.

مودی اور پاک بھارت نفرتی محبت

وسعت اللہ خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کم از کم میری نسل کے بچپن تک دنیا میں بس دو ملک تھے۔ ایک بھارت دوسرا پاکستان۔ انیس سو سترکے پہلے پاکستانی عام انتخابات تین مسائل کو بنیاد بنا کر لڑے گئے پہلا مسئلہ اسلام بمقابلہ سوشلزم، دوسرا مسئلہ مشرقی و مغربی پاکستان میں بڑھتی ہوئی اجنبیت اور تیسرا مسئلہ بھارت۔ پاکستان میں عام سی بات تھی کہ کوئی پسند نہ آیا تو اسے بھارتی ایجنٹ کہہ دیا ، کسی نے بڑھک لگا دی کہ ہم بھارت سے ہزار سال لڑیں گے تو کسی نے دلی کے لال قلعے پر لہرانے کے لیے سبز جھنڈا سلوا لیا۔ہم گھاس کھا لیں گے، پیٹ پر پتھر باندھ لیں گے مگر بھارتی ایٹمی دھماکے کا جواب ضرور دیں گے۔ناپاک بھارتی عزائم، بزدل ہندو بنیا ، ایک مسلمان دس پے بھاری، دشمن کی میلی آنکھ پھوڑ ڈالیں گے، دس کروڑ مسلمانوں کی غیرت نہ للکارو، مکار ہندو ذہنیت، خونِ مسلم سے ہولی، مسلم کش فسادات وغیرہ وغیرہ وغیرہ …

سرحد پار بھی ایسے ہی اونچے سر گھٹی میں پلائے جاتے تھے۔ لٹیرا محمود غزنوی، بابر کی اولاد، متعصب اورنگ زیب، ماتا کے ٹکڑے کرنے والا جناح، امریکی پٹھو، کرش پاکستان، غدار مسلمان وغیرہ وغیرہ وغیرہ… غرض تقسیم کے بعد کے کم ازکم چالیس برس تک دونوں طرف یہ بہت ہی آسان نسخہ تھا کہ جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو دلی میں کھڑے ہو کر پاکستان کو یا لاہور کے موچی دروازے پر بھارت کو گالی دے دی۔ کوئی نظریاتی و سیاسی ٹوپی کسی اور قوم پر فٹ نہ آتی تو بھارت اور پاکستان یہی ٹوپی ایک دوسرے کو پہنانے کی کوشش کرتے رہتے۔

لیکن اگر آپ کھلے دل اور آنکھوں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان دشمنی کی فلم سوائے شمالی ہندوستان کے کسی اور خطے میں کبھی بھی ہٹ نہ ہوسکی اور بھارت دشمنی کی فلم پنجاب، مظفر آباد اور کراچی کے سوا کہیں اور مقبول نہ ہوسکی۔ وجہ سیدھی سیدھی سی تھی کہ تقسیم کے بعد زیادہ تر مہاجرین شمالی یا مشرقی بھارت سے مغربی اور مشرقی پاکستان پہنچے۔مشرقی پنجابی مسلمان تو وسطی پنجاب میں کھپ گئے باقیوں نے زیادہ تر سندھ کا رخ کیا۔جب کہ مغربی پنجاب اور سندھ کے جن ہندوؤں اور سکھوں نے بھارت کا رخ کیا ان کی اکثریت شمالی ہندوستان میں بس گئی۔

چونکہ اب دونوں ملکوں میں تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی تیسری پیڑھی بھی جوانی کا جوش گزار چکی ہے لہذا دوطرفہ دشمنی کا موضوع بھی بڑے قومی ریڈار سے پھسل کر صرف چند مذہبی سیاسی جماعتوں تک محدود ہوگیا ہے۔ پاکستان میں کچھ بھارت مخالف جہادی تنظیموں کے سوا ملک گیر سطح پر شائد ہی کوئی سیاسی و دینی پارٹی ہو جو اینٹی انڈیا پالیسی کو آج بھی سنجیدگی سے لیتی ہو۔ اسی طرح بھارت میں سوائے جن سنگھ اور اس کا سیاسی بازو بھارتیہ جنتا پارٹی یا اس کی طفیلی تنظیموں کی پاکستان دشمنی کسی بھی سرکردہ سیاسی جماعت کا انتخابی موضوع نہیں رہا۔ اگر آپ دونوں ممالک میں ایسی جماعتوں اور گروہوں کا سیاسی و نظریاتی شجرہ پرکھیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اینٹی انڈیا یا اینٹی پاکستان گروہوں کو ان لوگوں کی حمایت زیادہ ملی جو ایک جگہ سے اکھڑ کر دوسری جگہ بسنے پر مجبور ہوگئے۔

