.

جمہوریت آپا غفورن کی سلائی مشین ہے؟

وسعت اللہ خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آپ پاکستان کی کسی سڑک پر کسی راہ گیر سے پوچھ لیں کہ بھائی کیا صدرِ مملکت یا ان کے بعد بلحاظِ عہدہ سینیٹ کے چیئرمین یا اپنی ہی منتخب کردہ قومی اسمبلی کے سپیکر کا نام جانتے ہو؟ نوے فیصد لوگ شاید سوچ میں پڑ جائیں کہ کیا نام ہے؟ کوئی بھلا سا نام ہے شاید، کچھ فلاں ابنِ فلاں وغیرہ ۔۔۔ مگر آپ جیونی سے سکردو تک کسی بھی قصباتی سے بّری فوج کے سربراہ کا نام پوچھ لیں۔ امید ہے اسّی فیصد سے زائد شہریوں کو موجودہ بلکہ ریٹائرڈ چیف آف سٹاف کا نام بھی معلوم ہوگا۔ اور ایک فیصد سے بھی کم شہریوں کو شاید فضائیہ یا بحریہ کے موجودہ سربراہ کا نام بھی معلوم ہو۔

اب انہی شہریوں میں سے کسی ایک سے ذرا پوچھ لیں کہ جی ایچ کیو اور سویلین حکومت کے درمیان قومی پالیسیوں پر کتنی ہم آہنگی یا نفاق ہے؟ شائد ہی کوئی عام پاکستانی اسے ایک فضول سوال سمجھے بلکہ وہ اپنی بساط کے مطابق آپ کو ضرور بتائے گا کہ فوجی قیادت اور حکومت کا تعلق پہلے کیسا تھا، اب کیسا ہے، آئندہ کیسا رہے گا۔

اور پھر انہی اسّی فیصد سے زائد شہریوں میں سے کسی ایک سے ذرا پوچھیے کہ مسلح افواج کے بعد افرادی قوت کے اعتبار سے دوسرے بڑے سرکاری ادارے پاکستان ریلوے کا چیئرمین کون ہے؟ آیا تیسرے بڑے قومی ادارے واپڈا اور حکومت کے درمیان پاک امریکہ تعلقات پر ہم آہنگی ضروری ہے؟ چوتھا بڑا ادارہ پاکستان سٹیل طالبان سے مذاکرات اور پانچواں بڑا ادارہ پی آئی اے بھارت کو قریبی ساجھے دار قرار دینے کے حق میں ہے کہ نہیں؟ کیا محکمہ جنگلی حیاتیات واقعی چاہتا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن مکمل ہو؟ کیا ہائر ایجوکیشن کمیشن کو موجودہ حکومت کی افغان پالیسی پر کوئی اعتراض تو نہیں؟ امکان یہی ہے کہ کوئی بھی راہ گیر آپ سے یہ کہتا ہوا گذر جائے کہ ’یا تے تسی پاغل ہو یا فیر مینوں بنا رئے ہو؟

آج کے مصر، تھائی لینڈ اور دو چار افریقی ممالک کو چھوڑ کے اگر آپ پاکستان سے باہر کسی بھی راہ چلتے سے پوچھیں کہ بھئیا ذرا اپنی بّری، بحری یا فضائی افواج میں سے کسی ایک کے سربراہ کا نام تو بتائیو؟ ننانوے فیصد امکان ہے کہ وہ کندھے اچکاتے ہوئے آگے بڑھ جائے یا شاید کہہ دے کہ مجھے سوائے صدر یا وزیرِ اعظم، قصبے کے میئر، ڈاکٹر یا کمیونٹی پولیس افسر کے کسی کا نام معلوم نہیں۔

کیا آپ کو افغانستان میں اتحادی افواج کے سپاہ سالار جنرل میک کرسٹل یاد ہیں۔ وہ امریکی فوج کے سب سے قابلِ قدر اور ڈیکوریٹڈ جنرلوں میں سے ایک تھے۔ بس ایک دن وائٹ ہاؤس کی افغان حکمتِ عملی پر کسی انٹرویو میں کچھ نامناسب سی رائے دے دی اور پھر صدر اوباما نے جنرل صاحب کی معذرت کے باوجود ان کا استعفیٰ فوراً لے لیا۔ تو کیا افغانستان میں لڑنے والی امریکی فوج کا وقار و مورال ڈاؤن نہیں ہوا ہوگا؟

