.

جتنی خوراک کھائی جاتی ہے اتنی ہی ضائع بھی کی جاتی ہے

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کامریڈ روکالومبارڈی بتاتے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے نقطہ نظر سے آج عالمی سطح پر غذائی ضرورت سے کہیں زیادہ خوراک پیدا کی جاسکتی ہے لیکن سرمایہ داری نظام ایسا ہونے نہیں دے گا کیونکہ ضروریات کو قلت سے فراوانی اور بہتات میں بدلنے سے ان کی ناجائز تجارت ختم ہو جائے گی اور جائز قیمت اور کاروباری کمائی میں کمی آجائے گی اور وہ غریبوں تک بھی پہنچ پائیں گے۔

دو سو سال پہلے مالتھس نے نظریہ پیش کیا تھا کہ غریبوں کی مدد کرنے کی بجائے ان کو فاقوں سے مرنے دیا جائے کیونکہ فطرت سب کی ضرورتیں پوری نہیں کرسکتی۔ اگرچہ مارکس اور اینگلز جیسے لوگوں نے اس نظریے کے پیچھے کام کرنے والی اس عیاری کو ننگا کیا تھا کہ سرمایہ داری نظام تمام مالی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لیکن مالتھس کے اس نظریے کو سرمایہ داروں نے خود بھی مستردکردیا تھا کیونکہ امیروں کو غریبوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ غریبوں کے بغیر وہ امیر ہو ہی نہیں سکتے ۔ مالکان اور سرمایہ کاروں کو مختلف کارخانوں، شعبوں، میدان جنگ کے لئے محنت کشوں کی افرادی قوت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

عالمی سرمایہ داری کے دو سو سالوں کے دوران مختلف حیلوں بہانوں اور پالیسیوں کے ذریعے مالتھس کے نظریے کی مخالفت کے باوجود ان کے مشورے پر عمل ہوتا رہا جن کے ذریعے دنیا کی ستر فیصد سے زیادہ آبادی کو فاقوں سے سجائی گئی قحط کی زندگی میں مبتلا رکھا گیا آج عالمی سطح پر سرمایہ داری نظام کے زوال کے عہد میں مالتھس کی غریب دشمن تھیوری کی طرف کچھ زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور بہت سے خود ساختہ بائیں بازو کے دانشور بھی دنیا کی آبادی کو تعلیم یافتہ اور ہنرمند بنانے کی بجائے اسے کنٹرول کرنے کی باتیں کرتے ہیں ان کا نعرہ ہے کہ ’’ہمیں زمین کو انسانوں سے بچانا ہے‘‘ دراصل یہ ’’سبز سیاست‘‘ (GREEN POLITICS) کے لبادے میں کٹوتیاں (AUSTARITY) کرنے کی واردات ہے۔

زمین کو نوح انسان کی تعداد تباہ نہیں کررہی بلکہ سرمایہ داری نظام اور اس کے تحت منافع خوری اور ہوس زر کرہ ارض پر انسانی زندگی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے جس کا اظہار گلوبل وارمنگ، ضرورت سے زیادہ موٹاپے، جنگلات کی کٹائی، سرمائے کے بحران اور پاگل گائے کی بیماری کی صورت میں ہورہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکی زرعی پیداوار امریکی شہریوں کی غذائی ضروریات کو پورا نہیں کرسکتی مگر امریکی ادارہ برائے زراعت کے مطابق 2012ء میں تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ امریکی گھرانے خوراک کی کمی کا شکار قرار دیئے گئے اور 70 لاکھ گھرانے مشکل سے اپنی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر خوراک کے ضائع کرنے کا مسئلہ بہت اہمیت حاصل کر رہا ہے تقریباً ایک تہائی عالمی آبادی سے لے کر نصف آبادی تک خوراک ضائع کرنے کی ذمہ دار بن رہی ہے۔

اگر خوراک کے ضائع ہونے والی مقدار کو بچا لیا جائے تو یہ پوری دنیا کی آبادی کی ضرورت سے بھی زیادہ ہوگی اس کی ذمہ دار منڈی کی حکمت عملی ہے جس طرح بہت سے ملکوں میں بڑی تعداد میں خالی گھروں کی موجودگی میں بے گھر لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ویسے ہی زراعت میں بعض اوقات پیداوار میں تعطل لایا جاتا ہے یا قیمتوں کو بڑھانے کے لیے خوراک کو ضائع بھی کرنا پڑتا ہے۔ اصل مسئلہ منافع کو برقرار رکھنے کا ہے بڑھتی ہوئی آبادی کا نہیں ہے۔

بعض لوگوں کو حیرت ہوگی مگر یہ حقیقت ہے کہ یورپ کے ملکوں میں فروخت ہونے والی زیادہ تر مچھلی غیر یورپی ملکوں کے پانیوں سے حاصل کی جاتی ہے کیونکہ مچھلی کے حد سے زیادہ شکار کی وجہ سے یورپی ذخائر ختم ہو چکے ہیں FAO کے مطابق گزشتہ صدی کے اختتام تک سمندروں کی تین چوتھائی مچھلی کو پیداوار کی آخری حد تک شکار کیا گیا تھا۔ اس بے دریغ منافع خوری نے سمندروں کے ماحولیاتی توازن کو بھی تباہ کردیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ صدی کی آخری دہائی کے دوران دنیا میں 94 لاکھ ہیکٹررقبے کے جنگلات کو کاٹا گیا یہ رقبہ بلجیم کے رقبے سے تین گناہ زیادہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.