پاکستان میں آخری قابلِ ذکر اینٹی انڈیا لہر انیس سو بانوے میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے کے ردِ عمل میں اٹھی۔لیکن دو ہزار دو میں ریاست گجرات میں مسلمانوں کے بھاری جانی نقصان پر پاکستان میں سرکاری و ابلاغی سطح پر تو تھوڑی بہت ہا ہا کار رہی مگر عام آدمی کی سطح پر سوائے رسمی افسوس کے کوئی ٹھوس ردِ عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔جب کہ بھارت میں انیس سو ننانوے کی کرگل مہم جوئی کے خلاف جو اینٹی پاکستان ردِ عمل ہوا اس سے کم ردِ عمل دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے خلاف دیکھنے میں آیا۔ حالانکہ کرگل ایک عام بھارتی سے ہر لحاظ سے دور اور ممبئی سیاسی و ثقافتی اعتبار سے بہت قریب ہے۔

آج دونوں ممالک کی داخلہ و خارجہ وزارتیں اور انٹیلی جینس ڈھانچہ اگرچہ بلوچستان، افغانستان اور کشمیر وغیرہ کی بدامنی میں ایک دوسرے کو ہاتھ حسبِ ضرورت دکھاتے تو رہتے ہیں لیکن ان موضوعات و تنازعات کی حیثیت اب علاقائی و سفارتی شطرنج، پراکسی رسہ کشی اور اس بابت سرکاری بیانات کی حیثیت عورتوں کے طعنوں سے زیادہ کچھ نہیں۔اب تو دونوں ممالک کی عسکری ریڈ بک بھی بدل چکی ہے۔بھارتی ریڈ بک میں سب سے بڑا خارجی خطرہ پاکستان کے بجائے چین اور سب سے بڑا اندرونی خطرہ مسلح نکسل تحریک ہے۔جب کہ پاکستان کی ریڈ بک میں بھارتی خطرے کا نمبر اب اندرونی دہشت گردی کے بعد آتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ دونوں طرف جو جنرل یا بیورو کریٹ دوطرفہ تعلقات کی بابت جتنا بھی سخت گیر عقاب رہا ہو ریٹائرمنٹ کے بعد اتنی ہی بڑی امن نواز فاختہ بن کر خود کو ایک پرامن جنوبی ایشیا کا وکیل ظاہر کرتا ہے۔اس ریٹائرانہ مصالحتی مشغلے کو اپنانے والے اس کام کو ٹریک ٹو ڈپلومیسی اور ان کے مخالفین اس عمل کو ٹریپ ٹو ڈپلومیسی سمجھتے ہیں۔

ایک اور تبدیلی یہ آئی ہے کہ ممبئی ، دلی ، چندی گڑھ اور کراچی ، لاہور و فیصل آباد کا سرمایہ دار جو چند برس پہلے تک اپنے اپنے ممالک کی سرکاری نظریاتی پالیسیوں سے سرتابی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا آج دھڑلے سے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کے فوائد پر لیکچر پلاتا ہے۔ کیونکہ اقتصادی تعلقات کی بحالی کی ضرورت پر دونوں ممالک کی تمام سرکردہ سیاسی قوتیں کم و بیش متفق ہیں۔

اس باہمی رام کتھا کے تناظر میں یہ حقیقت نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ بھلے سردمہری ہو یا گرم جوشی، پاکستان اور بھارت اگلے کئی عشروں تک ایک دوسرے کے نفسیاتی آسیب سے آزاد ہوتے نظر نہیں آتے۔جیسے باری کا بخار دن میں کم اور رات کو بڑھ جاتا ہے اسی طرح دونوں ممالک کے تعلقات بھی نفرت انگیز محبت کی شاہراہ پر آگے بڑھتے رہیں گے۔

مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بالغ نظری نہیں بڑھ رہی۔ سن نوے کے عشرے تک کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ سرحدی لکیر پر دونوں ممالک کی سول سوسائٹی چودہ اور پندرہ اگست کو مشترکہ چراغاں کر پائے گی یا کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان لولی لنگڑی ہی سہی تجارت شروع ہوجائے گی یا پھر کوئی بھارتی سیاستداں اور وہ بھی دائیں بازو کے ہندو توا نواز ایل کے ایڈوانی اور جسونت سنگھ جیسے قوم پرست محمد علی جناح کے سیاسی کردار کو ایک نئی اور مثبت روشنی میں جانچنے کی کوشش میں بی جے پی میں اپنی پارٹی رکنیت معطل کروا لیں گے یا پاکستانی مریض بہتر علاج کے لیے دلی، اندور اور بنگلور کا رخ کریں گے۔

