.

یوکرائن بحران : حقیقت سے صرف نظر

ڈاکٹر ملیحہ لودھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرائن کے بحران نے صدر بارک اوباما کے ناقدین کو ایک بار پھر موقع فراہم کیا ہے کہ وہ روسی صدر پیوٹن کو پسپا ہونے پر مجبور کرنے کے لئے امریکہ کی جانب سے فوجی قوت کے استعمال سے گریز اور اس مسئلے پر قیادت میں ناکامی کے الزامات عائد کر سکیں۔ ایک بدلے ہوئے عالمی ماحول میں جہاں کوئی بھی ریاست تنہا، مرضی کے نتائج حاصل نہیں کر سکتی یا طاقت کے غالب استعمال سے کسی قوم پر قبضہ نہیں کر سکتی، یہ تنقید امریکی طاقت کی وسعت کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنے کی عکاس ہے۔

امریکی صدر اوباما پر راست اقدام میں ناکامی کے نقادوں میں امریکہ کے قدامت پسند اور لبرل دانشور دونوں شامل ہیں۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ پہلا، ولادی میر پیوتن کی جانب سے کریمیا کو ضم کرنے پر ردعمل، اخلاقی اہمیت رکھتا ہے۔ اس اخلاقی ناراضی کا اظہار ان افراد کی جانب سے کیا جا رہا ہے جنہوں نے عراق میں امریکی جارحیت کی بھرپور حمایت کی تھی۔ اخلاقی جواز کی صدا لگانے والے یہ ناقدین تنہا نہیں ہیں۔ کئی مغربی رہنمائوں نے مختلف انداز سے صدر پیوٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے مثلاً امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا ’’آپ بہانے تراش کر کسی ملک پر حملہ کر کے انیسویں صدی کے انداز و اطوار نہیں اپنا سکتے‘‘۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ یہ مؤقف مغرب کے دہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے اور ایک ایسے ملک کے وزیر خارجہ یہ بات کر رہے ہیں جس نے ناپید وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی بنیاد پر عراق میں غیر قانونی فوجی کارروائی کی تھی۔

بعض قدامت پسند امریکی تجزیہ کاروں نے اوباما انتظامیہ اور جمی کارٹر کی صدارت کے درمیان تقابل بھی کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے ایک کالم نگار نے لکھا ہے کہ جمی کارٹر کی طرح اوباما کی کمزوری کے باعث امریکہ کو اپنے دشمنوں اور قریبی دوستوں کی تنقید کا سامنا ہے۔ ’اوباما کا غیر یقینی نقارہ‘ کے عنوان سے ادارئیے میں جرنل نے اوباما میں قیادت کے فقدان اور یوکرائن پر ایک متحرک حکمت عملی کی عدم موجودگی کا الزام عائد کیا ہے۔ اخبار نے ان پر معمولی پابندیاں لگانے، جذباتی درخواستیں کرنے اور سفارتی سرزنش تک محدود رہنے کے الزامات عائد کئے لیکن کوئی متبادل لائحہ عمل تجویز نہیں کیا۔نو قدامت پسند امریکی جریدہ ویکلی اسٹینڈرڈ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے ادارئیے میں لکھتا ہے کہ اوباما کی خارجہ پالیسی میں عزم اور قوت کی کمی ہے۔ جریدے نے ان پر ایک ایسے عالمی نظام پر یقین نہ رکھنے کا الزام عائد کیا ہے جس میں قیادت امریکہ کے ہاتھوں میں ہو۔ اس کے مطابق اوباما جو پیغام دنیا کو بھیج رہے تھے وہ یہ تھا ’کبھی یہاں ایک سپرپاور رہتی تھی۔ کمزوری دکھانے والا صدر کبھی امریکہ کو مضبوط نہیں کر سکتا‘۔

