.

طالبان، سیاسی استحکام اور معیشت

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پی ایم ایل (ن) کی حکومت کو دو محاذوں پر ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے تشویش ہونی چاہئے جبکہ تیسرے محاذ کی صورت حال ان کے لئے طمانیت اور خوشی کا باعث ہو گی۔ اس کا مطلب یہ کہ اسکور کارڈ ابھی خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ طالبان کے ساتھ پرامن مذاکرات کا عمل جمود کا شکار ہے۔ درحقیقت حکومت اور طالبان کے مقاصد کے حوالے سے آج کنفیوژن پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ حکومت کا کہنا کہ اس نے طالبان کے کچھ ’’غیر جنگجو‘‘ قیدی رہا کر دیئے ہیں لیکن یہ بیان دفاعی اداروں کے موقف کے برعکس ہے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ کوئی غیر جنگجو شخص قید میں نہیں اور یہ کہ ان افراد کو رہا کرنے سے پہلے فوج کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ مزید تعجب خیز بات یہ کہ طالبان نے بھی حکومت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت کی طرف سے رہا کردہ افراد میں سے کوئی بھی ان آٹھ سو افراد میں شامل نہیں جو طالبان کی فہرست کے مطابق ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔

یہ بات بھی غیر واضح ہے کہ کیا یہ حکومت کی طرف سے اٹھایا گیا یکطرفہ اقدام ہے یا اس کے عوض طالبان سے کچھ ملنے کی توقع ہے؟ اس سے پہلے طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر مرحوم اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کو رہا نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کی جماعت پی پی پی، طالبان کے خلاف کارروائی کرتی رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب تک ان آٹھ سو طالبان قیدیوں میں سے بڑی تعداد میں اہم افراد کو رہا نہیں کیا جاتا، ان کی طرف سے ہمارے اہم افراد کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حامی اور مخالف طالبان کے درمیان جنگ شروع ہو چکی ہے۔ ان کے درمیان ہونے والی اس کشیدگی کے دو پہلو ہیں پہلا یہ کہ حکیم اﷲ محسود اور مولانا فضل اﷲ کے حامیوں میں تصادم ہورہا ہے۔ حکیم اﷲ ریاست پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا مخالف نہیں تھا جبکہ مولانا فضل اﷲ مذاکرات کے بجائے جنگ چاہتا ہے۔اس نظریاتی اختلاف میں تحریک ِ طالبان پاکستان کی قیادت کا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ طالبان کی چھتری تلے کام کرنے والے کچھ گروہ پاکستان کے خلاف اپنی نظریاتی جنگ جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔ یہ وہی گروہ ہیں جو طالبان کی مرکزی قیادت کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود پاکستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کررہے ہیں۔ طالبان کے ترجمان شاہد اﷲ شاہد نے ان گروہوں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گروہ طالبان کے اثر سے باہر ہیں، اس لئے وہ ان کے افعال کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔ بے شک دودن پہلے اسلام آباد کی فروٹ مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے میں بیسیوں بے گناہ مزدور پیشہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شاہد اﷲ شاہد نے بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کو اسلام میں ’’حرام‘‘ قرار دیا۔ بہت خوب، یہ بیان طالبان کی طرف سے آیا ہے جنہوں نے گزشتہ آٹھ سال کے دوران بہت فخر سے چالیس ہزار سے زائد بے گناہ پاکستانیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ درحقیقت اس وقت حکومت سخت مشکل صورت حال سے دوچار ہو گئی ہے کہ اب وہ کیسے بتائے کہ کس سے بات کرنی ہے اور کس سے نہیں اور یہ مذاکرات کیا رخ اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں؟

حکومت کی طرف سے جنرل مشرف کے خلاف شروع کیا جانے والا غداری کا مقدمہ بھی عسکری حلقوں کی بے چینی میں اضافہ کر رہا ہے۔ بظاہر حکومت کی دفاعی اداروں کے ساتھ ’’انڈر اسٹینڈنگ‘‘ یہ تھی کہ ایک مرتبہ پرویز مشرف کو عدالت میں پیش کر کے فرد ِ جرم عائد کی جائے تاکہ یہ تاثر دے دیا جائے کہ’’ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں‘‘، اس کے بعد انہیں ضمانت پر رہاکرکے طبی معائنے یا کسی اور بہانے سے بیرون ِ ملک جانے کی اجازت دے دی جائے تاہم جو کچھ ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔ نہ صرف خصوصی عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کرنے سے انکار کردیا بلکہ چند ایک اور عدالتوں کی طرف سے بھی حکم آگیا کہ وہ ان کے سامنے پیش ہو کر مقدمات کا سامنا کریں۔

بدترین بات یہ ہوئی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنمائوں خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق نے دفاعی اداروں کے خلاف پارلیمنٹ میں اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔اس کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایس ایس جی کے غازی بیس کا دورہ کیا اور اس موقع پر کہا کہ’’فوج اپنے وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گی‘‘۔ یہ ایک طرح کا فوج کے خلاف دیئے گئے گرما گرم بیانات کا ترکی بہ ترکی جواب تھا یقیناً جنرل شریف پر اپنے ماتحت فوجی افسران اور جوانوں کے جذبات کا دبائو ہو گا۔اس صورت حال کو سول ملٹری تعلقات اور ملک میں سیاسی استحکام کے لئے خوش آئند قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اچھی خبروں کا تعلق معیشت کے میدان سے ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے ملنے والے 1.5 بلین ڈالرکے تحفے نے ہمارے روپے کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالا دیا ہی تھا کہ ایک اور اچھی خبر آئی کہ ہمارے فنانس منسٹر اسحاق ڈار کا Eurobond شو بہت کامیاب رہا ہے۔ خبر آئی کہ پاکستان نے سات سال بعد انٹرنیشنل بانڈ مارکیٹ میں دھماکہ خیز انداز میں قدم رکھا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جاری کردہ بانڈ تھا۔ اس پر پانچ سے سات بلین ڈالر تک کی پیشکش تھی لیکن صرف دو بلین ڈالر قبول کئے گئے۔ اس سے پہلے حکومت کا ہدف صرف پانچ سو ملین ڈالر تھا۔

اس لئے اس بانڈ کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سے پی ایم ایل (ن) کی حکومت پر انٹرنیشنل سرمایہ کاروں کے اعتماد کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ یہ حکومت پاکستانی معیشت کو سنبھالا دے سکتی ہے۔ اس سے پہلے آئی ایم ایف بھی اس کی پالیسیوں کی منظوری دے چکا تھا۔ بہرحال نواز شریف صاحب کو اس کامیابی پر ضرورت سے زیادہ خوش نہیں ہونا چاہئے۔ آئی ایم ایف اور چین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی معیشت کو دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام سے خطرہ لاحق ہے... اور ان دونوں محاذوں پر سے آنے والی خبریں حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.