اس وقت جب کہ نریندر مودی اپنے متنازعہ ماضی کے باوجود انتخابی دوڑ میں آگے آگے نظر آرہے ہیں کیا پاکستانیوں کو ان کی ممکنہ کامیابی پر کوئی پریشانی ہے ؟ شائد نہیں۔ بھارتی مسلمانوں یا سیکولر آوازوں کو مودی کے ممکنہ عروج پر جتنے تحفظات ہیں۔ پاکستان میں حکومت، سیاست اور میڈیا کی حد تک اس قدر تشویش نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ کچھ لوگ تو وہ ہیں جن کی نظر میں بھارت میں بھلے کانگریس رہے یا بی جے پی پاکستان کے بارے میں خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول وہی رہیں گے۔ یعنی نیم دوستانہ اور قدرے مخاصمانہ۔ بلکہ جب جب بھی دلی میں غیر کانگریسی حکومتیں آئی ہیں ان کے تعلقات پاکستان سے نسبتاً بہتر رہے ہیں۔ پانچ سالہ واجپائی دورِ حکومت میں جوہری دھماکوں ، کرگل جنگ اور بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے باوجود دو طرفہ تعلقات میں جو بھی لولی لنگڑی پیش رفت ہوئی اتنی من موہن سنگھ کے دس سالہ دور میں بھی نہ ہوسکی۔

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کے شہری علاقوں میں بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار پر خاصا درد اٹھتا تھا اور یہی کیفیت دلی، لکھنؤ اور حیدرآباد کے مسلمان محلوں میں بھی پاکستان کے لیے ہوا کرتی تھی لیکن سن اکہتر کے بعد سے یہ جذباتی بندھن ویسا نہیں رہا۔ بدلے حالات میں بھارتی اور پاکستانی مسلمانوں کی نظریاتی و جذباتی شناخت کی تلاش کا محور بھی رفتہ رفتہ بدلتا چلا گیا۔ آج کے پاکستانی مسلمانوں کے لیے تاج محل اور لال قلعے کی یادوں سے زیادہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اہم ہیں اور بھارتی مسلمان اب مسلم پاکستان کے نظریاتی رومانس کے مرحلے سے نکل کر باہر دیکھنے کے بجائے دل کے مقابلے میں دماغ سے ووٹ دینا سیکھ گیا ہے۔ (البتہ بھارت اور پاکستان کے کرکٹ میچ کی بات اور ہے اور اس مخاصمت میں بھی ایک خاص طرح کا مزہ ہے)۔

بھارتی انتخابی نتائج کیا آتے ہیں ؟ اس سے ایک عام پاکستانی کی عدم دلچسپی یوں بھی ہے کہ اس وقت تو خود اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔اس کا بھارت میں ہندو توا کی لہر آنے نہ آنے سے زیادہ دھیان اس میں ہے کہ پاکستان کے اندرونی نظریاتی و قومیتی نقشے کا اونٹ اگلے برس افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد کس کروٹ بیٹھنے والا ہے۔ ویسے بھی جو ملک خود مذہبی و قوم پرستانہ شدت پسندی کی لپیٹ میں ہو وہ ہمسایوں کے ہاں بڑھتی شدت پسندی میں آخر کتنے کیڑے نکالے گا۔شائد اسی لیے مودی کی انتخابی سیاست کچھ مقامی انگریزی دانشوروں اور چند اردو لکھاریوں کی حد تک تو ضرور پاکستان میں ایک موضوع ہے لیکن عام آدمی کے لیے مودی کوئی ایسا خاص معاملہ نہیں۔ بلکہ افغان صدارتی انتخابات کے نتائج میں اس کی دلچسپی نسبتاً زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

پھر بھی اگر نریندر مودی انتخابی بھاشنوں میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجری وال یا وزیرِ دفاع اے کے انتونی سمیت کسی کو بھی پاکستانی ایجنٹ کہہ کر خوش ہوتے ہیں تو بھلے ہوتے رہیں۔

بشکریہ روزنامہ ' ایکسپریس '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.