عالمی معاملات میں امریکہ کی کمزور ہوتی گرفت کے متعلق قدامت پسند حلقوں میں 2012ء کے ناکام صدارتی امیدوار میٹ رومنی بھی شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اوباما پر ’بروقت‘ کارروائی میں ناکامی اور بین الاقوامی امور میں ’غفلت‘ برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اب امریکہ کے پاس کریمیا سے لے کر شمالی کوریا، شام سے لے کر مصر اور عراق سے لے کر افغانستان تک ’بہت کم اچھے آپشنز‘ بچے ہیں۔ اس تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو فوجی کارروائی کی دھمکی دینی چاہئے تھی یا اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا لیکن دیگر مبصرین اس سے بھی زیادہ بلند بانگ مطالبے کر رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی جریدے میں لیس لی گلب نے یوکرائن میں طاقت کے استعمال کو مسترد کرنے پر اوباما کی سرزنش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر جارحیت پسندوں کو علامتی تنبیہ کرنے یا یوکرائن کے مزید علاقوں پر قبضے سے پیوٹن کو روکنے کے لئے ’سفارتی اور اقتصادی طمانچے کافی نہیں ہیں‘۔

سفارت کاری اس وقت تک کسی کام کی نہیں ہوتی جب تک اسے فوجی طاقت کی حمایت حاصل نہ ہو۔ گیلب نے امریکی حکمت عملی کو ایک مضبوط ’فوجی سمت‘ دینے کی حمایت کرتے ہوئے پیٹریاٹ میزائل نصب کرنے، فضائی طاقت کو متحرک کرنے اور یوکرائن کے باشندوں کو حملہ آور روسی افواج کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے کے لئے تیار کرنے کی تجاویز دی ہیں۔ دیگر ناقدین بھی پیچھے نہیں رہے اور کہتے ہیں کہ صدر اوباما کی جانب سے شام پر بمباری سے انکار کے نتیجے میں امریکہ کے دشمنوں کو شہ ملی اور پیوٹن کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ وہ کریمیا پر قبضہ کر لیں۔

امریکہ کی جانب سے ایک دہائی تک انتہائی درجے کی مداخلت اور افغانستان اور عراق میں دو طویل اور تباہ کن جنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجی طاقت استعمال کرنے کی تجاویز حیران کن اور غیر حقیقت پسندانہ معلوم ہوتی ہیں۔ فوجی کارروائیوں نے نہ صرف امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ طاقت کے فوری استعمال کو بھی مشکل بنا دیا ہے کیونکہ ایسی فوجی مداخلتیں بڑی حد تک اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی ہیں اور اسی لئے انہیں اندرون ملک شدید عوامی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تجربے کو نظرانداز کرنے اور لیبیا میں محدود مداخلت اور مزید فوجی کارروائیوں کا مطلب ہے فوجی قوت کی وسعت سے آنکھیں پھیر لینا۔ اس لائحہ عمل کا مشورہ دینے والے ناقدین کو جنگ اور بیرون ممالک میں مزید افواج بھیجنے سے بیزار مغربی عوام کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جو لوگ صدر اوباما میں قیادت کے فقدان کو عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ میں کمی سے منسوب کرتے ہیں، لگتا ہے کہ وہ ایک بنیادی نکتہ فراموش کر دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ دنیا کئی حوالوں سے خاصی بدل چکی ہے اور امریکہ کا واحد سپر پاور ہونا تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ عالمی طاقت کی نئی تقسیم اس صدی کی سب سے نتیجہ خیز پیشرفت ہے۔ بعض نے اسے جی زیرو دنیا قرار دیا ہے جس میں کوئی بھی قوم اپنے یا دوسروں کے بل بوتے پر اتنی طاقت جمع نہیں کر سکتی کہ وہ کھیل کے قواعد متعین کرسکے یا پھر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لے۔طاقت کی تقسیم اور عالمی طاقت کی مغرب سے باقی دنیا کو منتقلی کے نتیجے میں ایک پیچیدہ عالمی منظر نامہ ابھر کر سامنے آتا ہے۔