مگر آپ دل چھوٹا کیے بغیر اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پوچھتے رہیں کہ میری جان یہ تو بتاتے جاؤ کہ تمہارے ملک میں حکومت اور فوج کے خیالات داخلہ اور خارجہ پالیسی کے شعبے میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں کہ نہیں؟ سو فیصد امکان ہے کہ وہ شہری ایک لمحے کے لیے رک کر آپ کو سرتاپا دیکھے اور یہ کہتا ہوا اپنی راہ لے کہ جناب کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ کسی ماہرِ نفسیات سے فوراً رجوع کیجیے۔

کبھی کسی نے سنا کہ آج نئی دہلی میں وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے آرمی کے سربراہ نے دوطرفہ ملاقات میں پاک بھارت تعلقات سیمت علاقائی امور پر فوجی قیادت کی جانب سے کانگریس حکومت کو مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ اس ملاقات میں وزیرِ دفاع اے کے انٹونی چھوڑ فوج کے سربراہ کے باس سیکریٹری دفاع تک موجود نہ تھے۔

کبھی کسی نے پڑھا کہ ایرانی مسلح افواج کے دفترِ اطلاعات نے سپاہ سالار کا یہ بیان جاری کیا ہے کہ مغرب سے جوہری معاملے پر مذاکرات کے معاملے پر وزیرِ اعظم روحانی اور مسلح افواج کی قیادت میں قریبی رابطہ ہے۔

کسی نے سنا کہ امریکی وزیرِ خارجہ یا بحرین کے بادشاہ نے کولمبو کے دورے میں صدر راجہ پکسے سے ملنے کے بعد سری لنکا کی بّری فوج کے سربراہ سے فوجی ہیڈ کوارٹر جا کر الگ سے ملاقات کی۔

ترک وزیرِ اعظم اردگان کی حکومت نے (ملک میں چار مرتبہ مارشل لا لگائے جانے کی تلخ تاریخ کے باوجود) بّری فوج کے ایک سابق سربراہ سمیت ڈھائی سو کے لگ بھگ فوجی افسروں پر منتخب حکومت کے خلاف بے چینی پھیلانے کے الزامات میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ کیا کسی نے ترک فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ سے اس بیان کی توقع کی کہ اس معاملے پر فوجی قیادت کو سخت تحفظات ہیں اور مناسب تو یہ ہوگا کہ ان افسروں پر سویلین کے بجائے فوجی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے بصورتِ دیگر فوجی مورال اور وقار پر ایک ایسے وقت برا اثر پڑ سکتا ہے جب ترکی کو کرد باغیوں اور ہمسایہ ملک شام میں خانہ جنگی کے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔

ٹھیک ہے کہ پاکستان میں پہلی بار ایک سیاسی حکومت سے دوسری سیاسی حکومت کو اقتدار منتقل ہوگیا۔ لیکن سینتالیس کے بعد پیدا ہونے والی ہر نسل کے ذہنی خلیوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ پاکستان میں سویلینز کو اقتدار سونپا نہیں جاتا، اس شرط پر دیا جاتا ہے کہ لے بچے تو بھی تھوڑا کھیل کود کر ٹائم پاس کرلے۔ مگر سن گلی میں پوچھے بغیر مت بیٹھنا اور آوارہ لمڈوں کی صحبت میں خاندان کی ناک مت کٹوا دینا۔ اور خبردار جو بازار کی شے کھائی تو۔ اور سن ڈومکی یا سمیجو صاحب کے بچوں کو زیادہ منہ نہ لگانا پتہ نہیں یہ سالے دو ٹکے کے خاندان خود کو کیا سمجھنے لگے ہیں۔ اور یہ راج سنگھ کی شکل سے تو مجھے نفرت ہے۔ آئندہ تجھے اس کے ساتھ گھومتے دیکھا نا تو پھر دیکھ لینا۔

اس وقت پاکستانی جمہوریت غریب محلے میں رہنے والی نسبتاً آسودہ حال آپا غفورن کی سلائی مشین جیسی ہے جس کی گلی کے ہر گھر کو ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کل ہر گھر میں سلائی مشین آجائے۔ تب تک آپا غفورن کے بات بے بات نخروں پر جی جی کرکے سر ہلانے کے سوا چارہ بھی تو نہیں۔


بشکریہ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.