے گا‘ پولیس داتا دربار پر لنگر کی قطار میں کھڑے لوگوں کو پکڑ کر لے آئی ہے اور عدالت حیران ہے کہ ان لانگریوں کا کیا کرے۔ لانگریوں پر بہت مقدمے اور بن سکتے ہیں‘(اور فی مقدمہ خزانے کو اربوں کی یافت بھی ہو سکتی ہے) لیکن ایمرجنسی کا نہیں کہ وہ اکیلے مشرف نے سپہ سالار ہونے کی حیثیت میں ’’سلطان ‘‘ بن کر لگائی۔ ’’سپہ سالار کے طور پر ایمرجنسی لگا رہاہوں‘‘ یہ الفاظ خود مشرف کے ہیں‘ سلطان کا لفظ عدالت نے استعمال کیا ہے۔ ضمنی طور پر اس میں ایک ترمیمی نکتہ شیخ رشید کیلئے بھی نکلتا ہے۔ آج کے بعد وہ مشرف کو میرا سیّد نہ کہیں‘ اس کے بجائے اسے ’’میرا سلطان ‘‘ کہہ کر بلایا کریں۔ سلطان خوش ہو گا۔
_______________________
خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وہ اپنے اس بیان پر قائم ہیں جس کے بعد ایک ہنگامہ سا برپا ہو اتھااور جوا ب تھم سا چلا ہے۔
اپنے بیان پر قائم رہنے میں کوئی ہرج نہیں اس لئے کہ اس بیان میں کوئی لفظ قابل اعتراض تھا ہی نہیں۔ یہ بیان کیا تھا‘ ایک سطر تھی‘ مشرف ام الجرائم ہے‘ اب مرد بنے‘ اب اس کی ٹانگیں کیوں کانپ رہی ہیں۔ اور اس ایک سطر سے اختلاف کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے۔ چنانچہ بیان پر قائم رہنے میں کوئی خرابی نہیں جتنا چاہے قائم رہیں‘ خرابی اس میں ہے کہ غیر ضروری طور پراس بیان کو دھرایا جائے۔ بعض اوقات کہے جانے والے فقرے میں کوئی منفی بات نہیں ہوتی لیکن اسے بار بار کہا جائے تو کوئی نہ کوئی‘ بجا طور پر ناراض ہو سکتا ہے کہ یہ فقرہ اسی کو سنایا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی کسی مجلس میں کسی ایک شخص پر بار بار نگاہ ڈالے اور کہے‘ سچ بولنا بڑی اچھی بات ہے تو وہ ضرور ناراض ہو جائے گا‘کہ مجھے اشارے کنائے میں جھوٹا کہا جا رہا ہے۔

فوج نے اصل میں سعد رفیق‘ یا خواجہ آصف کے بیان کا نوٹس لیا تھا نہ ان پر ناراض تھی۔ اس نے اصل میں اس فضاکی طرف اشارہ کیا تھا جو فوج کے بعض حلقوں میں بنی ہوئی ہے ‘ جو چاہتے ہیں کہ مشرف پر مقدمہ ختم کر دیا جائے۔ آئینی طور پر یہ ممکن نہیں۔ مشرف کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی اقدام کا مرتکب قرار دیا ہے۔ کوئی بھی ادارہ سپریم کورٹ کے خلاف کیسے جا سکتا ہے۔ خود مشرف خلاف گیا تھا‘ نتیجہ کیا نکلا۔عوام کو اب بھی یقین ہے کہ فوج آئین کا احترام کرتی ہے اور کرے گی۔