نئے حالات میں کوئی بھی ملک کسی دوسرے پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا۔ اگرچہ امریکہ اب بھی دنیا کی ایک بالادست قوت ہے لیکن عدم مرکزیت پر مبنی عالمی نظام کو تقویت حاصل ہونے اور ملٹی پولر ازم کے نمودار ہونے سے اس کی طاقت کم ہوئی ہے۔ جیسا کہ صدر اوباما جانتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ کو دنیا کی دیگر اقوام کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر اتحاد تشکیل دینے ہوں گے۔ اسے نظرانداز کرنا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ وہ مبصرین جو اوباما کو طاقت کے بھرپور استعمال پر اکسا رہے ہیں وہ آج کی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیچیدہ تحرکات سے انکاری معلوم ہوتے ہیں۔ جب یہ مصنفین شکایت کرتے ہیں کہ ’سب ویسا نہیں جیسا ہوا کرتا تھا، تو وہ درست ہیں لیکن اس کے نتیجے میں اگلے منطقی مرحلے پر نہیں پہنچتے یعنی اس بات کو تسلیم کرنا کہ دنیا پر امریکہ بالادستی کے دور کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ان مبصرین میں سے بعض نے روس کے خلاف سخت کارروائی نہ کرنے میں ناکامی پر ’کمزوری‘ اور ’جمود‘ کا مظاہرہ کرنے پر امریکہ کے یورپی شراکت داروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس سے ایک بار پھر باہمی اقتصادی انحصار کے تحرک کو سمجھنے کے فقدان کا اظہار ہوتا ہے۔ چونکہ اہم یورپی اقوام روس کی توانائی پر انحصار کرتی ہیں یا وہ روس کے مقابلے میں کئی حوالوں سے اقتصادی لحاظ سے کمزور ہیں، اس لئے انہیں اپنے مفادات ترک کرنے یا مشکلات کا سامنا کرنے پر آمادہ کرنے کی توقع رکھنا مشکل ہے۔ ان یورپی اقوام کو اقتصادی ترجیحات کو متوازن رکھنا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ روسی اقدام کی صورت میں مغربی اتحاد کے اتفاق کو برقرار رکھا جا سکے۔ آخر میں، اس تبصرے میں کہیں بھی روس کیساتھ کریمیا کے دوبارہ اتحاد کے صدر پیوٹن کے اقدام میں مغربی طاقتوں کے کردار کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ مغرب کی جانب سے سوویت یونین کے انہدام کے بعد روس کے ساتھ روابط اور ہینڈلنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغرب ماسکو کے قانونی سیکورٹی مفادات کا تحفظ کرنے پر تیار نہیں۔ اسکے بجائے روس کی سرحدوں پر نیٹو کی مشرقی سمت میں توسیع اور امریکہ کی جانب سے یورپ میں میزائل شیلڈ کے منصوبے پر عملدرآمد کا مطلب روسی خدشات کو مسترد کرنا ہے۔

اس سے گھیرا تنگ کئے جانے کے روسی خدشات کو مزید تقویت حاصل ہوئی ہے۔ اس سے کریمیا کے خلاف روس کی کارروائی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسے پیچیدہ حالات میں ایک سیاہ و سفید پر مبنی طرز فکر اور اخلاقی جواز سے ہمیں حقیقت کو سمجھنے یا مسائل کو حل کرنے کی راہ متعین کرنے میں مدد نہیں مل سکتی۔ جو ناقدین صدر اوباما پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ کمزور صدر ہیں جس کے نتیجے میں امریکی طاقت کے بارے میں یہ عالمی رائے بن رہی ہے کہ وہ ختم ہو رہی ہے یا کمزور ہو چکی ہے۔ یہ وہ حدیں ہیں جو بدلی ہوئی دنیا نے امریکہ پر عائد کی ہیں اور جس نے اوباما کو اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مغربی اقوام کو بھی ایک محتاط طرز فکر اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے یعنی ایسا طرز فکر جس میں یوکرائن پر ایک بڑے بحران سے بچنے کیلئے سفارت کاری پر انحصار کیا جائے۔

بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.