.

بل کلنٹن کی ایک کتاب

ڈاکٹر امجد ثاقب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’میری خواہش تھی کہ میں وائٹ ہاؤس سے نکلنے کے بعد بھی لوگوں کی خدمت کروں۔ انہیں ایسے موقعے فراہم کروں جن کے ذریعے وہ خوشیوں تک پہنچ سکیں۔ میں نے یہ سب کچھ اس لئے ضروری سمجھا کہ میرے ہم وطنوں نے مجھے زندگی میں ایک تاریخی مقام تک پہنچنے میں مدد دی تھی۔ ایک ایسا مقام جو ہر شخص کو نہیں ملتا۔ امریکہ کا صدر اور وہ بھی دو بار‘‘۔ بل کلنٹن نے یہ باتیں اپنی ایک کتاب میں کہیں۔ کتاب کا نام ہے ’’دینا ‘‘ یا Giving۔ کلنٹن کا کہنا ہے کہ ’’سیاست ایک ایساکا م ہے جس کا انحصار عام طور پر صرف لینے پر ہے۔ سیاست دان لوگوں سے مدد لیتے ہیں، عطیا ت لیتے ہیں یا پھر ووٹ لیتے ہیں اور یہ عمل ایک بار نہیں بار بار دہرایا جا تا ہے۔ آپ خواہ کسی بھی منصب پر پہنچ جائیں ٗآپ لوگوں کو اتنا واپس نہیں کر تے جس قدر آپ ان سے وصول کر چکے ہو تے ہیں۔

میں سوچتا ہوں کہ مجھے پرانا سارا حساب بے باق کرنا ہے۔ اس محبت کا قرض اتارنا ہے جو امریکی عوام نے مجھ سے کی۔ میں اپنے اہل خانہ کے علاوہ بہت سے لوگوں کے لئے بہت کچھ کر سکتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میںیہ سب کچھ کروں تاکہ میرے ہم وطن اور دنیا بھر کے لوگ ایک خوشگوار زندگی سے ہمکنار ہوں۔‘‘ یہ ساری باتیں کلنٹن نے اس کتاب کے تعارف میں کہی ہیں۔ اس کتاب کو امریکی عوام کی طرف سے بہت پذیرائی ملی۔ اس میں موجزن درد مندی کی بناء پر کچھ لوگوں نے اس کتاب کو ایک ’’ایک درد منددل کی پکار‘‘ کا نام بھی دیا۔ سابق امریکی صدر کی اس کتاب کا حاصل یہ ہے کہ ہم سب اس دنیا کو تبدیل کرنے میں اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے تو اس نے ان غیر معمولی کاوشوں کا تذکرہ کیا جو مختلف افراد اور اداروں نے اس ضمن میں کیں۔ ان تمام کاوشوں کا مقصد انسانی زندگی کا تحفظ اور دنیا کو خوبصورت بنانے کے متعلق ہے۔ ان کہا نیوں اور واقعات کو بیا ن کرنے کے بعد بل کلنٹن یہ سوال پوچھتا ہے کہ ہم سب اس بڑی جدوجہد میں کس طرح شریک ہو سکتے ہیں۔ وہ اسی پر توقف نہیں کرتا بلکہ لوگوں کو اس امر پر آمادہ بھی کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ خدمتِ خلق کا کام صرف اس وقت نہیں ہوتا جب آپ کے پاس دولت یا کوئی بڑا منصب ہی ہو۔ آپ لوگوں کی خدمت کے لئے اپنی صلاحیت کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں۔ بھرپور زندگی کا کوئی ایک چھوٹا سا لمحہ! جب آپ خود کو بھول کر صرف دوسروں کے بارے میں سوچ رہے ہوں۔ بسا اوقات یہ ایک لمحہ، ایک طویل زندگی پر حاوی ہوتا ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جس کے بارے میں کسی نے کہا:

میں ایک پل کے رنجِ فراواں میں کھو گیا
مرجھا گئے زمانے میرے انتظار میں

بل کلنٹن نے اس کتا ب میں اپنے ان تجربات کو بھی بیان کیا ہے جو خدمت خلق کے راستے پر چلتے ہو ئے اسے ہوئے۔ کس طرح لوگوں نے اس کے ساتھ تعاون کیا اور اپنی دولت، اپنی صلاحیتیں اس کے نام لکھ دیں۔ یہ دولت ٗ یہ صلاحیتیں اصل میں اس کے نام نہیں بلکہ انسانیت کے نام لکھی گئی ہیں۔ اس نے بیسیوں ایسے افراد کا تذکرہ کیا جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کو دے دی۔ اس لئے کہ ان کی اپنی خوشی کا راستہ بھی ادھر سے ہو کر گزرتا تھا۔ یہ ایسے ناقابل فراموش کردار ہیں جن پر انسانیت فخر کر سکتی ہے۔ کوئی نوجوانی میں اور کوئی ادھیڑ عمری میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر ٹوٹے پھوٹے گلی کوچوں اورمتعفن بستیوں میں جا پہنچا۔ خیر کی بھیک مانگنے اور محبت تقسیم کرنے۔ یہ لوگ صرف امریکا یا یورپ میں ہی نہیں ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد وہ پڑھنے والوں کو میدانِ عمل میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کے دل میں وہی کسک بیدار کرتا ہے جو ایک طویل جستجو کا آغاز بنتی ہے اور پھر انتہائی مشکل راستے آسان ہونے لگتے ہیں۔

بعض لوگوں کی طرح کلنٹن کا خیال ہے کہ دکھ زندگی کا اہم ترین حصہ ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ دکھ کی اس کیفیت کے خاتمہ کے لئے ہر عہد میں مہاتما بدھ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ بادشاہت کو چھوڑ کر گلی گلی خاک چھاننے والے۔ ہزاروں سال پہلے کپل دستو سے شروع ہو نے والا یہ سلسلہ ابھی تک قائم ہے۔بل کلنٹن نے اپنی کتاب میں جن لوگوں کا ذکر کیا ہے ان میں عام لوگ بھی شامل ہیں۔ کم مایہ، گم نام اور معمولی سوجھ بوجھ والے۔ انھوں نے آسائشوں کو چھوڑ کر کا نٹوں پر چلنے کا ارادہ کیا۔

انہوں نے ان لوگوں کے بارے میں سوچا جن کے بار ے میں کو ئی نہیں سوچتا۔ یہ لوگ مہاتما بدھ کی روایت کی اگلی کڑی ہیں۔ وہ روایت جو زندگی کو نیکی بناتی ہے۔ عہدحاضر میں دہشت گرد نہیں اچھے لوگ بھی بستے ہیں۔ انھی گلی کوچوں میں۔ انھی شہروں اور دیہاتوں میں۔ وہ لوگ جن کے ہاتھوں پہ کسی کے لہو کے چھینٹے نہیں۔ بس محبت ہی محبت ہے۔بہت اچھے لوگ۔ ان میں سے کچھ اچھے لوگوں کو جاننا ہو تو آپ کو بل کلنٹن کی یہ کتاب پڑھنا ہو گی۔ یہ کتا ب آپ کو کسی عظیم ذمہ داری سے آشنا کر سکتی ہے۔ کسی نیکی کا پتہ بتا سکتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی تو یہی کہا تھا کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے۔

بشکریہ روزنامہ ' نئی بات '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.