فوج بہت تدبّر اور تحمل والا ادارہ ہے۔ اس نے جو بھی نوٹس لیا‘ سوچ سمجھ کر اور ٹھنڈے دل ہی سے لیا ہوگا۔ شاید اسے احمد رضا قصوری کے بیانات کا بھی نوٹس لے لینا چاہئے جو مشرف کا وکیل کم اور بزعم خود‘ آئی ایس پی آر کا ترجمان زیادہ بنا ہوا ہے۔ مشرف پر مقدمہ چلا تو فوج یہ کر دے گی۔ مشرف کو نہ چھوڑا تو فوج وہ کر دے گی‘ فوج ان کو سبق سکھا دے گی‘ فوج ان کا دماغ درست کر دے گی۔ احمد رضا قصوری کے سارے بیان اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ اسے کیسے پتہ ہے کہ فوج کیا کرے گی ۔فوج کے ’’اقدامات‘‘ کا اعلان کرنے کا اختیار اس نے کہاں سے لیا ہے۔ پھر اس نے مشرف کے مخالفوں کو ایک چینل پر یہ دھمکی بھی دی کہ خیال سے بات کرو‘ فوج کے پاس بندوق ہے۔ احمد رضا کا یہ خیال کہ فوج کے پاس بندوق عوام پر چلانے کے لئے ہے ‘فوج کی کردار کشی ہے۔ فوج یا کوئی اور ادارہ اسے سمجھا دے کہ فوج کی بندوق دشمن پر چلتی ہے‘ شہریوں پر نہیں اور اگر احمد رضا قصوری یہ بات سمجھنے سے انکار کر دے تو پھر سرکاری خرچ پر اسے کسی شفا خانے میں داخل کرا دیا جائے۔
_______________________
خبر ہے کہ حکومت ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے لئے تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے اور شاید اسی ماہ کے آخر میں یہ خبر آجائے کہ حکومت اور ناراض بلوچوں میں مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

اچھی خبر ہے لیکن اگر طالبان سے مذاکرات کی ’’رفتار ‘‘ کو دیکھا جائے تو اس اچھی خبر کے اچھے پن پر مایوسی کا گرہن لگ جاتا ہے۔ طالبان سے مذاکراتی عمل کے نتیجے میں دو ماہ قدرے امن کے گزر گئے (اگرچہ ’’ہماری جنگ‘‘ والوں نے چند وارداتیں کر ڈالیں) اور معیشت پر اس امن کا اچھا اثر پڑا لیکن جس طرح اس مذاکراتی عمل کو سست روی کے سپرد کر دیا گیا‘ اس سے بھارتی اسرائیلی لابی کا کام آسان ہو گیا جو مذاکرات کی ناکامی کی خواہاں ہی نہیں‘ اس کے لئے کوشاں بھی ہے۔

اگر فاٹا اور بلوچستان میں امن ہو جائے تو دونوں جگہ مشرف کی لگائی ہوئی آگ ٹھندی پر جائے گی۔ معیشت کے تن مردہ میں جان پڑ جائے گی او رپاکستان اس کا ریڈور پر کام کر سکے گا جو موجودہ حالات میں دور کے سہانے ڈھول سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔

اگر بلوچستان میں بھی امن مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں تو بھارتی اسرائیلی لابی (عرف ہماری جنگ) بھی اپنی سازشیں تیز کر دے گی۔ خبر ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اور اس جیسی دوسری تنظیموں کیلئے کو بھارت کی امداد بڑھ گئی ہے۔ امن مذاکرات کے ساتھ حکومت کو ایسی ’’ایجنسیوں‘‘ کا سراغ بھی لگانا ہوگایا ڈھونڈ نکالنا ہوگا جو دشمن کی وارداتوں پر نظر رکھ سکیں‘ فی الحال تو جو چاہے جہاں چاہے کچھ بھی کر جائے‘ ہماری درجنوں سکیورٹی ایجنسیوں کی بے خبری اور بے عملی ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ابھی راستے میں کئی خطرے اور بھی ہیں مثلاً پاک چین کا ریڈور بلکہ درست معنوں میں کابل گوادر کاریڈور کے امکان سے تلملائے ہوئے امریکہ نے مسقط کو اکسانا شروع کر دیا ہے کہ وہ گوادر کی واپسی کا مطالبہ کرے‘ نہ رہے گا بانس‘ نہ بجے گی بانسری۔ گوادر نہیں رہے گا تو پیچھے صرف چاہ بہار رہ جائے گا۔ سنجیاں ہوون گلیاں‘ وچہ مرزا یار پھرے!تو اے بھائیو‘ مشرف نہیں گوادر کو بچاؤ۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.